محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔ ضرورتِ تربیت
سب دانشور بکے ہوئے تھے جتنے وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ سبھی کامختلف اندازواسلوب میں یہی کہناتھاکہ ہم حکومت کے وفادار رہیں ، دیش کے بھی وفادار رہ سکتے ہیں۔ دیش سے وفاداری تب مانی جائے گی جب حکومت سے آپ وفادار ہوں ۔
گھمسان کارن پڑا۔ جب وہ اپنی بات کہہ کر اٹھے تو لگاکہ واقعتایہ ان کی باتیں نہیں ہیں بلکہ حکومت کاایجنڈا ہے جسے وہ تھوپنے آئے تھے۔ طرفہ تماشا یہ رہاآدھے سے زیادہ حاضر افرادان کی باتوں سے متفق نظر آئے۔ اسی لئے میں نے منتظم کے کان میں کہاتھاکہ ’’تمہارے سامعین کی تربیت کی ضرورت ہے ورنہ سارا شہر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا‘‘
۲۔ ٹِرک اپنی اپنی
وہ چائے ٹھنڈی کرکے پیتاہے۔ زندگی کی بھاگ دوڑ اور لپاڈُپّی کے دوران وہ بہت ہی گرم چائے نوش کیاکرتاتھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب آتش جوان تھا۔
اب وہ چائے ہی نہیں کسی گر ماگرم مسئلہ کو بھی ٹھنڈاہونے کے بعد ہاتھ میں لیتاہے۔ پھر وہ مسئلہ اس تیزی سے سلجھالیتاہے کہ سامنے والے کوراضی ہونے کے علاوہ چارہ نہیں رہتا۔
۳۔ بے وقوفانہ مشاہدہ
محکمہ پولیس نے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں کو تاکید کردی تھی کہ لازمی طورپر گھر کے باہر کیمرا لگایاجائے ۔ اس سے ٹریفک کنڑول ہونے کے ساتھ ساتھ چوری کی واردات کرنے والوں کوپکڑسکتے ہیں۔
عوام نے ایسا ہی کیا، ان سی سی ٹی وی کیمروں کی وجہ سے کئی ایک چور پکڑے گئے۔
یہ ظاہری اپلبدھی تھی۔ اندرونی حال یہ تھاکہ ہرفرد اپنے پڑوسی اور دینی بھائی پر نظر رکھنے کے لئے کچھ ایسے کیمرے لگائے ہوئے تھا جوکسی کو پتہ ہی نہیں تھے۔ کب کس کی جاسوسی ہوجائے کہانہیں جاسکتاتھا۔ سب لوگ رات دن ظاہری کیمروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اندر لگائے گئے کیمرے خود اس بے وقوفانہ بیرونی مشاہدے پرہنس رہے ہیں۔
۴۔ جعلی صلواتیں
میں نے کہا’’سیاسی شخصیت بھی شراب کی مانند ہوتی ہے۔ جس کانشہ اس وقت تک چڑھارہتاہے جب تک وہ فائدہ مند ہوتی ہے جیسے ہی اس کافائدہ ختم ہوتاجاتاہے ، ویسے ویسے اس سیاسی شخصیت سے لوگ دور ہوجاتے ہیں‘‘
وہ بولا’’کہناکیاچاہتے ہو؟‘‘ میں نے کہا’’یہی کہناچاہتاہوں کہ کسی کابھی سورج چڑھا نہیں رہتا،لہٰذا چڑھتے سورج کی پوجا چھوڑ کر وفاداری کرتے رہو۔ وفاداری سے اللہ خوش ہوتاہے‘‘
وہ اٹھاکر اور مجھے صلواتیں سناتاہواچلاگیا۔
۵۔ اولادوں کی زندگی
باپ نے ذلتیں اٹھاکر اولاد کوپالا پوساتھا۔ اولاد جب بڑی ہوئی تو سب سے پہلے انھیںمیلے اور گندے کپڑے پہننے والے اپنے ہی باپ سے نفرتہوگئی۔ کسی نہ کسی طرح چاروں بھائیوں نے اپنے باپ اور اپنی ماں سے اپنادامن چھڑالیا۔ آج وہ چاروں مختلف علاقوں میں خوشی سے رہ رہے ہیں۔ انہیں اپنے والدین کی یاد نہیں آتی۔ البتہ بچوں سے بڑا لگاؤ ہے۔
