مکرمی!
ہمارے ملک کے بادشاہ اور راجہ کافی فراخ دل رہے ہیں، جس کی واضح دلیل ہمارے ملک میں اربوں رقم کی وقف جائداد ہے، مگر آج ہماری حکومت کی حریصانہ نظر اس پر پڑ چکی ہے،جس پر غاصبانہ قبضہ کا دروازہ کھولا جارہا ہے جو سراسر ظلم وزیادتی ہے،وقف کرنے والوں نے جس مقصد ومشن ،جس شعبہ اور جس قوم کے لئے وقف کیا ہے وہ جائدادانہیں پر خرچ ہونی چاہئے ،ورنہ اس کا مقصد فوت ہوجاتا ہے، تو دوسری طرف اس قوم پر ظلم وزیادتی بھی ہے، اس لئے میں اس فیصلہ کی سخت مذمت کرتا ہوں اور ار کان پارلیامنٹ سے مطالبہ کرتاہوں کہ مذہبی عصبیت کے چشمہ کو اتار کر اس بل پر نظر ثانی کی جائے۔
ہمارے ملک کے مسلم بادشاہوں اور راجاؤں نے مندر ،مٹھ اورمسجد ،مدرسہ، کے لئے جائدادیں وقف کی ہیں، تو کیایہ ممکن ہے جوجائداد مندر ،مٹھ، پر وقف ہے اس سے مسلمان مستفید ہوسکتا ہے؟ اور کیا یہ ممکن ہے جو جائداد مسجد اور مدرسہ کے لئے وقف ہے اس سے غیر مسلم مستفید ہوسکتے ہیں؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہوگا، تو یہ بل جو پاس ہوا ہے وہ دوسروں کے حقوق پر غاصبانہ قبضہ نہیں تو پھر اور کیا ہے؟
کیا اس جمہوری ملک میں کسی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کو اس کی توفیق ہوئی کہ مندر، مٹھ، اور مسجد ومدرسہ،گرودوارہ اور گرجا کے لئے کوئی جائداد وقف کیا ہے ،بلکہ ہماری جمہوری حکومت تو ان جگہوں کو کمرشیل قرار دیکربجلی اور پانی کا بھی بل وصول کررہی ہے۔
اور اگر حکومت کو ہاسٹل،کالج اور اسکول بنانا ہے تو وقف کی ان جائدادوں کو بازیاب کرے جس پر ہماری ریاستوں اور حکومت کا قبضہ ہے اور اس پر اس قسم کے رفاہی وتعلیمی ادارے قائم کئے جائیں،اگر ہماری حکومت اس کام کو کرلیتی ہے تو یہ ایک تاریخی کام ہوگااور ملک اور ملت کے لئے یکساں فیصلہ ہوگا ،جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا،امید ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے گا اور اس زاویہ سے اس پرنظر ثانی کی جائے گی۔

مولانا ،اے ،کے ،رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے