غزل

ستمبر 22, 2024

ثمینہ رحمت

یہ کرشمے اجل کے دیکھو تو
اس مصیبت سے ٹل کے دیکھو تو

بات کرتے ہو کیوں گئے کل کی
مسئلے اگلے کل کے دیکھو تو

کتنے لوگوں کو مل گیا پانی
فائدے ایک نل کے دیکھو تو

میں ذرا تم سے قد میں چھوٹی ہوں
تھوڑا نیچے بغل کے دیکھو تو

اس کی راہوں میں جل کے دیکھ لیا
میری آنکھوں میں جل کے دیکھو تو

تم نے بدلا ہے پوری دنیا کو
میری دنیا بدل کے دیکھو تو

کیسی ہوتی ہے عشق کی تہمت
منہ پہ کالک کو مل کے دیکھو تو

ہر نوالے سے زہر نکلے گا
میرے ٹکڑوں پہ پل کے دیکھو تو

سب تمھارے خلاف بولیں گے
حق کے رستے پہ چل کے دیکھو تو

ڈھلتے آئے ہو اس کے آنگن میں
میرے آنگن میں ڈھل کے دیکھو تو

کیسے اٹھتی ہے پاس سے دنیا
تھوڑا  پہلو بدل کے دیکھو تو

دل مچلتا ہے جن کھلونوں کو
ان سے اک دن  مچل کے دیکھو تو

میں لبھاتی ہوں کیسے دل تیرا
تھوڑا مجھ سے بہل کے دیکھو تو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے