نظم

نومبر 11, 2024

عبدالقیوم ہمدم علی نگری

 

میری راحت میرا دین و ایمان ہے

جس سے ہوتا خفا ظلمی شیطان ہے

ازلی ابدی یہ دشمن ہے انسان کا

 اس کا رب العلا سے یہ اعلان ہے

ربکی راہوں سے وہ ہمکو بھٹگائے گا

ہاں یہی اس کا مولا سے پیمان ہے

کیوں سمجهتا نہيں انس قرآں کی بات

آدمی کس قدر کتنا نادان ہے

غرق ہے کبر ميں اور جہل پہ مگن

اپنے انجام سے ناداں انجان ہے

دور انسانيت ہم سے ہونے لگی

ناہی اپنے پرائے کی پہچان ہے

یہ حقيقت ہے ہمدم برے لوگ ہیں

جھوٹی ہمدردی ہے جھوٹا احسان ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے