بیدر۔ 26؍نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری): اتر پردیش میں قانون کی بگڑتی ہوئی صورت حال بالخصوص مسلمانوں کی جان و مال پر حملوں پر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے اور سپریم کورٹ آف انڈیا سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس سنگین صورت حال کا سوموٹو نوٹس لے نیز وز یر اعلی اتر پردیش شری یوگی ادتیا ناتھ سے مطالبہ کرتی ہے کہ دوفوری طور پر استعفی دے کر اس کی ذمہ داری قبول کریں۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر رئیس الدین بائید یا نے ایک پریس بیان میں کہا کہ محمل، اتر پردیش میں مسلم مظاہرین پر پولس کی زیادتی اور اندھا دھند فائرنگ انتہائی جانبدارانہ غیر منصفانہ اور طاقت کا بیجا استعمال ہے۔
انہوں نے کہا یہ واقعہ در اصل حکمران جماعت کا ریاست کی مسلم آبادی پر مسافرانہ رویہ کا مظہر ہے، جس نے پوری ریاست میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور بغض و عناد کا ماحول برپا کر رکھا ہے۔ اسی ہندو مسلم منافرت نے سنبھل میں 5 مسلم مظاہرین کو پولیس کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی کو اس بہیمانہ قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فی الفور اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا ایک چشم دید گواہ کے مطابق پولیس کی نگرانی میں جب مسجد کے سروے کو تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا تو مقامی آبادی وہاں جمع ہونے لگی اور اس نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ سروے کس لئے کیا جارہا ہے۔ اس پر سرکل آفیسر نے بہت درشت لہجہ میں گندی زبان میں جواب دیا اور لاٹھی چارج کا آرڈر کردیا۔ اس کے جواب میں کچھ لوگوں نے بھی پتھر برسائے۔ حالانکہ خود سرکل آفیسر کے مطابق یہ عمل صرف 3 تا 4 سیکنڈ تک رہا لیکن پولیس کانسٹیبل اور آفیسرز نے جواباً اپنی سروس ریوالور اور دیگر ہتھیاروں سے مظاہرین پر فائرنگ شروع کر دی ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں اس معاملہ کی فوری طور پر عدالتی جانچ کروائی جائے۔ انہوں نے کہا مسجد کا سروے ایک مقامی عدالت کے حکم پر کیا جارہا تھا جو ایک شخص کے پٹیشن کے جواب میں تھا جس نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ مسجد مغلیہ دور میں ایک مندر کوتوڑ کر بنائی گئی تھی۔
ہمارا مانتا یہ ہے کہ اس طرح کی پیٹیشن کی قانوناً کوئی حیثیت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا اس طرح کے پیٹنس اور سروے کی ورشپ پلیز ایکٹ ۱۹۹۱ کی موجودگی میں کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ جس کے مطابق 15 اگست 1947 کو جس عبادت گاہ کی جو حیثیت ہوتی ہے وہ علی حالہٖ باقی رہے گی اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکے گا اور ایک فرقہ کی عبادت گاہ کو دوسرے فرقہ سے بدلا جاسکے گا۔ اسی طرح عدالتوں کو اس قانوں کی موجودگی میں اس طرح کے پٹیشنس کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ گولی چلانے والے پولیس افسران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور انہیں جوابدہ بنایا جائے۔ اسی طرح جو 5 افراد شھید ہوئے ہیں ان کے ورثاء کو فوری طور پر بھرپور معاوضہ ادا کیا جائے۔ ڈاکٹر رئیس الدیں نے ان مہلوکین کے ورثا سے تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور آپ کے لئے انصاف کی لڑائی لڑتے رہیں گے۔
ڈاکٹر رئیس الدین نے پارٹی کے تاسیسی رکن اور فیڈرل ورکنگ کمیٹی کے ممبر جاوید محمد کی گرفتاری پر سخت برہمی کا اظہار کیا، جنھیں سنبھل کے حالات کی بنا پر پولیس نے احتیاطی تدابیر کے بطور گرفتار کیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ انہیں فی الفور رہا کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے