صوبائی مسابقہ میں طلبہ دارالعلوم فیض محمدی کی شاندار کامیابی پر استقبالیہ پروگرام
لکشمی پور ۔مہراج: میاں صاحب اسلامیہ کالج گورکھپور کی” سیرت کمیٹی،، کے زیراہتمام صوبائی سطح کے مسابقہ میں دارالعلوم فیض محمدی کے طلباءنے فرسٹ ، سکنڈ پوزیشن حاصل کرکے اپنا اور اپنے ادارہ کا نام روشن کیا ہے، مسابقہ سے واپسی کے بعد دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ کی مسجد ” النور،، میں فاتح ٹیم کے اعزاز میں ایک استقبالیہ پروگرام سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی صدارت و مولانا محی الدین قاسمی ندوی کی قیادت میں رکھا گیا ، جبکہ نظامت کے فرائض مفتی احسان الحق قاسمی نے انجام دیئے ، پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر محبو ب العلماءمولانا لیاقت علی قاسمی امام وخطیب بھنڈی بازار ممبئی نے شرکت کی۔
سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے صوبائی سطح کے مقابلے میں دارالعلوم فیض محمدی کے طلبہ کی شاندار کامیابی پر نہ صرف مبارکباد پیش کی، بلکہ تمام پوزیشن لانے والے طلباء( محمد حسان نعت میں پہلی پوزیشن ، محمد فرحان اردو تقریر میں دوسری پوزیشن ، روشن جمیل و محمد مزمل )کو ادارہ کی جانب سے نقدی انعامات سے بھی نوازا: آپ نے اپنے صدارتی بیان میں کہا کہ مسابقاتی پروگرام کے انعقاد سے قوم کے نونہالوں کی خوابیدہ صلاحیتو ں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں خود اعتمادی کا جذبہ پید اکرنے کا موقع ملتا ہے، آپ نے صاف طور پر کہا کہ ایسے مسابقاتی پروگراموں میںجہاں ایک طرف درجنوں چنیدہ ٹیموں کو مدعو کیاجاتا ہے وہیں جامع الکمالات حکم صاحبان کا بھی انتخاب ہونا چاہئے۔
مہمان خصوصی مولانا لیاقت علی قاسمی نے پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کی گل پوشی کرتے ہوئے اپنے خصوصی بیان میں کہا کہ صوبائی مسابقہ میں پوزیشن لانے طلبہ کو ہم دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں، بلاشبہ ادارہ میں مضبوط تعلیمی نظام اور اساتذہ کی شب وروز محنتوں کے سبب یہاں کے طلبہ ضلعی وصوبائی سطح کے مسابقوں میں نمایاں مقام اور پوزیشن حاصل کرتے رہتے ہیں ،اللہ اس دیرینہ روایت کو برقرار رکھے آمین ۔
موصوف نے طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو چاہئے کہ وہ اپنے اساتذہ کا احترام واکرام اپنے اوپر لازم کرلیں،کیوں کہ یہ اساتذہ ہی انہیں آفتاب وماہتاب بناتے ہیں، اساتذہ ہی پوری قوم کے محسن ہیں ، نیز یہ بات واضح ہے کہ استاذ اور شاگر کا رشتہ انہتائی مقد س ہوتا ہے ، جہاں بچوں کی جسمانی نشو ونما میں والدین کا کلید ی رول ہوتا ہے وہیں استاذ کا طالب علموں کے کی ذہنی ترقی ، ادب شناسی اور علم وفن کے ارتقاءمیں بڑ ا کردار پنہا ہوتا ہے، یاد رکھیئے جب تک طلبہ میں طلب کی صفت نہیں پیدا ہوگی ، مکمل استفادہ کرنا محال ہے۔موصوف نے طلبہ کی عظمت اور مہمانان رسول ہونے کی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا رشید احمد گنگوہی ودیگر بزرگان دین کے کئی واقعات نقل کرکے سامعین کو مستفیض فرمایا۔
اس موقع پر، نگرا ں انجمن ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی ،مولانا محمد سعید قاسمی، مولانامحمد صابر نعمانی، مولانا ظل الرحمان ندوی، مولانا شکراللہ قاسمی ، مولانا وجہ القمرقاسمی،حافظ محمد زید ، ماسٹر محمد عمر خان ، ماسٹر فیض احمد ، ماسٹر جاوید احمد، مولانا زہیر عالم قاسمی، مفتی وصی الدین قاسمی مدنی، حافظ ذبیح اللہ ، ماسٹر صادق علی، ماسٹر شمیم احمد ، فیض احمد، عصب الدین ، حافظ ظہیر الدین، مولانا محمد آصف قاسمی وغیرہ موجودتھے۔

