ابو احمد مہراج گنج
بھارت میں موجود لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد آج کل سیریا کے مظلوم عوام اور وہاں کے سابق ظالم حکمران کو اپنے نوک قلم پر لئے ہوئے ہیں ،جو لوگ کچھ دن پہلے ایران کو 56 بہنوں کا اکلوتا بھائی بتا رہے تھے۔ اب ایران کو مسلم بھائیوں کے خون آشامی میں درندوں سے بدتر بتا رہے ہیں۔ کچھ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے فلسطین کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے، تو کچھ یہ بتا رہے ہیں کہ سعودی عرب کے فرمانروا بہت زیادہ زیرک اور مسلم نواز ہیں۔ تو کچھ دانشوروں کا ماننا ہے کہ فلسطین، سیریا اور یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ عرب حکمرانوں کے حمایت سے ہو رہا ہے۔
ایسے میں ہم جیسے کم عقل اور کور فہم کس کی بات کا اعتبار کریں اور کسے نظر انداز کر یں؟ کچھ سمجھ نہیں آتا ۔
ویسے ان لکھاریوں سے پوچھنا تھا کہ بھارت میں موجود مسلمانوں کے مسائل ختم ہو گئے ہیں یا ناپید ہو گئے ہیں؟ جو بھارتیہ مسلمانوں کو عرب دنیا کی ذہنی سیر کرائی جا رہی ہے۔ ایران، عراق، فلسطین، مصر قطر، سعودی، شام اور افغانستان کے حالات سے باخبر کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ ہمارا عرب دنیا سے روحانی اور مذہبی رشتہ ہے۔ مگر کیا ہم بھارتیہ مسلمانوں کے خلاف ہو رہے لاتعداد مظالم جس فرمانروا کے اشارے پر ہو رہے ہیں۔عرب حکمراں اس فرمانروا کی ہمت افزائی اور قدردانی کی نئی تاریخ نہیں رقم کر رہے ہیں؟ کیا ہمارے لکھاری برادری کی نظر اس طرف بھی گئی ہے کہ ہمارے بھارت کے مسلمانوں کے سامنے مسائل کے انبار لگے پڑے ہیں۔جہالت، غربت، بدعقیدگی، بےراہ روی، حکومتی اداروں کی جانب داری، عدلیہ، مقننہ کی طرف داری، اسکول
، کالج،یونیورسٹی سے ڈراپ آوٹ ریٹ میں بے تحاشہ اضافہ،سرکاری محکموں میں مسلمانوں کی نمائندگی کا دن بدن کم سے کمتر ہوتے جانا، مگر ہمارے لکھاریوں کا پسندیدہ موضوع ہے فلسطین کی آزادی ،بن سلمان کے لبرل خیالات ،ایران کا قائدانہ کردار ،یمن سے سعودی عرب کا بدلہ ،عراق میں شیعوں کی حکومت ،افغانستان میں اسلامی حکومت ،ترکی کا ڈبل رول ،مصر کے بزدل حکمران ،
ان سب سے بھارت کے مسلمانوں کے کون سے مسائل وابستہ یہ میرے لئے معمہ بنا ہوا ہے ۔
ہمارے لکھاری علماء نہ جانے یہ بات سمجھتے بھی ہیں کہ نہیں کہ بھارت کا سنی مسلمان نہ تو سعودی عرب کو آئیڈیل مانتا ہے اور نہ ہی مصر اور افغانستان کو۔اسی طرح شیعہ مسلمان نہ ایران کو اپنا آئیڈیل سمجھتا ہے اور نہ سیریا اور عراق کو مقتدی مانتا ہے ۔بلکہ بھارت میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مسائل ایک جیسے ہی ہیں دونوں کو ایک جیسے چیلنجر کا سامنا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ بھارت کے شیعہ مسلمان، سنی مسلمانوں سے فہم و فراست، عقل وشعور اور فکر نظر کے ساتھ بود و باش، طرز معاشرت اور تعلیم و تربیت میں بدرجہا بہتر ہیں ۔
لیکن پھر بھی ہم ان کو اپنا حریف بنانے کی خوش خیالی میں گرفتار ہوکر عرب دنیا کی رنجشوں کو بھارت جیسے ملک میں (جہاں مسلمان پہلے سے ہی اقلیت میں موجود ہیں) موجود شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان پھیلا نے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ جو ہر لحاظ سے اپنے وجود پر آری چلانے جیسا ہے ۔
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
