محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک ۔
۱۔ بوجھ لوگ 
سب ایک دوسرے پر بوجھ تھے ۔ لہٰذادنیااور آخرت کے درمیان ڈالا گیا اجتماعیت کاجھولا اب یاتب نیچے آنے والاتھا۔جہاں دیدہ مخلصین دعاگو تھے کہ یہ اجتماعیت باقی رہے تاکہ دین کاکام ہوتارہے اورآخرت کیلئے شروع کیاگیا اجتماعی سفر کامیاب ہوجائے ۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے ۔ اجتماعیت کا جھولا ٹوٹ کر زمین پرآتاہے یا پھر سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہ کر آخرت تک کاسفر تمام نسلوں کے لئے کامیابی کاضامن بن جاتاہے۔ آپ اس جھولے میںکہیں نہ کہیں ضرور ہوں گے ؟
۲۔ راہِ عشق 
اس کے پاس طاقت ہے ۔ اور وہ زہر کے بیج بوکر توڑ رہاہے تاکہ اللہ کے ماننے والوں کوتنہاکرسکے ۔ اُدھر آسمانوںمیں منصوبہ ہے کہ آپس میں جڑنے کیلئے بندوں کو آسانی فراہم کی جائے۔کشمکش جاری ہے۔ توڑے جانے اورجڑجانے کی یہ کشمکش میں کامیاب ہونا آسان نہیںہے۔
اوریوں بھی ہمارے عربی کے استاد کہاکرتے ہیں ’’ دنیاآسانی کی جگہ ہوتی تو سب کچھ آسانی سے ہوجاتااور آخرت آسانی سے مل جاتی ، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ آخرت کے حصول کے لئے بہت محنت کرنی پڑتی ہے تب کہیں جاکر رب راضی ہوتاہے ‘‘لیکن میراخیال ہے کہ جو رب کے راستے پر چلتاہے وہ راستہ اس کے لئے راہ ِ عشق بن جاتاہے اور راہِ عشق پر نصیب والے چلتے ہیں۔
۳۔ اچھا افسانچہ 
وہ جس افسانچے کے بارے میں اچھاسوچتاہے ، وہی افسانہ دراصل کامیاب ہوتاہے۔ کیوں کہ اس کے اندازوں سے آگے اس کے قارئین نہیں جاسکتے۔
 ۴۔ آج 
سمجھ رہے ہوکہ نہیں ؟کل سے وہی ہے، تو، کل بھی وہی رہے گا۔ آج میں رہ کر ہمارااودھم مچانا ٹھیک نہیں۔ جو کل تھااور کل رہے گااسی کے نام اس’ آج‘کو کردینے میںہی ہم سب کی بھلائی ہے۔
حکم نہیں دے رہاہوں ، مجھ گناہگار کا یہ نیک مشورہ ہے ۔ آگے تمہاری مرضی
۵۔ عمر بھر کی اکڑ
جھکے رہنا اس کونہیں آتاتھا۔ اکڑکر رہنا سیکھ رکھاتھا۔ جب مراتو تین دن تک سردیوں میں اس کی نعش اکڑی رہی۔تین دن بعد لوگوں نے اس کی نعش کوڈھونڈ نکالا توعبرت حاصل کئے بغیر نہیں رہے کہ عمر بھر کی اکٹر موت کے بعد اچھی نہیں لگ رہی تھی۔
۶۔ خفگی معلوم نہ ہو
وہ چاہتاتھاکہ سب کچھ ٹھیک رہے لیکن ٹھیک رہنے سے زیادہ حالات خراب ہوتے رہے۔آخر کار اُس نے مان لیاکہ اس کی قسمت میں دنیا نہیں ہے ۔ پھر وہ خوش رہنے کی کوشش کرنے لگاتاکہ اس کے دشمن کوپتہ نہ لگ سکے کہ وہ اس دنیا سے بہت زیادہ خفایا ناراض ہے۔
۷۔ چڑیا اُڑ گئی
اس میں کشش کچھ نہیں تھی۔ سیدھی سادی ساڑھی پہن کر اور گول بندی لگاکر اسکول آیاکرتی تھی۔ سانولی سی تھی۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ اس کو اس کے شوہر نے چھوڑ رکھاتھا۔ تبادلہ ہوکر جب اسکول پہنچی تو چار مرد استاداس کی طرف پوری طرح جھک گئے۔
چھ ماہ کے اندر اندر اس نے ڈیپٹیشن پر وہاں سے اپناتبادلہ کرالیا۔ چاروں مرداستادوں نے کہا’’یار ، چڑیااُڑگئی ‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے