چٹگوپہ۔ 13؍ستمبر (محمدعبدالقدیر لشکری): مجوزہ وقف بل2024 کے خلاف آج SDPIہمناآباد یونٹ نے ہمناآباد کی تحصیلدار انجم تبسم کے توسط سے ایک میمورنڈم JPCچیرمین اور اراکین کو نئی دہلی روانہ کیا۔ جس میں کہاہے کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ مسلم طبقہ سے وقف سسٹم کوچھین لے جیساکہ اس نے 2019کے مینی فیسٹو میں لکھ رکھاہے۔ بی جے پی نے غلط پروپگنڈا وقف جائیدادوں کے خلاف کررکھاہے کہ یہ سیکولر اقدار کے خلاف ہے۔ یہ عام اصول اور اراضی قانون کو توڑنے والا وقف بل ہے۔ اس مجوزہ بل کے ذریعہ وقف کوخودساختہ اکثریتی مہم کے ذریعہ کمزور کرنا مقصود ہے۔

یادداشت میں آگے مطالبہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ وقف بورڈ میں بحیثیت ممبر کسی ہندوکو متعین کرنا سیدھے سیدھے ایک دوسرے کے درمیان امیتاز برتنا ہے۔ مسلمانوں کودوسرے درجہ کا شہری بنانا ہے ۔ اس سے غیرمساواتی نظام کوبڑھوتری مل سکتی ہے۔ ہماری JPC سے گذارش ہے کہ وہ معاشرے اور ملک کے حق میں اس بل کومفید بنائیں۔ اور مذکورہ امتیازات اور خدشات وخطرناک امکانات سے بچیں ۔اس یادداشت پر جناب توحیدقادری کی دستخط نظر آئی۔ شیخ مقصود ضلع صدر SDPI، سیداکبر اور محمد آصف اقبال کے علاوہ دیگر نوجوان موجودتھے۔

میمورنڈم دینے سے قبل ایس ڈی پی آئی کے نوجوانوں نے جوپلے کارڈ اٹھارکھے تھے ان پر مختلف نعرے درج تھے جیسے وقف پراپرٹی، اللہ کی پراپرٹی ہے۔ وقف پر حملہ دستور پر حملہ ۔ بندکروبندکرو۔ سرکار کی نیت ٹھیک نہیں ٹھیک نہیں۔ پلے کارڈ کنڑااوررومن انگریزی میں تھے۔ جب کہ بیانرانگریزی اور کنڑی میں تھا۔ اردوندارد تھی۔ ایس ڈی پی آئی نام تک اردو میں لکھاہوانظر نہیں آیا۔نوجوانوں نے اپنے گلے میں SDPIکے رومال ڈال رکھے تھے۔ ان ہی نوجوانوں کی کافی بڑی تعداد نے نماز جمعہ سے قبل تحصیلدار کو میمورنڈم پیش کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے