"ڈاکٹر بہاؤالدین ایوارڈ” سے مولانا ندوی حفظہ اللہ کو نوازنا "حق بحق دار رسید” کا مصداق ہے۔

مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی
ڈاکٹر محمد سلیمان معروف بہ ڈاکٹر بہاؤالدین حفظہ اللہ (مقیم برطانیہ) ایک معروف عالم و مورخ ہیں ،ان کو جماعت اہل حدیث کی تاریخ سے گہری واقفیت ہے اور جماعت و جمیعت سے گہری وابستگی ہے، ان کا مطالعہ بہت عمیق ہے اور ساتھ ہی ان کا قلم غایت درجہ سیال ہے، "تحریک ختم نبوت” جیسے موضوع پر کئی جلدوں میں ان کی مرتب کردہ کتاب سے تمام طلباء و علماء اگاہ ہیں، نیز متعدد مجلدات پر مبنی "تاریخ اہل حدیث” بھی مطبوع و متداول ہے اور جمع و ترتیب کا سلسلہ جاری ہے۔
ان کو علمائے اہل حدیث اور سلفی کارواں کے ہر راہی سے لگاؤ ہے، "تاریخ اہل حدیث” کے موضوع پر کام کرنے والے اہل قلم سے ان کو بہت محبت ہے چنانچہ انہوں نے اس موضوع پر تصنیفی خدمات انجام دینے والوں کے لیے "ڈاکٹر بہاؤالدین ایوارڈ” کا اغاز کیا اور اب تک کئی اہل قلم کو ـجن کی خدمات کا اعتراف بہتوں کو ہےـ اس ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے.
ابھی چند ماہ قبل ایک قیمتی کتاب "تذکرۃ المناظرین” کے لائق و فاضل مصنف مولانا محمد مقتدی عمری حفظہ اللہ کو اس ایوارڈ سے مشرف کیا گیا، واقعی ان کا عمل ایوارڈ کے لائق ہے۔
نیز مورخہ 25 نومبر 2024 کو تلسی پور کے ایک عظیم مولف مولانا عبد الرؤف صاحب ندوی حفظہ اللہ کو ان کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب "کاروان سلف” ـجس کی 11 جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور مزید کی تکمیل پر کام جاری ہےـ کی اہمیت و وقعت کے پیش نظر اس گراں قدر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
ہمارے لئے یہ امر باعث فرحت و مسرت ہے کہ ہمارے بزرگ عالم دین مولانا ندوی حفظہ اللہ کو یہ اعزاز و اکرام حاصل ہوا ۔
ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو مزید خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
