افتخاراحمدقادری 

دہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں کا احتجاج محض ایک وقتی مظاہرہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ملک کے تعلیمی نظام، نوجوان نسل کے مستقبل اور حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی گہری بے چینی موجود تھی۔ جب طلبہ بڑی تعداد میں دارالحکومت کی سڑکوں پر اپنے مطالبات کے ساتھ جمع ہوئے تو اسے صرف ایک سیاسی احتجاج سمجھ کر نظر انداز کرنا شاید آسان تھا، لیکن جب دن بہ دن مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا، ملک کے مختلف حصوں سے نوجوانوں کی حمایت سامنے آنے لگی اور احتجاج ایک وسیع عوامی بحث کی شکل اختیار کرنے لگا تو حکومت اور اس کے حامیوں کے لیے بھی اس حقیقت سے آنکھیں چرانا ممکن نہ رہا کہ نوجوان نسل کے اندر پیدا ہونے والی بے چینی کو محض انتظامی طاقت یا ذرائع ابلاغ کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔
   حیرت انگیز بات یہ رہی کہ احتجاج شروع ہوتے ہی اصل مطالبات اور ان کے اسباب پر گفتگو کرنے کے بجائے احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ بعض ذرائع ابلاغ نے احتجاج کی اصل وجہ پر بحث کرنے کے بجائے مظاہرین کی نیت، ان کے سیاسی رجحانات اور ان کے کردار کو موضوع بنانے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر بھی ایسی آوازیں سامنے آئیں جن کا بنیادی مقصد یہ تاثر پیدا کرنا تھا کہ احتجاج کرنے والے نوجوان کسی جائز مسئلے کے لیے آواز بلند نہیں کر رہے بلکہ کسی سیاسی ایجنڈے کے تحت سڑکوں پر اترے ہیں۔ یہ طرز عمل ہمارے موجودہ سیاسی ماحول کی ایک افسوس ناک حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب نوجوان حکومت سے سوال کرتے ہیں تو سوال کا جواب دینے کے بجائے سوال کرنے والے ہی کو مشکوک بنانے کی کوشش شروع کردی جاتی ہے۔ یہ کوئی نئی حکمت عملی نہیں ہے۔ طاقت کے مراکز ہمیشہ سے یہ چاہتے رہے ہیں کہ عوامی احتجاج کو اس کے بنیادی مطالبات سے ہٹا کر احتجاج کرنے والوں کے کردار اور نیت کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ لیکن جمہوریت میں احتجاج جرم نہیں ہوتا، سوال کرنا بغاوت نہیں ہوتا اور حکومت کی پالیسی سے اختلاف ملک دشمنی نہیں کہلاتا۔ اگر ایک طالب علم اپنے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے، اگر ایک نوجوان تعلیمی نظام میں شفافیت کا مطالبہ کرتا ہے، اگر والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتے ہیں یا اگر کوئی شہری حکومت سے کسی فیصلے کی وضاحت طلب کرتا ہے تو ریاست کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اس آواز کو سنے، اس کے پس منظر کو سمجھے اور جہاں ضرورت ہو وہاں اصلاحی اقدامات کرے۔ جنتر منتر کا احتجاج بھی اسی جمہوری حق کے دائرے میں دیکھا جانا چاہیے تھا۔ نوجوانوں نے اپنی آواز بلند کی، حکومت پر دباؤ ڈالا، اپنی شکایات عوام کے سامنے رکھیں اور بالآخر وہ صورت حال پیدا ہوئی جس میں حکومت کو بھی احتجاج کے مطالبات اور اس کے اثرات کو سنجیدگی سے لینا پڑا۔ اگر حکومت نے احتجاج کے بعد مذاکرات کا راستہ اختیار کیا، اگر سرکاری نمائندوں نے احتجاجیوں سے بات چیت کی اور اگر یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ مظاہرین کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی تو یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات کو محض شور یا انتشار کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن اصل امتحان وعدہ کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ حکومت اور اس کی ایجنسیوں کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ احتجاج ختم کرانے کے لیے وقتی طور پر یقین دہانی کرا دی جائے بلکہ اس وعدے کی پاسداری بھی کی جائے۔ کسی بھی جمہوری حکومت کی ساکھ اس کے بیانات سے زیادہ اس کے عملی رویے سے بنتی ہے۔ اگر حکومت احتجاج ختم کرانے کے لیے ایک زبان استعمال کرے اور احتجاج ختم ہوتے ہی دوسری زبان اختیار کرلے تو اس سے صرف مظاہرین کا اعتماد ہی مجروح نہیں ہوتا بلکہ عام شہری کے دل میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ریاستی وعدوں کی حیثیت کیا ہے؟
     احتجاج کے بعد بعض ریاستوں میں طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات نے اسی تشویش کو مزید گہرا کیا ہے۔ بہار میں طلبہ کے خلاف کارروائی، مقدمات اور گرفتاریوں کی خبریں سامنے آئیں اور احتجاج کی حمایت کرنے والے سیاسی افراد کے خلاف بھی سخت اقدامات کی بات سامنے آئی۔ بعد ازاں احتجاج کے دوبارہ منظم ہونے کے خدشے اور پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر مقدمات واپس لینے اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کے اعلانات نے یہ سوال بھی کھڑا کیا کہ اگر آخرکار مقدمات واپس لینے ہی تھے تو ابتدا میں ان کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ ریاستی طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے، خصوصاً اس وقت جب معاملہ نوجوان طلبہ اور ان کے تعلیمی مستقبل سے متعلق ہو۔ آسام سے بھی ایسی کارروائیوں کی اطلاعات نے تشویش پیدا کی کہ احتجاج کے منصوبے سے وابستگی یا احتجاج کی تیاری کے الزام میں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ اگر کسی شخص نے حقیقتاً قانون شکنی کی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ضرور ہونی چاہیے، لیکن محض اختلاف رائے، احتجاج کی تیاری یا کسی جمہوری سرگرمی میں شرکت کے امکان کو جرم بنا دینا ایک خطرناک رجحان ہے۔ ریاستی طاقت اور شہری آزادی کے درمیان توازن قائم رکھنا ہر جمہوری حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ قانون کا مقصد شہری کو خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ قانون و نظم کو یقینی بنانا ہے۔
    بنگال میں بھی احتجاجیوں کے خلاف سخت کارروائیوں کی دھمکیوں کی خبریں سامنے آئیں۔ اگر کسی حکومت یا اس کے ذمہ دار نمائندے کی جانب سے یہ تاثر پیدا ہو کہ احتجاج کرنے والوں کو ایسی سزا دی جائے گی جسے ان کی نسلیں یاد رکھیں گی تو یہ الفاظ محض سیاسی بیان نہیں رہتے بلکہ ایک ایسے خوف کی بنیاد بن جاتے ہیں جو پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ نوجوان نسل کو دھمکی سے نہیں، دلیل سے جیتا جاتا ہے۔ طلبہ کو ڈنڈے سے خاموش کرایا جاسکتا ہے، مگر ان کے سوال ختم نہیں کیے جاسکتے۔ مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے، گرفتاری کی جاسکتی ہے، احتجاجی مقام خالی کرایا جاسکتا ہے، مگر اگر بنیادی مسئلہ حل نہ ہو تو بے چینی کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ سامنے آتی رہے گی۔ سب سے زیادہ تشویش دہلی کی صورت حال سے متعلق ان اطلاعات نے پیدا کی ہے جن کے مطابق احتجاج کے مقامات پر نصب کیمروں کے ذریعے مظاہرین کے چہروں کی شناخت اور نگرانی کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر واقعی ایسا کیا جارہا ہے تو اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ چہرے کی شناخت اور نگرانی جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اگر جرائم پیشہ افراد کی شناخت کے لیے کیا جاتا ہے تو اس کے اپنے قانونی اور اخلاقی تقاضے ہیں، لیکن یہی طریقہ اگر پرامن احتجاج میں شریک طلبہ، نوجوانوں اور رضاکاروں کی شناخت کرکے انہیں مستقبل میں ہراساں کرنے یا ان کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک سنگین سوال پیدا کرتا ہے۔ کیا حکومت اپنے ہی ملک کے نوجوانوں کو مجرموں کی فہرست میں شامل کرنے کی تیاری کر رہی ہے؟ کیا جنتر منتر پر جمع ہونے والا ہر نوجوان ریاست کے لیے ایک مشتبہ شخص بن گیا ہے؟ کیا احتجاج میں شریک ہونا کسی طالب علم کے مستقبل پر ایسا داغ لگا سکتا ہے جس کی بنیاد پر اسے بعد میں ملازمت، تعلیم یا کسی دوسری شہری سرگرمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب حکومت کو دینا چاہیے، کیونکہ نگرانی کا خوف جمہوری آزادی کے لیے خاموش مگر انتہائی خطرناک خطرہ بن سکتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی دہشت گرد، خطرناک مجرم یا سنگین جرم کے ملزم کی شناخت کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقوں اور پرامن سیاسی و سماجی احتجاج میں شریک نوجوانوں کی نگرانی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر ایک طالب علم اپنے مستقبل کے لیے سڑک پر کھڑا ہے تو اسے مجرم سمجھ کر اس کی شناخت محفوظ کرنا ریاستی حساسیت کے بجائے ریاستی عدم اعتماد کی علامت بن سکتا ہے۔ حکومت اگر اپنے ہی نوجوان شہریوں پر اعتماد نہیں کرے گی تو پھر وہ کس پر اعتماد کرے گی؟ طلبہ کسی بھی ملک کی محض موجودہ آبادی نہیں ہوتے، وہ اس ملک کا آنے والا کل ہوتے ہیں۔ آج یونیورسٹی کے دروازے پر کھڑا طالب علم کل کسی سرکاری ادارے میں ذمہ داری سنبھال سکتا ہے، کسی عدالت میں وکیل بن سکتا ہے، کسی اسپتال میں ڈاکٹر، کسی تعلیمی ادارے میں استاد، کسی صنعت میں ماہر یا کسی ادارے میں فیصلہ ساز بن سکتا ہے۔ یہی نوجوان ملک کی معیشت، سیاست، سائنس، تعلیم اور سماجی زندگی کو آگے لے کر جائیں گے۔ اگر انہی نوجوانوں کو اپنے جائز سوالات کے اظہار پر ریاستی خوف کا سامنا ہوگا تو اس کا نقصان صرف آج کے احتجاج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ حکومتوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ نوجوان نسل اب خاموش تماشائی نہیں رہی۔ معلومات کے ذرائع میں وسعت، سوشل میڈیا کی موجودگی اور دنیا بھر کے حالات سے فوری واقفیت نے نوجوانوں کے اندر سوال کرنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ وہ سرکاری بیان سنتے ہیں تو اس کا تقابل دوسرے ذرائع سے کرتے ہیں، وہ اعداد و شمار دیکھتے ہیں، وہ مختلف آراء پڑھتے ہیں اور پھر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی احتجاج کو صرف میڈیا مہم کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش زیادہ دیر تک کامیاب نہیں ہوسکتی۔
اسی لیے جن لوگوں نے طلبہ کے احتجاج کو بدنام کرنے کے لیے مختلف حربے اختیار کیے، انہیں بھی سوچنا چاہیے کہ نوجوانوں کے سوالات کا جواب کردار کشی سے نہیں دیا جاسکتا۔ اگر احتجاج میں کوئی غلطی تھی تو اس کی نشاندہی کی جاتی، اگر کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی تھی تو مخصوص افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی، لیکن پوری طلبہ برادری کو مشکوک قرار دینا یا احتجاج میں شریک ہر شخص کو سیاسی سازش کا حصہ سمجھ لینا کسی طور دانش مندی نہیں۔
یہاں میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ذرائع ابلاغ کا کام حکومت کے بیانیے کو دہرانا نہیں بلکہ عوامی سوالات کو حکومت تک پہنچانا بھی ہے۔ جب ہزاروں نوجوان سڑکوں پر ہوں تو سب سے پہلے یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، ان کے مطالبات کیا ہیں اور ان کے پیچھے کون سے مسائل موجود ہیں۔ اگر میڈیا احتجاج کے اصل مسئلے کو چھوڑ کر صرف یہ بحث شروع کردے کہ احتجاج کرنے والوں کے پیچھے کون ہے، انہیں کس نے بھیجا اور ان کا سیاسی تعلق کس جماعت سے ہے تو وہ صحافت کے بنیادی مقصد سے دور ہوجاتا ہے۔
   سوشل میڈیا انفلوئنسرس کے ذریعے کسی احتجاج کو بدنام کرنا وقتی طور پر رائے عامہ پر اثر ڈال سکتا ہے، لیکن اگر بنیادی مسئلہ حقیقی ہو تو اس کا حل پروپیگنڈا نہیں ہوتا۔ آج کا نوجوان صرف ٹیلی ویژن کی اسکرین نہیں دیکھتا۔ وہ اپنے موبائل فون پر مختلف ذرائع سے اطلاعات حاصل کرتا ہے۔ ایک طرف سرکاری بیان آتا ہے تو دوسری طرف احتجاج کرنے والے طلبہ اپنی بات خود عوام تک پہنچاتے ہیں۔ اس صورت حال میں جھوٹ یا مبالغے پر مبنی مہم زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔
حکومت کے لیے سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ طاقت کے بجائے مکالمے کو ترجیح دے۔ احتجاج ختم کرانے کے لیے کیے گئے وعدوں کو عملی شکل دی جائے، اگر مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تو اس کا احترام کیا جائے، جن رضاکاروں نے پرامن طریقے سے انتظامی امور میں مدد کی انہیں مجرموں کی طرح نہ دیکھا جائے اور جن طلبہ نے اپنے مستقبل سے متعلق سوال اٹھایا ہے ان کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک نہ کیا جائے۔ ریاست کی طاقت کا اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب اس کے سامنے کوئی کمزور ہو۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ریاست کے سامنے اس کے اپنے شہری سوال لے کر کھڑے ہوں۔ کیا حکومت انہیں کچلنے کی کوشش کرتی ہے یا ان کی بات سنتی ہے؟ کیا وہ خوف پیدا کرتی ہے یا اعتماد؟ کیا وہ نگرانی کا نظام بڑھاتی ہے یا مکالمے کے دروازے کھولتی ہے؟ یہی فیصلے کسی حکومت کے جمہوری مزاج کا تعین کرتے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ احتجاج کرنے والے تمام افراد کسی ایک سیاسی جماعت کے کارکن نہیں تھے۔ بہت سے نوجوان ایسے ہوسکتے ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ کسی نے اپنے بھائی یا بہن کے مستقبل کے لیے احتجاج کیا ہوگا، کسی نے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر میں آواز اٹھائی ہوگی، کسی نے اپنے دوستوں اور ساتھی طلبہ کی حمایت میں شرکت کی ہوگی اور کسی نے محض اس لیے احتجاج کیا ہوگا کہ وہ سمجھتا ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام میں شفافیت اور انصاف ضروری ہے۔ ان تمام لوگوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا انصاف نہیں۔
    اگر حکومت چاہتی ہے کہ ملک کے نوجوان اس پر اعتماد کریں تو اسے بھی نوجوانوں پر اعتماد کرنا ہوگا۔ اعتماد یک طرفہ عمل نہیں ہوتا۔ حکومت شہریوں سے قانون کی پابندی کا مطالبہ کرتی ہے تو شہری حکومت سے انصاف، شفافیت اور وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ حکومت اگر کہتی ہے کہ ملک قانون سے چلتا ہے تو اسے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ قانون کا اطلاق احتجاج کرنے والے نوجوان اور طاقتور سیاسی گروہوں دونوں پر یکساں ہوتا ہے۔ آج سب سے ضروری بات یہی ہے کہ طلبہ کے احتجاج کو ختم شدہ واقعہ سمجھ کر اس کے بعد خاموشی سے کارروائیوں کا سلسلہ شروع نہ کیا جائے۔ اگر احتجاج ختم ہوگیا ہے تو اسے ختم ہی رہنے دیا جائے۔ مظاہرین نے اگر اپنے مطالبات حکومت تک پہنچا دیے ہیں اور حکومت نے ان کے ساتھ بات چیت کرکے یقین دہانی کرائی ہے تو اب اس معاہدۂ اعتماد کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر وعدوں کے بعد بھی چہرے اسکین کیے جائیں، افراد کی شناخت کی جائے، رضاکاروں کو تلاش کیا جائے یا مظاہرین کو مقدمات اور گرفتاریوں کے خوف میں مبتلا رکھا جائے تو اس سے حکومت کے وعدے کی ساکھ متاثر ہوگی۔
یہاں حکومت کو ایک اور بات بھی سمجھنی چاہیے کہ نوجوانوں کو خوف زدہ کرکے خاموش کرانا کسی کامیابی کی علامت نہیں۔ خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی خوف کا نتیجہ بھی ہوتی ہے، اور خوف پر قائم معاشرہ دیرپا استحکام پیدا نہیں کرسکتا۔ مضبوط جمہوریت وہ ہوتی ہے جہاں حکومت کے خلاف نعرہ لگانے والا بھی خود کو محفوظ محسوس کرے، جہاں طالب علم سوال پوچھ سکے، جہاں نوجوان اپنی رائے دے سکے اور جہاں اختلاف رکھنے والے شہری کو دشمن نہ سمجھا جائے۔ ملک کی ترقی کا خواب صرف بڑے منصوبوں، بلند عمارتوں اور معاشی اعداد و شمار سے پورا نہیں ہوتا۔ ترقی کا اصل معیار یہ بھی ہے کہ ملک کا نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں کتنا مطمئن ہے، طالب علم اپنے تعلیمی نظام پر کتنا اعتماد کرتا ہے اور شہری ریاستی اداروں کو کتنا غیر جانب دار سمجھتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کے سوال کا جواب مقدمہ ہے، ان کے احتجاج کا جواب گرفتاری ہے اور ان کی شناخت کا جواب نگرانی ہے تو پھر ریاست اور نوجوان نسل کے درمیان وہ اعتماد کمزور ہوگا جو کسی بھی ملک کی تعمیر کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے یا انہیں اپنے مقابل کھڑا دیکھنا چاہتی ہے۔ ایک راستہ مکالمے، اصلاح، شفافیت اور اعتماد کی طرف جاتا ہے، دوسرا راستہ خوف، نگرانی، مقدمات اور تصادم کی طرف۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے وقتی خاموشی تو حاصل کی جاسکتی ہے لیکن دلوں میں اعتماد پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ اعتماد دلیل، انصاف اور وعدے کی پاسداری سے پیدا ہوتا ہے۔ جنتر منتر پر جمع ہونے والے نوجوانوں کو دشمن سمجھنا نہ صرف ان نوجوانوں کے ساتھ زیادتی ہوگی بلکہ ملک کے مستقبل کے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی۔ وہ اسی معاشرے کے بچے ہیں، اسی ملک کے شہری ہیں اور اسی ہندوستان کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنی زندگی کے بہترین سال تعلیم حاصل کرنے میں گزار رہے ہیں اور بہتر مستقبل کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگر انہوں نے اپنے مستقبل کے کسی مسئلے پر آواز بلند کی تو ان کی آواز کو جرم کے ترازو میں تولنے کے بجائے اسے اصلاح کے موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ دہلی سمیت ان تمام مقامات پر جہاں احتجاج کے حوالے سے نگرانی، گرفتاری یا مقدمات کا خدشہ پیدا ہوا ہے، حکومت شفاف موقف اختیار کرے۔ اگر کوئی قانونی کارروائی مطلوب ہے تو اس کی بنیاد، قانون اور شواہد عوام کے سامنے واضح کیے جائیں۔ اگر کسی کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہے تو محض احتجاج میں موجودگی کو اس کے خلاف مستقل نگرانی کا سبب نہ بنایا جائے۔ چہرے کی اسکیننگ اور شناخت کے ایسے طریقوں کے استعمال پر بھی واضح قانونی اور اخلاقی ضابطے ہونے چاہئیں تاکہ جدید ٹیکنالوجی شہری آزادیوں کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔ آج کے طلبہ کل کے ووٹر ہیں، کل کے استاد ہیں، کل کے سائنس داں ہیں، کل کے صحافی ہیں، کل کے افسر ہیں اور کل کے ذمہ دار شہری ہیں۔ ان کے دلوں میں حکومت اور ریاست کے بارے میں جو تصور آج قائم ہوگا، وہی مستقبل کی جمہوری ثقافت کو تشکیل دے گا۔ اگر آج انہیں یہ سبق دیا جائے گا کہ سوال کرنا خطرناک ہے، اختلاف کرنا قابل سزا ہے اور احتجاج کرنے والے کی شناخت محفوظ کرکے اسے بعد میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے تو کل یہی نسل جمہوریت کے بارے میں کیا سوچے گی؟ اس لیے حکومت کو اپنے ہی نوجوانوں کے ساتھ دشمنوں جیسا برتاؤ کرنے کے بجائے انہیں اپنا اثاثہ سمجھنا ہوگا۔ احتجاج کے دوران ہونے والی تلخیوں کو مزید تلخیوں میں تبدیل کرنے کے بجائے انہیں ختم کرنا ہوگا۔ جن وعدوں کے ذریعے بات چیت کا راستہ کھولا گیا تھا ان وعدوں کا احترام کرنا ہوگا۔ جو ایف آئی آر واپس لینے کا فیصلہ ہوا ہے اسے محض سیاسی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک درست اصلاحی قدم سمجھ کر آگے بڑھانا ہوگا۔ جو گرفتار ہوئے ہیں انہیں قانون کے مطابق انصاف دینا ہوگا اور جن پر کوئی جرم ثابت نہیں ان کے مستقبل کو کسی احتجاجی سرگرمی کے باعث داغ دار نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی رہتی ہیں، لیکن ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد ایک ایسی دولت ہے جسے تعمیر کرنے میں برسوں لگتے ہیں اور توڑنے میں چند فیصلے ہی کافی ہوتے ہیں۔ طلبہ کے معاملے میں یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ نوجوان نسل ریاست کے مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ اسے خوف نہیں، اعتماد چاہیے؛ دھمکی نہیں، مکالمہ چاہیے؛ نگرانی نہیں، رہنمائی چاہیے؛ انتقام نہیں، انصاف چاہیے۔ جنتر منتر کا احتجاج اگر حکومت کے لیے ایک سبق ہے تو وہ یہ ہے کہ نوجوان نسل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہزاروں نوجوان ایک مسئلے پر جمع ہوکر حکومت کو اپنی بات سننے پر مجبور کرسکتے ہیں تو اس حقیقت کو طاقت کے مظاہرے کے طور پر نہیں بلکہ جمہوری شعور کی علامت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس شعور کا احترام کرے، اس سے خوف زدہ نہ ہو۔ احتجاج ختم ہوگیا ہے تو اب انتقام کا نہیں اعتماد بحال کرنے کا وقت ہے۔ طلبہ کے چہروں کو مجرموں کی طرح اسکین کرنے کے بجائے ان کے چہروں پر موجود مستقبل کے خوابوں کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالنے کے بجائے ان ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں۔ ان کی آواز کو دبانے کے بجائے ان کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ جو نوجوان ملک کے بہتر مستقبل کے لیے سڑک پر آیا ہے اسے ملک کا دشمن قرار دینا خود اپنے مستقبل سے دشمنی کے مترادف ہوگا۔ حکومت کے لیے اب بھی موقع موجود ہے کہ وہ حالات کو مزید پیچیدہ ہونے سے پہلے اعتماد کا راستہ اختیار کرے۔ احتجاجیوں کے خلاف کسی بھی غیر ضروری کارروائی کو روکا جائے، نگرانی کے معاملات میں شفافیت اختیار کی جائے، وعدوں کی پاسداری کی جائے اور طلبہ و نوجوانوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ اختلاف رائے کی بنیاد پر انہیں ریاستی انتقام کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ جمہوریت کی خوب صورتی یہی ہے کہ حکومت اور شہری ایک دوسرے کے مخالف فریق نہیں بلکہ ایک ہی ملک کے شریک سفر ہوتے ہیں۔
اگر حکومت اپنے نوجوانوں کو اپنا سمجھے گی تو نوجوان بھی حکومت کی اصلاحی کوششوں میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اگر حکومت انہیں دشمن سمجھے گی تو فاصلے بڑھتے جائیں گے۔ آج ضرورت فاصلے بڑھانے کی نہیں، فاصلے ختم کرنے کی ہے۔ آج ضرورت خوف پھیلانے کی نہیں، اعتماد پیدا کرنے کی ہے۔ آج ضرورت احتجاجیوں کو مجرم بنانے کی نہیں، ان کے سوالات کو سمجھنے کی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جو وعدہ عوام کے سامنے کیا گیا ہے، اس کا احترام کیا جائے۔
کیونکہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، جمہوریت اختلاف کو برداشت کرنے کا نام بھی ہے۔ جمہوریت صرف حکومت بنانے کا حق نہیں، حکومت سے سوال کرنے کا حق بھی ہے۔ جمہوریت صرف اقتدار کی طاقت نہیں، شہری آزادیوں کا تحفظ بھی ہے اور جمہوریت میں طلبہ اگر اپنے مستقبل کے لیے آواز بلند کریں تو ان کے چہروں پر نگرانی کی نظریں نہیں بلکہ ان کے مطالبات پر حکومت کی توجہ ہونی چاہیے۔ ملک کے نوجوانوں کو دشمن سمجھ کر نہیں، ملک کا سرمایہ سمجھ کر آگے بڑھانا ہوگا۔ یہی ریاست کے وقار کا تقاضا ہے، یہی جمہوری اقدار کی روح ہے اور یہی ایک روشن، مضبوط اور پُرامن ہندوستان کے مستقبل کی ضمانت بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے