- چھت پر پانی رکھی پلاسٹک کی ٹنکی کا ڈھکن بھی ٹوٹا، جس سے بارش کا پانی بھی ٹنکی جاتا ہے۔
- اسی ٹنکی کے پانی کو تین اسکول کے طلبہ صفائی کے علاوہ پینے کے لئے بھی کرتے ہیں استعمال
- اسکول میں نہیں لگائی گئی ہے کوئی فلٹر مشین، بغیر فلٹر کئے پانی کا پینا بھی ایک مسئلہ ہے۔
چٹگوپہ۔ 21؍ستمبر (عبدالقدیر لشکری): بگدل کے اندرانگر کے احاطے میں واقع تین سرکاری( کنڑی، اردو اور مولانا آزاد انگریزی میڈیم) اسکول میں طلبہ وطالبات پینے کا صاف پانی نہیں مل رہاہے۔ گاؤں والوں نے جب اس کی شکایت کی تو ہم نے اسکول کادورہ کیا۔ دیکھا کہ چھت پر پانی کے لئے پلاسٹک کی جوٹنکی ہے، اس کا ڈھکن ایک جانب سے تھوڑا سا ٹوٹا ہواہے جس کی وجہ سے بارش کا پانی ٹنکی میں چلا جاتا ہے۔ اسی ٹنکی کے پانی کو تینوں اسکول کے طلبہ صفائی کے علاوہ پینے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہاں اسکول میں فلٹر مشین نہیں لگائی گئی ہے۔ بغیر فلٹر کئے پانی پینا ایک مسئلہ ہے ۔
یہ بات کنڑی اسکول کے صدرمعلم جناب مڑیپا سوامی نے بتائی۔ اور کہا کہ کل کوکچھ ہوگیا، تو ان بچوں کے ذمہ دار تو ہم ہی ہوں گے نا۔ ہم نے گرام پنچایت سے بھی اپیل کی تھی کہ اسکول میں پانی فلٹر کرنے کی مشین لگائی جائے لیکن ایسا ابھی تک نہیں کیا گیا۔ اردو اسکول کی انچارج صدرمعلمہ محترمہ نوشاد بیگم نے بھی اسکول کی تکالیف بیان کیں۔ مولانا آزاد اسکول والوں سے ان کی مصروفیت کی وجہ سے بات چیت نہیں ہوسکی۔
مجموعی طورپر ارباب مجاز کو اسکول کی طرف توجہ دینا ہوگا۔ محکمہ تعلیمات، گرام پنچایت پی ڈی او، ایس ڈی ایم سی اور بگدل کے سماجی کارکنان کو چاہیے کہ وہ طلبہ وطالبات کو مل جل کر پینے کا صاف پانی فراہم کریں۔ اس سے زیادہ کوئی اپیل ہماری نہیں ہے۔
