محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر
۱۔ مشرک چاند
چاندشرک کرنے نکل گیاہے اور میں تنہا بیٹھارہ گیاہوں
۲۔ صحافی کی موت
وہ ایک معروف صحافی تھے اور آج طبعی موت مرچکے تھے۔
چند مخصوص افراد نے ان کاآخری دیدار کیااور دِل ہی دِل میں سوچا’’سوائے اپنی جماعت اور اپنی پسند کے اداروں کے علاوہ کسی اور کی خبریں شائع نہیں کیں ۔۔۔۔ لہٰذا دوسرے ادارے ان کی موت پر خوش ضرورہورہے ہوں گے اور کیا۔ ہمیں ان کی اس غلطی کااحساس ہورہاہے ۔خود مرحوم اس بارے میں بعدازموت کیاخیال رکھتے ہوں گے ، اس کا بھی پتہ چلنا چاہیے ‘‘
۳۔ معاشرتی قید
بہت سے انسانی ایپ بنادئے گئے تھے ۔لوگ بیوی والے اپنے اپنے ایپ سے نکل بھاگے۔ بیویاں بھی شوہروں والے ایپ میں رہنا نہیں چاہتی تھیں ، اسلئے قانونی طورپر اس ایپ سے خلع حاصل کرلی۔ میںاور میرے جیسے افراد بیویوں والے ایپ میں قید زندگی کوایک سچ کی طرح گزارنے کی سعی کررہے ہیں تاکہ مرنے کے بعد اپنے اس معاشرتی سچ کابہتر صلہ مل سکے۔ کیوں کہ جھوٹے کرم ،معاشرے کو تکلیف دینا ،میاں بیوی والے دنیاوی سیکشن کو عملاً ختم کرنے کی سعی کرنااور دنیا کوایک مذاق سمجھنے کی سزا بہت زیادہ ہوگی ، اس قدر ہوگی کہ لوگ اسی سزا میں ہمیشہ رہیں گے۔
میری بات سمجھ میں آرہی ہوگی ۔ بہنو، بھائیو!کوشش کریں کہ سماجی زندگی مل جل کر گزاریں۔ میاں بیوی والا اِدارہ ٹوٹ گیاتو پھر کوئی کسی کانہ رہے گا۔ شیطان اور اس کے چیلے چپاٹے یہی کچھ تو چاہتے ہیں۔
۴۔ بکری کا بڑھتا دائرہ کار
مردوں کی اجارہ داری اور من ما نی بڑھ چکی تھی۔ انہیں رام کرنے کے لئے ان کی ذمہ داریوں میں خواتین کوبھی ذمہ داریاں دے کر گویاحصہ دار بنادیاگیا۔ تمام محکمہ جات میں آہستہ آہستہ خواتین شامل کرلی گئیں۔
ہائے افسوس ، کہ مردحضرات رام کیاہوتے ، وہ کسی بدنام زمانہ راون کی طرح تقریباً محکمہ جات میں خواتین پر ظلم توڑنے لگے۔ کل تک جو بھی ظلم گھروں میں ہوتے تھے ، وہ محکموں ، بازاروں ، فنکشن ہال، گارڈن اور سنسان مقامات پر ہونے لگے۔
ان مظالم کے باوجود ماہرین اطفال وخواتین نے خواتین کادائرہ کارکو کم نہیں کیابلکہ انہیں کسی بکری کی طرح مختلف کھونٹوں سے باندھا جارہاہے اور خواتین خود بھی شکاری کھونٹوں سے بندھنے لگی ہیں۔ دوسری جانب شیر ہے کہ بکری کے شکار کے لئے اتاولا ہورہاہے۔
۵۔ غازی شہید
سوشیل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم پر جھوٹ اور فریب پھیلاجارہاتھااور وہ تنہا ان تمام سوشیل میڈیاپلیٹ فارم کی جھوٹی اور پرفریب باتوں کے خلاف کھڑا تھا۔ جب تک زندہ رہا سوشیل میڈیا پلیٹ فارم کے جھوٹ کاپردہ چاک کرتارہا۔ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے
۶۔ کتیا کا حق
لیڈرکتے نے چیختے اور بھونکتے ہوئے کہا”چل، چل… تو میرے بازو کیوں بیٹھی ہوئی ہے؟چلی جا میرے پاس سے ”کتیا نے لگاؤ اور اختیار کا جذبہ بتاتے ہوئے کہا”میں بھی گول میز کانفرنس میں بیٹھنے کا اختیار رکھتی ہوں، مجھ سے میرا یہ حق کوئی چھین نہیں سکتا. میں آج کی عورت ہوں”۔کتے نے بھونکتے ہوئے کہا”تیری اوقات ہی نہیں ہیکہ میرے ساتھ بیٹھ سکے ”لوگ دونوں کی طرف دیکھ رہے تھے
اب کتیا پریشان ہوگئی اور اس نے بے بسی سے پوچھا”تم آخر کہنا کیا چاہتے ہو؟”
خونخوار لیڈر کتا بولا”میرے ساتھ وہی کتیا بیٹھ سکتی ہے جو چادر یا اسکارف اوڑھی ہوئی نہ ہواور تو ہے کہ اوپر سے نیچے تک لفافہ بنی ہوئی ہے۔کتیا وہاں سے اٹھ گئی. سنا ہے کہ وہ اپنی چادر اتار کر اور کپڑے بدل کر آئے گی تب اچانک ہی اس کو گول میز کانفرنس کی صدارت دے دی جائے گی ورنہ نہیں۔
