منااکھیلی- 6/اگست (عبدالقدیر لشکری): چٹگوپہ تعلقہ کے تاڑماڑگی دیہات میں سرکاری اردو تعلیم کا نظام حکومتی عدم توجہی اور مقامی سیاسی نمائندوں کی بے حسی کے باعث شدید بحران کا شکار ہے دیہات میں برسوں پہلے گورنمینٹ اردو ہائی اسکول منظور تو کر دیا گیا لیکن آج تک اس کے لیے آزادانہ عمارت (بلڈنگ) تعمیر نہیں کی جا سکی۔ نتیجہ کے طور پر، ہائی اسکول کے طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے شدید ترین دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہائی اسکول کی کلاسیں مجبوری کے تحت گورنمنٹ اردو ہائیر پرائمری اسکول کی بلڈنگ میں چلائی جا رہی ہیں
باوثوق ذرائع اور اسکول کے اساتذہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، موجودہ پرائمری اسکول کی بلڈنگ میں صرف 2 دفتری کمرے اور محض 5 کلاس رومز دستیاب ہیں۔ ایک ہی وقت میں سینکڑوں بچوں کو ان چند کمروں میں بٹھانا اور اساتذہ کے لیے بیک وقت کلاسیں لینا ناممکن ہو چکا تھا۔ اس شدید اژدہام اور جگہ کی قلت کے باعث بچوں کی پڑھائی بری طرح متاثر ہو رہی تھی۔ اس تعلیمی نقصان کو بچانے کے لیے اسکول انتظامیہ نے مجبوراً شفٹ سسٹم نافذ کیا ہے، جس کے تحت گورنمنٹ اردو ہائی اسکول صبح 8:00 بجے سے دوپہر 1:30 بجے تک چلایا جا رہا ہے۔
گورنمنٹ اردو ہائیر پرائمری اسکول دوپہر 12:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک لگایا جا رہا ہے
اس  ٹائم ٹیبل کی وجہ سے چھوٹے بچوں اور دور دراز سے آنے والے طلبہ کو شدید دھوپ اور ناموافق اوقات میں اسکول آنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کی حاضری اور صحت دونوں متاثر ہو رہی ہیں۔
مقامی دانشوروں، سرپرستوں اور نوجوانوں نے ہمناباد اسمبلی حلقہ کے موجودہ ایم ایل اے، ایم ایل سی اور تاڑماڑگی دیہات کے مقامی سیاسی لیڈروں کے رویے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران تعلیم کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے قائدین کو اب ان غریب اور اقلیتی بچوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ برسوں سے یہ سنگین مسئلہ برقرار رہنے کے باوجود کسی بھی لیڈر نے اسمبلی میں آواز اٹھائی اور نہ ہی فنڈز کی منظوری کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کیا۔ مقامی لیڈروں کی یہ خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ بچوں کے مستقبل کے تئیں کتنے لاپرواہ ہیں۔
تاڑماڑگی کی عوام اور سرپرستوں نے ہمنااباد اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے، ایم ایل سی اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام (BEO اور DDPI) سے پرزور مطالبہ کیا ہے کے وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اگر فوری طور پر گورنمینٹ اردو ہائی اسکول کے لیے نئی بلڈنگ کی تعمیر کا آغاز نہیں کیا گیا تو مقامی عوام اور طلبہ محکمہ تعلیم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے