تحریر: حافظ صفی الرحمن فرقانوی

خادم مدرسہ رئیس العلوم پرسیا کرہیا گوشائیں ضلع سدھارتھ نگر، اتر پردیش

قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب سرچشمۂ ہدایت اور پوری انسانیت کے لیے ابدی دستورِ حیات ہے یہی وہ کتابِ مقدس ہے جس نے انسانیت کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم و عرفان ایمان و یقین عدل و انصاف تقویٰ و طہارت اور حسنِ اخلاق کی روشن شاہراہ پر گامزن کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ

 بے شک یہ قرآن اس راستے کی رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔ (سورةالإسراء9)

اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ نے قرآنِ کریم کی تعلیم و تعلم کی فضیلت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا

 خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ

 تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔ (صحیح بخاری 5027)

ان ربانی تعلیمات کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو ضلعی جمعیت اہلِ حدیث سدھارتھ نگر (اتر پردیش) کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا عظیم الشان انعامی مسابقۂ حفظِ قرآنِ کریم ایک نہایت مبارک دور اندیش اور لائقِ تحسین اقدام ہے ایسے مسابقے محض انعامات کے حصول کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ یہ نئی نسل کے دلوں میں محبتِ قرآن شوقِ حفظ صحیح تجوید، حسنِ تلاوت اور دینی شعور کی آبیاری کرتے ہیں یہی وہ بابرکت کوششیں ہیں جو معاشرے میں دینی بیداری اخلاقی اصلاح اور کتابِ الٰہی سے مضبوط وابستگی کی فضا قائم کرتی ہیں۔

آج جب کہ نوجوان نسل فکری انتشار اخلاقی انحراف اور بے شمار سماجی چیلنجز سے دوچار ہے ایسے حالات میں قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق ہی ان کی صحیح رہنمائی اور روشن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہے اس لیے اس نوعیت کے دینی و تعلیمی پروگرام وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں جو امت کے نونہالوں کو کتابِ الٰہی سے وابستہ کرنے ان کے ایمان کو تازگی بخشنے اور انہیں باعمل باکردار اور بااخلاق مسلمان بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

ضلعی جمعیت اہلِ حدیث سدھارتھ نگر کے تمام ذمہ داران علماءِ کرام ائمۂ مساجد، اساتذۂ کرام کارکنان معاونین اور اہلِ خیر اس عظیم دینی خدمت پر بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں ان کی مخلصانہ اور مسلسل کاوشیں اس حقیقت کی آئینہ دار ہیں کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے حفظِ قرآن کی حوصلہ افزائی کرنے اور نئی نسل کو دینِ اسلام سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ کرنے کے لیے ہمہ وقت سرگرمِ عمل ہیں بلاشبہ ان کی یہ خدمات صرف ضلع سدھارتھ نگر ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک روشن اور قابلِ تقلید مثال ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کا ہر فرد خصوصاً والدین اساتذہ اور اہلِ خیر ایسے مبارک پروگراموں کی دل کھول کر سرپرستی کریں اپنے بچوں کو حفظِ قرآن اور تجوید کی تعلیم کی طرف راغب کریں اور خدمتِ قرآن کو اپنی زندگی کی اہم ترجیحات میں شامل کریں۔ یقیناً وہ معاشرہ خوش نصیب ہوتا ہے جس کی نسلیں قرآن سے وابستہ ہوں جس کے نوجوان حافظِ قرآن ہوں اور جس کے گھروں میں کتابِ الٰہی کی تلاوت کی روح پرور صدائیں گونجتی ہوں۔

آخر میں ضلعی جمعیت اہلِ حدیث سدھارتھ نگر کے امیر مولانا محمد ابراہیم مدنی حفظہ اللہ اور فعال و متحرک ناظم مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی حفظہ اللہ کو اس عظیم الشان قرآنی خدمت اور اس مبارک مسابقے کے کامیاب انعقاد پر دلی ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں اللہ تعالیٰ ان حضرات کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے ان کی دعوتی تعلیمی اور تنظیمی خدمات میں روز افزوں برکت عطا فرمائے انہیں اخلاص و استقامت کے ساتھ مزید خدمتِ دین کی توفیق بخشےاور اس مبارک کوشش کو اشاعتِ قرآن سربلندیِ اسلام اور اصلاحِ امت کا مؤثر ذریعہ بنائےآمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے