کہا: انتخاب کوئی کھیل نہیں بلکہ سماج و قوم وملت کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔

مولانا ادریس بستوی

مہنداول ،سنت کبیرنگر 

مہاراشٹر اسمبلی الیکشن پر پورے ملک کی نگاہیں تھیں لوگ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے اقتدار کی تبدیلی کے لئے پرامید تھے،لیکن نتائج برخلاف آئے،جس کو لوگ چناؤ میں کھیل ہوگیا کا نام دے رہے ہیں تو وہیں ایک ایک اسمبلی حلقہ میں زیادہ مسلم امیدواروں کو بھی وجہ مان رہے ہیں۔اس سلسلہ میں ملک کے معروف عالم دین اور ملک کی مختلف تنظیموں کے ذمہ دار مولانا ادریس بستوی نے مہنداول میں انقلاب سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس الیکشن میں ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی چناؤ کو خطاب کرتے ہوئے اپنی سطح سے نیچے گرکر کہا تھا کہ گھسپیٹھئے تمہاری روٹی اور بیٹی چھین لیں گے یہ نعرہ ملک کے لئےتوہین آمیز اور شرمناک نعرہ تھا،اس کے باوجود بھی بی جے پی جھارکھنڈ چناؤ ہار گئی،انھوں نے کہاکہ مہاراشٹر میں ایک شہر ناندیڑ ہے وہاں پارلیمنٹ کے ضمنی الیکشن میں انڈیا امیدوار فاتح رہا لیکن اس پارلیمانی حلقہ کے چھ ایم ایل اے سیٹوں پر بی جے پی اتحادی مکمل طور پر جیت گئے،جس سے پتہ چلتا ہے کہ الیکشن میں کھیل ہوا ہے،اسی لئے مودی جی الیکشن کے وقت باہر چلے جاتے ہیں،ساتھ ہی مہاراشٹر الیکشن کے بعد ووٹوں کے فیصد میں 9/فیصد کا اضافہ کردیا جس سے الیکشن میں پوری طرح کھیل ہوگیا سمجھ میں آرہا ہے،کندرکی میں مکمل طور پر مسلمانوں کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا،ساتھ ہی انھوں نے کہاکہ مسلمانوں کی آپسی چشمک کی وجہ سے مسلم حلقوں میں مسلمان لیڈر ہار جاتے ہیں،کندرکی اسمبلی حلقہ میں 11/مسلمان امیدوار اور ایک ہندو امیدوار،اورنگ آباد اسمبلی حلقہ میں 18/مسلم امیدوار کھڑے تھے،جس کی وجہ سے کوئی بھی قدآور مسلم لیڈر ہو جیتنا مشکل ہوجاتا ہے،انھوں نے کہاکہ کچھ لیڈران کچھ پیسوں کے لئے ووٹ کاٹنے کی خاطر کھڑے ہوجاتے ہیں،ان سے مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے،جب تک مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور نہیں ہوگا مسلمان انتخاب کو محض کھیل سمجھیں گے تو مسلمان سیاسی،سماجی،اقتصادی زبوں حالی کے شکار رہیں گے۔کیونکہ جمہوریت میں چناؤ سماج قوم و ملک کے مستقبل کا ہوتا ہے،اس لئے اچھے مستقبل کے لئے ہمیں انتخاب کے موقع پر زیادہ حساس رہنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے