انظار الإسلام مدني
نائب ناظم عمومي مركزي جمعيت أهل حديث نیپال
—————
مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال پڑوسی ملک نیپال کی ملکی نمائندہ تنظیم ہے۔ سلفیت کی خدمت میں مذکور تنظیم کا کردار نمایاں ہے۔ پچھلے چند ایام میں مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے ذمہ داران کی ایک میٹنگ میں یہ قابل صد افتخار بات طے پائی کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے بھی دین کی خدمت کی جائے کیونکہ آج ہر کوئی سوشل میڈیا سے جڑا ہوا ہے۔ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث مولانا کلام الدین مدنی اور آپ کے نائبین اور ناظم عمومی ڈاکٹر محمد اورنگزیب تیمی اور آپ کے نائبین نیز جملہ ارکان عاملہ و شوری نے مرکزی اجلاس میں سرگرم حصہ لیا۔ اور آن لائن علمی محاضرات کا سلسلہ شروع کیا۔ پہلا محاضرہ بلبل نیپال شیخ محمد نسیم مدنی نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال نے بموضوع”مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عوامل و محرکات اور انسانی دنیا پہ اس کے مضر اثرات نائب امیر ثانی حضرت مولانا ارشاد احمد مدنی کی صدارت میں بتاریخ 7/ نومبر شام کو پیش کیا۔ محاضرہ انتہائی علمی و تاریخی اور وقیع تھا۔ پہر جماعت کی ہر دلعزیز شخصیت شیخ پرویز یعقوب مدنی خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال بعدہ شیخ راشد حجازی ، عبیداللہ فیصل حجازی نے یکے بعد دیگرے اپنا اپنا تاثر پیش کیا اور آئندہ بھی مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ذمہ داران سے اس طرح کی علمی مجالس کے انعقاد کی پرزور اپیل کی۔
پھر دوسرا علمی محاضرہ 13/ اکتوبر بلبل نیپال شیخ محمد نسیم مدنی نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث کی صدارت اور خاکسار نائب ناظم عمومی انظار الاسلام مدنی کی زیر نظامت ڈاکٹر اجمل منظور مدنی نے بموضوع ” موجودہ دور میں ءزبیت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور منہج سلف شرق اوسط کی روشنی میں پیش کیا۔ پہر شیخ پرویز یعقوب مدنی، شیخ مطیع اللہ مدنی، شیخ عابد جمال سلفی، شیخ عبیداللہ فیصل حجازی نے اپنا اپنا قیمتی تاثر پیش کیا۔ فاضل محاضر نے واضح انداز میں بتلایا کہ منہج سلف ہی درست ہے صحت عقیدہ میں منہج صحابہ کی پابندی ضروری ہے اور عصر حاضر میں بڑھتی ہوئی حزبیت کی شناخت کرکے کتاب و سنت کی روشنی میں باطل افکار و نظریات سے امت کی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔
پھر تیسرا محاضرہ بموضوع "منہج سلف کے آئینے میں اخوانیت کی شناخت کے زاویے” 21/ اکتوبر بروز منگل بعد نماز عشاء بلبل نیپال شیخ نسیم مدنی کی صدارت اور خاکسار انظار الاسلام مدنی کی نظامت میں ہندوستان کے مشہور ادارہ جامعہ التوحید بھیونڈی کے باوقار شیخ الجامعہ شیخ نثار احمد مدنی نے پیش کیا۔ فاضل محاضر نے بتلایا کہ منہج سلف کی روشنی میں اخوانیت کی شناخت آسان ہے۔ پھر تاثراتی کلمات شروع ہوا سب سے پہلے ام المدارس جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر نیپال کے سینئر استاذ شیخ پرویز یعقوب مدنی نے اپنا تاثراتی کلمات پیش کیا۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے اس نئے اقدام کی خوب تحسین کی۔ اور فرمایا کہ حالات و ظروف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوۓ اس امر کا شدت سے احساس کیا گیا ہے کہ مسلمانوں بالخصوص سلفی نوجوانوں کو اخوانیت اور خارجیت کے مظاہر اور ان کی خطرناکیوں سے آگاہ کیا جاۓ اور کتاب وسنت سے ماخوذ سلفی عقیدہ کی صحت و سلامتی اور فہم سلف، منہج سلف کی اہمیت اور قدر و قیمت سے انھیں باخبر کیا جاۓ۔
فاضل محاضر نے اخوانیت دلائل و براہین اور تاریخی احداث کی روشنی میں خوب پوسٹ مارٹم کیا۔ بعدہ جماعت اہلحدیث کی قد آور شخصیت مولانا مطیع اللہ مدنی نے فاضلانہ تاثراتی کلمات کا اظہار فرمایا۔ آپ کے بعد بلبل نیپال حضرت مولانا محمد نسیم مدنی نے صدارتی کلمات پیش کیا۔ پھر نائب ناظم عمومی حضرت مولانا انظار الاسلام مدنی نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتلایا کہ یہ سلسلہ مفید ہے اور اسے جاری رہنا چاہئے، پیغام حق کو عام کرنے کے ساتھ نوجوانان ملت اسلامیہ کو اخوانیت کے دلدل میں جانے سے روکنے کی منصوبہ بندی کوشش کرنی چاہئے۔ پہر آپ ہی کے دعائیہ کلمات پر مجلس کے اختتام کا اعلان ہوا۔
اللہ اس سلسلہ وار علمی محاضرات کو ملک و ملت کے لئے مفید اور کار آمد بنائے۔ آمین
