بیدر۔ 21؍ستمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): نبی کریم ﷺ پرایمان ہی سے ایک مسلمان کاایمان باقی ہے۔ اور حضور ﷺ سے محبت ایمان کاحصہ ہے۔ نبی کریم ﷺ سے ایمان کے تعلق کو ظاہر کرنے کے لئے میلادالنبی ﷺ کے موقع پر بہت سارے کام مسلمان انجام دیتے ہیں۔ جن میں کھانا کھلانا، مریضوں میں فروٹ تقسیم کرنا، خون کاعطیہ کیمپ لگانے کے علاوہ شہراور گاؤں کی شاہراہوں اور گلیوں میں برقی قمقمے لگانا اور پھرارے لگانا بھی شامل ہے۔ 12؍ربیع الاول کے دن بچے ، بڑے اور خواتین سبھی مل کر طرح طرح سے خوشی کااظہا رکرنے کی ایک روایت بھی ہے ۔ جس پر اختلاف کے باوجود اس روایت کے احترام کی مسرت آمیز روایت بھی امت مسلمہ کے مختلف طبقات میں جاری وساری ہے ۔ ملک کے حالات تناؤ سے بھرپور ہیں۔ اور بیدر میں 16؍ستمبر کو 12؍ربیع الاول کے موقع پر ریلی وغیرہ نکالی جاچکی ہے۔ 12؍ربیع الاول کے بعد یعنی 16کے بعد 19؍ستمبر کو گاوان چوک اور اس سے آگے لگائے گئے برقی قمقمے مین روڈ سے نکال لئے گئے۔ چوبارہ برقی قمقموں سے جگمگارہاتھا وہ بھی 19؍ستمبرکو خاموش ہوچکا۔ اب رہ گئی بات شہر کے مین روڈ اور چوبارہ تا نئی کمان لگائے گئے پھراروں کی ہے۔ مین روڈ پر سبز(ہرے) کپڑے کے پھرارے لگائے گئے ہیں، اسی طرح نئی کمان تا چوبارہ جگہ جگہ پلاسٹک کے چاند تارا والے پھرارے لگائے گئے ہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان پھراروں کونکالا جائے۔ جس قدرتاخیر سے پھرارے نکالے جائیں گے اسی قدرحالات پر نظربھی رکھناہوتاہے، کہیں کوئی فسادی شخص کچھ کرنہ بیٹھیں ۔ جیساکہ 19؍ستمبر کو بیدر ضلع کے ہمناآباد تعلقہ میں ایک شخص نے مسلمانوں کے خلاف سوشیل میڈیا پر غلط سلط الزامات لگاکر ویڈیو اپلوڈ کیاتھا جس کے خلاف پولیس نے اپنی جانب سے کیس درج کرتے ہوئے حالات کو بگڑنے سے بچالیا۔ دوسری بات جب کبھی غیرمسلم بھائی بھگوارنگ کے پھرارے لگائیں گے تووہ بھی تاخیر سے پھرارے نکالنے کامطالبہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے اور تب بھی حالات پر نظر رکھنا پڑے گا تاکہ آپسی تعلقات بہتررہیں اور غلط طاقتیں فائدہ نہ اٹھالیں۔ لہٰذا بیدر کے مسلم نوجوانوں ، مسلم قیادت اور سی ایم سی بیدر کو چاہئیے کہ وہ فوری طورپر ان پھراروں کونکالنے کاانتظام کرے۔ لیکن اگر اس کی میعاد پہلے سے طے کی گئی ہے کہ کتنے دِنوں تک یہ سبزرنگ کے پھرارے بیدر میں لگے رہیں گے، اس تعلق سے کمشنر بلدیہ بیدر کوئی پریس نوٹ جاری کریں۔ پریس نوٹ کے جاری کرنے سے لوگوں کوفائنل تاریخ مل جائے گی کہ یہ پھرارے فلاں تاریخ تک لگے رہیں گے۔

ہماراخیال یہ ہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں جو حالات ہیں اسے دیکھتے ہوئے بیدر کے مسلمان اچھا قدم اٹھائیں گے۔ اور کسی مسئلہ یاجھگڑے میں شامل نہ ہوتے ہوئے حالات کو پرامن رکھیں گے ۔ یہی تعلیم نبی کریم ﷺ کی ہے کہ زمین پر امن وامان رہنا چاہیے۔ تاکہ لوگ ایک مقام سے دوسرے مقام تک بغیر کسی خوف کے سفر کرسکیں ۔لوگ سفر کرنے میں بے خوف رہیں گے تو کاروبار میں بھی برکت ہوگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے