از قلم: ذکی اختر شیوہری

متعلم: جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن 

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی

 

ہم اگر وجہ تخلیق کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ در حقیقت آپ ہی کی ذات معلم کامل ہیں۔وہ ذات جس نے ہمیں آداب زندگی سے واقف کرایا اور بتلایا کہ والدین کا حق اسکی اولاد کی تربیت کے لئے کس درجہ کا ہے جسکی مثال خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تربیت ایسی کی کہ وہ جنت کی عورتوں کی سردار بنیں۔

قارئین! انسانوں کی تربیت کرنا ایک مشکل ترین کام ہے پھر بھی اللہ کے نبی نے ایسی تربیت کی کہ وہ یافتہ افراد دوسروں کے لیے مشعل راہ بن گئے جسکے بعد نبی کریم نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی اتباع کرو گے کامیاب ہو جاؤ گے‘‘۔

خیال رہے کہ نبی کریم نے اپنے اصحاب کو تعلیم و تربیت کے لیے مختلف انداز اختیار کرتے تھے اور اپنی بات کو موثر و ذہن نشین کرانے کے لیے مثالوں سے بھی کام لیا کرتے تھے۔ مثالیں بھی آپ ایسی دیا کرتے تھے جو عام طور پر لوگوں کے مشاہدہ میں رہتی تھیں جیسے ایک مومن کا دوسرے مومن سے تعلق کیسا ہونا چاہیے اس کو سمجھانے کے لیے آئینہ کی مثال دی۔ فرمایا: ’مومن، مومن کا آئینہ ہے‘‘ آئینہ صرف وہی بتاتا ہے جو دیکھتا ہے۔ اپنے طرف سے کسی قسم کی کمی و بیشی نہیں کرتا۔ ایک مومن کی خوشی و غم کو دوسرے مومن کے چہرے پر پڑھا جانا چاہیے۔ اگر ایک مسلمان بھائی کے چہرہ پر غم و رنج کے آثار ہوں تو دوسرا بھائی اس غم میں شریک نظر آنا چاہیے۔ اس کے چہرہ سے بھی رنج و غم چھلکنا چاہیے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں رہا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راہنمائی نہ دی ہو زندگی کے ایک ایک شعبہ میں انکی راہنمائی ایسی ہے گویا کہ وہ کھلی کتاب نظر آرہی ہے۔ اگر آپ شعبہ سیاست پر نظر ڈالیں تو آپکو مشاہدہ ہوگا کہ خود سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پاکیزہ سیاست کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاکیزہ سیاست کی تربیت ایسے جلیل القدر صحابی کو دی جسکی حکومت سے رہتی دنیاانصاف کا سبق حاصل کریگی اور ایسی تربیت دی کہ جن کا نام ہی عدل و انصاف کیلئے جانا جاتا ہے جن کو دنیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نام سے یاد کرتی ہے

۔۔۔اور جب ہم نظر ڈالیں بحیثیت ساتھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی کی مثال ایسی ہے کہ آپ غار حرا کے پس منظر کو یاد کیجیے جس کی صداقت کو قرآن بیان کرتا ہے اور اس ساتھی کو دنیا آج حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام سے یاد کرتی ہے اور اگر آپ نظر ڈالیں بحیثیت مخدوم تو انکی خدمت میں رہنے والے کی زندگی کو اٹھا کر دیکھیں کہ کس درجہ کی انہوں نے تربیت پائی کہ صبح قیامت تک نہ ویسے خادم آئنگے نہ مخدوم جن کو لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے نام سے یاد کرتے ہیں

۔۔۔لہذا ہمیں ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اپنے معلم کامل سرور کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات گرامی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی روز مرہ کی زندگی کو گزارنے کی کوشش کریں اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنا راہنما بنا کر زندگی گزاریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے