مکرمی!
۶؍دسمبرہندوستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جس کو کوئی بھی انصاف پسند فراموش نہیں کرسکتا ،جس دن صدیوں سالہ پرانی بابری مسجد رات کی تاریکی میں نہیں بلکہ دن کے اجالے میں شہید کردی گئی، اس سیاہ دن کے موقع پر اتنی مدت کے گذر جانے کے بعد ہمارے سابق چیف جسٹس محترم نریمن نے جو حق گوئی پر مبنی بیان دیا ہے میں ان کو سلام کرتاہوں اور ان کو خراج تحسین پیش کرتاہوں ، یہ بات تو اقلیتی طبقہ اوربعض انصاف پسند برادران وطن بھی کہتے رہے ہیں مگر یہ اکثریت کے حلق سے نہیں اتر رہی ہے،آج ہمارے ملک کو ایسے پاک صاف ،انصاف پسند، ایماندار اور امانتدار ججوں کی ضرورت ہے جو بغیر کسی خارجی دباؤ کے فیصلہ کرسکیں اور اپنا نظریہ پیش کرسکیں۔
جہاںتک معاملہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک میں رونما ہونے والے فسادات کا ہے اس سے ہرشخص  واقف ہے،جہاں خون کی ندیاں بہادی گئیں ،ہزاروں کا مکانات، سیکڑوں شوروم نذرآتش کردئیے گئے،لاکھوں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرگئے، اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، اسی لئے مسلمان ہر سال اس تاریخ کو’’یوم سیاہ‘‘ مناتا ہے، اور منانا چاہئے تاکہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہوسکے کہ اکثریتی طبقہ کو خوش کرنے کے لئے کثیر دلائل وشواہد کے باوجود یہ قدیم مسجدشہید کردی گئی،مسلمانوں کا یہ غیض وغضب برقرار رہے گا جب تک بابری مسجد کی بازیابی نہ ہوسکے۔
مولانا ،اے ،کے ،رحمانی
      قومی نائب صدر مسلم  پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
    حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے