محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔ شرمندہ نگاہی 
داستان گو کہہ رہاتھا’’اس کاموبائل کیاتھا، گناہوں کے انبار کی ایک فہرست ِ جلی تھا۔ فرشتے نے جب موبائل دیکھاتواپنا سرپکڑ کر بیٹھ گیا‘‘معاون داستان گو نے سنجیدگی سے پوچھا’’کیافرشتے سررکھتے ہیں؟ ‘‘
داستان گو مسکرایا اور بولا ’’ہاں ، کیوں نہیں ، وہ بھی سررکھتے ہیں ‘‘معاون داستان گودوم نے استفسار کیا ’’پھر کیاہوا؟‘‘شاید وہ کہانی میں حد سے زائد کھوگیاتھا۔ اپنے پراثر لہجے میں  داستان گوکہنے لگا ’’پھر کیاتھا، فرشتے نے موبائل خدا کے حضور پیش کردیا، یہ اس کے بس کی بات تو تھی نہیں، وہ مثبت منفی کا، سزاوجزا کا فیصلہ کس طرح کرسکتاتھا؟
اسٹیج پر یکایک خاموشی چھاگئی۔ اندھیرے کے درمیان تین دائرے تھے اور تینوں علیحدہ علیحدہ دائروں میں داستان گو نظر آرہے تھے۔ اچانک ہی اس اندھیرے سے داستان گو کی غمناک آواز آئی ۔
’’سنا ہے کہ اب روزانہ اس کی روح کے سامنے موبائل پیش کیاجاتاہے اور اس کی روح اس موبائل کو دیکھتے ہی شرمندہ ہوجاتی ہے ۔اس کی شرمندہ نگاہی رب ِکائنات کومطلوب ہے۔ فرشتوں کے ذریعہ اس پر یہی سزا مقرر کی گئی ہے کہ اس کوروزانہ ہی اس کاموبائل دکھایاجائے اور وہ شرمندہ نگاہوں سے روتے دھوتے چہرا نیچے کرلے اورگناہوں کے احساس سے تربترہوجائے ‘‘
۲۔ نطفۂ حرام 
سوشیل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم کوگائیڈ لائن دی گئی ہے کہ معاشرے کی ہر چیز کے خلاف بولنا ہے ۔ اتناہی نہیںمعاشرے کے خلاف بولنے والوں کواپنے پلیٹ فارم پرجگہ بھی دیناہے۔ فی الحال شادی کے خلاف بولاجارہاہے ، ویڈیوکلپ بنابناکر ڈالے جارہے ہیں۔ کل والدین کے خلاف طوفان اٹھے گا تو کوئی ایک حرامزادہ بھی اپنے والدین یامقام ِ والدین کی تائید میں سوشیل میڈیاپلیٹ فارم پر نہیں آئے گا۔ مطلب یہ ہے کہ والدین کے خلاف بولنے والوں کو سن کربھی جو خاموش رہے گاوہ بھی حرامزادہ ہی ہوگا۔ورنہ والدین کی حیثیت تمام طبقات اور مذاہب میں مسلمہ ہے۔
۳۔ استاد کی باتیں 
استاد کی باتیں حکمت بھری ہوتی ہیں۔ وہ بازار میں چنے خریدتے نظر آئے ۔ ہم نے ان سے پوچھا’’چنے کھانے سے ریح کے علاوہ سماج کو اور کچھ حاصل نہیں ہوتا‘‘
وہ بولے ’’گھوڑا چنا کھاتاہے اور جو کوئی انسان گھوڑا صفت ہوتاہے وہ بھی چنا ہی کھاتاہے ، تاکہ گھوڑے جیسی طاقت اس کو حاصل ہو‘‘ہم نے ان سے کہا’’گھوڑے جیسی طاقت کے لئے گھوڑ اکاٹ کر کھانا چاہیے ، چنانہیں‘‘ایک پل کے لئے استادبھی رک گئے۔ہماری بات پر غور کیا۔پھر قہقہہ لگاتے ہوئے بولے ’’تم صحیح کہہ رہے ہو،تم صحیح کہہ رہے ہو‘‘استاد کااقرار ہمیںکھلکھلانے پر مجبور کرگیا۔ بے آواز ہنسی جاری تھی۔
۴۔ ڈانڈیا اتسو 
شاداللہ خان صحافی تھا، اور فون پر چیخے جارہاتھاکہ ’’اماں، پتہ کروکہ تمہاری لاڈلی نصیحت جہاں کالج گئی ہے یاکالج میں ڈانڈیا کھیل رہی ہے ‘‘
اماں حیران ہوکر رہ گئیں ، انھوں نے صاف کہا’’شادل بیٹے ، وہ تو کالج گئی ہے ‘‘ شاداللہ خان بولا ’’نہیں اماں ، وہ کالج کی طرف سے ہی ڈانڈیا اتسو میں گئی ہوگی ۔ کیوں کہ دو کالج کی خاتون لیکچررس کے بارے میں شکایت آئی ہے کہ وہ مسلم لڑکیوں کوکالج کے دسہرہ پروگرام میں ڈانڈیا کھیلنے پر مجبور کررہی ہیں ۔ ورنہ انٹرنل مارکس نہیں دینے کی دھمکی دے رہی ہیں۔اس لئے اماں آپ فوری اس کو فون کرو، میں آپ کے فون کاانتظا رکررہاہوں، میں نصیحت جہاں کوفون کرنا اچھا نہیں سمجھ رہاہوں ‘‘
شاداللہ خان نے فون کٹ کردیااور اماں کے فون کاانتظار کرنے لگا۔ مسلم لڑکیوں کاڈانڈیا کھیلنے کی خبر اس کو جھنجوڑ دینے والی تھی۔ مسلم لڑکے گھس پیٹھ کرڈانڈیا کھیلتے ہیں ، انہیںماروپیٹو والی خبریں مختلف شہروں سے آرہی تھیں لیکن مسلم طالبات کو ڈانڈیا کھیلنے پر مجبور کرنا دراصل اس کے لئے اور مسلم معاشرے کے لئے ایک نیا چیلنج تھا۔
اتنے میں موبائل کی گھنٹی بجی ۔اس نے فون اٹھایا،تو اماں رورہی تھیں ۔وہ سمجھ گیاکہ کیا معاملہ ہواہے اور فوری نصیحت جہاں کے کالج کی طرف موٹربائیک دوڑانے لگا۔اس کادماغ ہوامیں اڑے جارہاتھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے