عبدالرحمن راشد عمری
خود کو پہلے فنا کیجیے
پھر امید بقا کیجیے
نفرتوں سے بچا کیجیے
بس محبت کیا کیجیے
برکتیں چھن گئیں رزق کی
اب تو صدقہ کیا کیجیے
اور ہو جائے گا قد بڑا
سب سے جھک کر ملا کیجیے
زندگی پار لگ جائے گی
عزم کو ناخدا کیجیے
داغ سب دل کے دھل جائیں گے
ذکر رب کا کیا کیجیے
عقل پابند سود و زیاں
دل کو اب رہنما کیجیے
اس طرح بھی کریں نیکیاں
مسکرا کر ملا کیجیے
نام راشد کا چمکے گا خوب
ساتھ سب کے بھلا کیجیے
