سہارنپور( احمد رضا): ضلع بھر میں قائم سیکڑوں مکاتب اور مراکز دینی کے ذمہ داران کا صاف صاف کہنا ہے کہ مدارس اسلامیہ ملت اسلامیہ کی ذاتی ملکیت ہے اور ان اداروں کے سبھی خرچ ملت اسلامیہ کے تعاون اور چندے سے ہی چلتے آ رہے ہیں پھر ہمارے بزرگوں اور اکابرین کے ان اداروں میں کسی کی مداخلت کے کیا معنی؟ جہاں ایک طرف مدارس اسلامیہ اور مکاتب اسلامیہ کے خلاف اے ٹی ایس کی جانچ پڑتال جاری ہے وہیں دوسری جانب مسلم افراد کے خلاف ہجومی تشدد کے واقعات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں، جگہ جگہ مسلم آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، نہ جانے کون سی دشمنی نکالی جا رہی ہے جبکہ اس حقیقت سے متعصب افراد خوب واقف ہیں کہ 35 کروڈ سے زیادہ مسلم آبادی کا آپ کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے۔ ملک سے باہر نکالنے کا خواب تو دیکھو ہی مت۔ یہ صحت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے!
ملک بھر میں قریب ایک ہزار سال کی تواریخ میں جتنے بھی مکاتب، مدارس اور مساجد دینی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے قائم ہوئے اور آج بھی قائم ہو رہے ہیں سبھی کا نظم و نسق مسلم اقوامِ کی ذاتی املاک پر مسلم افراد کے ذاتی خرچ پر اور اللہ کے لئے وقف کئے گئے تحریر دستاویز پر ہی علمی اور د ینِی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان اداروں میں کسی دیگر طبقہ کی رقم صرفِ نہیں کی جا سکتی ہے۔ ملک کے دستور کے مطابق چلنے والے ملت اسلامیہ کے ان ذاتی اداروں جیسے مدارس اسلامیہ اور مکاتب کے ساتھ ساتھ مساجد کے معاملات میں سرکاری دخل اندازی کسی شکل میں قانون کے مطابق نہیں کہی جا سکتی ہے۔ تشویش کی بات یہ کہ حکومت آئین ہند میں دیئے گئے مذہبی تعلیم کے اختیار اور سوسائٹی رجسٹریشن کے تحت چل رہے مدارس اسلامیہ اور مکاتب کے خلاف طرح طرح کے بیہودہ ہتھ کنڈے استعمال کررہی ہے تاکہ مدارس اسلامیہ کے منتظمین کو خائف کیا جا سکے، ملک میں قانونی طور طریقوں پر چل رہے لاکھوں مدارس اسلامیہ اور مکاتب کے منتظمین کا صاف کہنا ہے کہ ہمیں جانچ کا کچھ بھی خوف نہیں بلکہ حکومت کی تنگ نظری پر افسوس ہوتا ہے۔
واضع ہو کہ ہمارے بزرگوں اور اکابرین نے وطن عزیز کو جس مقصد سے جان مال کی تاریخی قربانیاں پیش کرتے ہوئے آذادی دلائی آج یہ مٹھی بھر تنگ نظر شدت پسند افراد جواب میں مسلم آبادی کو نیست و نابود کرنے پر آمادہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم اس ملک پر قبضہ جمالیں بیوقوف یہ نہیں جانتے کہ مساجد، مدارس اور خانقاہوں کو تباہ اور برباد کر کے مسلم آبادی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ملک اصل میں ان افراد کی ملکیت اور اثاثہ ہے جن کے بزرگوں اور اکابرین نے لاکھوں جانیں اور اربوں کی ملکیت شہید کراکر اس وطن کو آزادی دلائی۔ ملک میں نفرت ظلم و تشدد اور جبر کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ اگر آج مسلمان خاموش ہے اور آپکے جبر و تشدد کا جواب نہی دے رہا ہے تو سبھی جان لیں کہ اس خاموشی کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ مسلمان بزدل یا خائف ہے۔ سچ یہ ہے کہ مسلم فتنہ انگیزی اورتشدد کے خلاف ہے امن پسند ہیں یعنی قرآن کریم کی عظمت اور بزرگی کا لحاظ رکھنا چاہتا ہے جھگڑا نہیں چاہتا!
مدارس اسلامیہ، مکاتب اور مساجد کے خلاف اے ٹی ایس کی بے تکی جانچ اعلانیہ طور سے مسلم آبادی کو خوف زدہ کرنے کی شرمناک حرکت ہے اہل ایمان اس سازش سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ جہاں جہاں آج کل بھاجپا کی سرکاریں اقتدار پر قابض ہیں وہاں مسلم آبادی پر زندگی مشکل سے مشکل تر ہو تی جا رہی ہے۔ بھاجپا کے لوگ اور انکی سرکا ریں موقع در موقع مسلم آبادی کے خلاف نفرت حسد اور تعصب کے معاملات کو بڑھاوا دینے میں سرگرم دیکھے جا سکتے ہیں بھاجپا کی سرکاروں میں ان دنوں مسلم طبقہ کے خلاف تشدد اور نفرت کے معاملات میں لگاتار اضافہ دیکھا جا رہا ہے مرکزی سرکار مسلم افراد کی تبا ھی اور بربادی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ہر دو ماہ بعد کبھی مساجد کبھی مدارس کبھی مزارات پر حملہ کیئے جاتے ہیں جب شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھتے والے حاسد ناکام رہتے ہیں تو وہ اجتماعی تشدد برپہ کرتے ہوئے مسلم افراد کو قتل کرنے میں بھی شرم نہیں کر تے کبھی بلڈوزر چلا کر مسلم آبادی کو نیست و نابود کیا جاتا ہے کبھی مساجد پر بلڈوزر چلا یا جا تا ہے تو کبھی سیکڑوں مزارات کو تباہ کر دیا جاتا ہے کل ملاکر مسلم آبادی کو مٹانے کی کوشش تیز سے تیز تر ہو گئی ہیں خد کو ناکام ہو تا دیکھ اب بھاجپا سرکار اتر پردیش کے مکاتب کی جانچ پڑتال گر رہی ہے آس جانچ کا اصل مقصد مسلم آبادی کو نقصان پہنچا نے اور ڈرانے کی سازش میں سرگرم ہے نتیجہ کے طور پر ان دنوں اتر پردیش میں مدارس کے سروے کے بعد یوگی حکومت نے مکاتب کے خلاف بھی جانچ کی کارروائی شروع کردی ہے اور مکاتب کے منتظمین سے مختلف معلومات جمع کرائی جارہی ہیں،ایک مرتبہ پھر دینی مکاتب کے خلاف شروع کی گئی اس کارروائی سے ذمہ داران میں تشویش پائی جارہی ہے اے ٹی ایس ٹیم نے سہارنپور کمشنری تین ضلع جیسے سہارنپور ، مظفرنگر اور شاملی میں قریب قریب ساڑھے چار سو سے زائد مکاتب کی تحقیقات کر نے میں مصروف ہے! کچھہ دن قبل بھی اتر پردیش کی اے ٹی ایس ٹیم نے سہارنپور کے آس پاساور ديوبند کےعلاوہ مظفرنگر اور شاملی کے سیکڑوں مکاتب میں پہنچ کر بغور تفتیش کی اور زمہ داران لوگوں سے رجسٹریشن، جائیداد اور فنڈنگ سمیت آٹھ نکات پر پوچھ گچھ کی گئی اطلاع کے مطابق چند روز قبل ہیڈ کوارٹر کی جانب سے ڈویژن میں واقع قریب قریب ساڑھے چار سو مکاتب کے حوالے سے جانچ کے احکامات جاری کئے گئے ہیں اس کی ذمہ داری اے ٹی ایس دیوبند کی ٹیم کو دی گئی ہے!
شاملی میں 190 مکتب، مظفر نگر میں 165 اور سہارنپور میں 118 جانچ کے دائرے میں ہیں تحقیقات کے لیے ضلع اقلیتی افسران سے ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔ ایسا بتایا جا رہا ہے کہ مکاتب کے حوالے سے کچھ شکایات موصول ہوئی تھیں جس کے لیے حکومت نے تحقیقاتی فہرست بھیجی ہے کچھ مکاتب ایسے بھی ہیں جو بغیر رجسٹریشن کے چل رہے ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی کرنے کی تیاری بھی بتائی جارہی ہے، اس کے علاوہ ان کی جائیداد، طلبہ کی تعداد اور فنڈنگ کہاں سے آرہی ہے جیسے سوالوں کی بھی چھان بین شروع کردی گئی ہے۔منگل اور بدھ کی شام اے ٹی ایس کے ارکان شہر اور دیہی علاقوں میں مدارس اور چھوٹے مکاتب پر پہنچے مکتب میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد، مدرسہ کے منتظم کا نام اور مکتب چلانے کے ذرائع آمدن کے بارے میں معلومات لی مکاتب کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ انہیں اس قسم کی جانچ سے کسی طرح کا خوف نہیں ہے کیونکہ ہمارا کام آئینی طرز پر صاف اور شفاف ہے ہم جھوٹ بول کر اور بد بختا نہ عمل کرکے مدارس مکاتب نہی چلاتے ہمارے بزرگوں اور اکابرین علمائے کرام کی حسب ہدایت ہمارے مدارس اور مکاتب اپنی اپنی تعلیمی زمہ داریاں نبھا رہے ہیں ہمارے یہاں کچھہ بھی کالا یا بغض نہی سب کچھ عمل فی سبیل اللہ کی بنیاد پر قائم و دائم ہے جو بھی سرکاری یا سروے ٹیم ہمارے پاس پہنچے گی اسے مکمل معلومات فراہم کرائی جائے گی !
