محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ ادبی Gems 
وہ ایک سینئر ناول نویس تھیں ۔ انھوں نے مجھے مشورہ دیاکہ
’’ناول لکھنے کے فوری بعد افسانچے ضرور لکھاکرو، بیلنس رہے گا۔ قلم کوآرام ملے گا ۔ اسی طرح ذہن بھی چھوٹے چھوٹے ادبی Gems کی گنتی سے بہلتارہے گا۔ یہ سچ ہے کہ طویل مسافت کے بعد ایک عدد دودھ کاگلاس آدمی کوہشاش بشاش کردیتاہے ‘‘
محترمہ کی بات ٹھیک ہی ہوگی لیکن میں سوچ رہاہوں کہ خود انھوں نے افسانچے کیوں نہیں لکھے ؟
۲۔ مادہ پرست اسلامی انقلاب 
گذشتہ 50سال میں دولاکھ افراداس دینی تنظیم کے بیانر تلے دینی کاز کو پوراکرنے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔ دولاکھ لائل ممبرس پر مشتمل اس تنظیم کا50؍ہزار کروڑ امریکن ڈالر فی سال جمع اور خرچ کا حساب کتاب تھا۔ چلر چلر جمع اور خرچ اِس سفید حساب کتاب سے ہٹ کر بھیتین سے گیارہ گنا تھا۔
10؍ہزار ذمہ داران کے لئے موٹی رقمیں ان کی خدمات کے صلہ کے طورپرہرماہ اداکر دی جاتی تھیں۔ سڑک اور ریلوے چھوڑ کرتنظیم کے ذمہ داران اب ہوائی راستے سفر کرنے لگے تھے۔ جس کاخرچ دینی تنظیم اٹھالیاکرتی ۔ اسی درمیان دینی تنظیم کے پیش نظر 50؍ہزار نئے نوجوانوں کی بھرتی رہی۔جس کے لئے کاروباری سیل قائم کیاگیا تاکہ ان 50؍ہزار نوجوانوں کوروزگاربھی ملے اور وہ دینی تنظیم کے لائل نوجوان بن کرتنظیم کے مختلف کام کے معاون بنے رہیں۔
دینی تنظیم چوں کہ مادہ پرستی کے نقطہ ء نظر سے اپنا فریضہ انجام دینے لگی تھی، اسلئے تنظیم کے جہاں دیدہ اور تنظیم دیدہ بزرگ شورمچانے لگے تھے۔ ان  شور مچانے والے بزرگوں کوبھی تنظیمی تحائف ، اورماہانہ وظائف کے ذریعہ رام کیاجانے لگا۔
جس وقت ضروری پیسہ ، رقم ،اور موقع ہے اسلئے مال لازماً بناناچاہیے ،جیسی باتوں کولے کر دینی تنظیمآگے بڑھنے لگی تو یہ خیال بھی سامنے آگیاکہ ملکی انتخابات ایک اچھا ایونٹ ہواکرتاہے ، اس لئے ملکی انتخاب پر اثرانداز ہوناچاہیے۔ ملک کے طول وعرض میں مختلف سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی گئی۔ آخرکار ملک کے شمال مشرق، جنوب مغرب اور وسط میں علیحدہ علیحدہ سیاسی جماعتوں کیلئے مہم چلائی گئی۔ اس مہم کے ذریعہ 200ہزارکروڑ چندا وصول ہونے کی امید تھی لیکن بجائے اس کے جیت کے بعد والے پانچ سال میں مختلف مراعات حاصل کرنے کامعاہدہ سیاسی جماعتوں سے کرلیاگیا۔
خواتین میںانتخابی مہم کو کامیابی سے چلانے کے لئے چہرہ کھلارکھنے والی یابے پردہ رہنے والی منہ پھٹ خواتین کی ضرورت بھی تھی جس کے لئے علیحدہ سے 2ہزار خواتین کوتنظیم میں شامل کرلیاگیاتھا۔ بہرحال کل ملاکر 50سال بعد اس دینی تنظیم کادیندارچہرامادہ پرستانہ چہرا ہونے سے بچ نہ سکا۔ دنیاپرست اور مادہ پرست دیندار وں کی وہ پسندیدہ تنظیم بن چکی تھی جبکہ حقیقی دیندار اس تنظیم کی طرف دیکھنا بھی گوارانہیں کرتے۔یہ بھی سچ ہے کہ اسی تنظیم کے کندھوں پرسوار ہوکر عنقریب اسلامی انقلاب آنے کی نوید بھی سنائی جانے لگی ہے۔
۳۔ بھلکڑ زندگانی 
شاید آپ نے محسوس کیاہوگاکہ بیماری میں مبتلا جب تک رہی وہ خدا کویاد کرتی رہی۔ پھر جب بھلی چنگی ہوگئی تو ہماری زندگانی خدا کو بھول گئی۔ایسی بھلکڑ زندگانی کے لئے بیماری یاایک نہ ایک مرض ضروری ہے۔ آپ کاکیاخیال ہے ؟
۴۔ بے دھیانی 
درد بڑھ چکاتھا۔ دواکے ساتھ ساتھ درودشریف کی ضرورت تھی تاکہ درد میں کمی واقع ہوسکے۔افسو س اس طرف دھیان نہیں جاسکا۔
۵۔ راون 
اس نے وعدہ کیاتھاکہ دسہرہ کی تعطیلات میں کوئی مشاعرہ ضرور منعقد کرے گا۔ پھر تعطیلات ختم ہوگئیں تو بات بھی چلی گئی۔اس کویاد دلایاگیاتو وہ بولا’’ اسی کوتعطیلات ختم بات ختم کہتے ہیں‘‘
مگر میرامسئلہ اس سے بھی گمبھیر ہے۔ اس نے کہاتھاکہ دسہرہ پر میسور لے جائے گا۔ ایسا وہ گزشتہ دس سال سے کہہ رہاہے۔ مگر ہر دسہرہ پروہ کہیں نہ کہیں مصروف رہتاہے اور میں اس کو معاف کردیاکرتی ہوں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے