ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج۔بارہ بنکی
یوپی۔بھارت
عرش پر جس کا ہے نقشِ پا سوچئے
ہم سبھی کا ہے وہ رہنما سوچئے
لطفِ آقا کا یہ زاویہ سوچئے
ہم سے لکھوا رہے ہیں ثنا سوچئے
دل کی دھڑکن میں بھی فکرِ امت رہی
میرے سرکار کا سوچنا سوچئے
ہوگی محشر میں جو ہم پہ سایہ فگن
وہ نبی کی مکرم ردا سوچئے
جب یہ دنیا ہے اتنی حسیں تو ذرا
حسن لولاک کی وجہ کا سوچئے
رحمتیں برکتیں کلمہ ایماں درود
ہم پہ کیا کیا ہیں ان کی عطا سوچئے
ابتداء میں ہی آئے ہیں جبریل امیں
ہوگی پھر کیا بھلا انتہا سوچئے
میں نے سب کچھ تو سرکار کو کہہ دیا
آپ اب بیٹھ کر مسئلہ سوچئے
جب اشارے سے ٹکڑے میں بٹتا ہے چاند
ہوگا کیا پھر نبی کا کہا سوچئے
