مدثر احمد شیموگہ
چھوٹے شہر کی چھوٹی سی لڑکی، زہرہ کا بچپن بھارت کے چھوٹ سے گاؤں کے سبزہ زاروں اور ممبئی کی تیز
رفتار گلیوں میں بکھر گیا تھا۔ ایک ہاتھ میں اسکول کی کتابیں، دوسرے ہاتھ میں رنگ برنگی ٹافیاں، زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے وہ ہر دن بڑی معصومیت سے آگے بڑھتی رہی۔ مگر زندگی کے امتحان اس کی معصومیت سے کہیں بڑے نکلے۔
زہرہ اپنے چھوٹے خوابوں کی بڑی تعبیر دیکھنا چاہتی تھی، جب زہرہ ایک نئی دنیا کی امید میں قطر کے دوحہ پہنچی۔ وہاں کے اجنبی چہروں اور کام کے طویل اوقات میں وہ ہر شام خود کو دلاسہ دیتی کہ یہ سب ایک بہتر کل کے لیے ہے۔ مگر قسمت نے ایسا وار کیا کہ ساری امیدیں لمحوں میں بکھر گئیں۔ ایک ایجنٹ نے دبئی کی شاندار کہانی سنائی اور کہا کہ وہاں اس کے لیے "روشن زندگی” منتظر ہے۔
لیکن دبئی کے خوابوں کا دروازہ صوبہ سندھ کے اندھیروں میں کھل گیا۔ زہرہ کو دھوکے سے بیچ دیا گیا۔ تین مہینے کا یہ کرب اس کے لیے صدیوں جیسا بن گیا۔ وہاں سے بھاگ کر جب وہ کراچی پہنچی تو سڑکیں ہی اس کا مسکن بن گئیں۔ کبھی فٹ پاتھ پر رات بسر ہوتی، کبھی کسی دکان کے سائے میں دن نکلتا۔
پھر ایک دن، زندگی نے اسے نئی روشنی دکھائی۔ عارف نام کا ایک شخص اس کے لیے مسیحا بن گیا۔ وہ اس کا سہارا، اس کا ہمسفر بنا۔ عارف کے ساتھ ایک چھوٹا سا گھر اور دو معصوم بچے اس کی زندگی کا مرکز بن گئے۔ مگر خوشیوں کی عمر مختصر ہوتی ہے۔ ایک دن عارف کی موت کے بعد زہرہ ایک بار پھر اکیلی رہ گئی۔
اسی دوران کراچی کے صحافی رحمت خان نے زہرہ کی زندگی کی کہانی سنی۔ وہ شخص، جس نے بچپن میں زہرہ کو گلی میں ٹافیاں بیچتے دیکھا تھا، اس کی مدد کے لیے آگے آیا۔ ایک انٹرویو نے زہرہ کی آواز کو دنیا تک پہنچایا۔ یہ آواز ممبئی میں اس کی بیٹی صائمہ کے کانوں تک پہنچی۔ صائمہ نے سوشل میڈیا پر وہ وائرل ویڈیو دیکھی اور برسوں پرانی یادوں کے ٹکڑوں کو جوڑ کر اپنی ماں کو پہچان لیا۔
رابطے بحال ہوئے۔ بھارتی ہائی کمیشن نے زہرہ کو واپسی کا راستہ دکھایا۔ اسلام آباد سے لاہور اور پھر واہگہ بارڈر تک کا سفر زہرہ کے لیے زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز تھا۔ 22 سال بعد جب زہرہ نے وطن کی سرزمین کو چوما، تو اس کے آنسو اس کی کہانی خود سنانے لگے۔
بارڈر کے اس پار، صائمہ اور اس کی بہن نادیہ نے ماں کو سینے سے لگایا تو جیسے وقت تھم گیا۔ زہرہ کے آنسو گواہی دے رہے تھے کہ سرحدوں کی دیواریں صرف زمین پر کھنچی ہیں، دلوں کے بیچ نہیں۔
رحمت خان اس منظر کا گواہ تھا۔ اس نے خوشی سے کہا:
"یہ دن اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانیت سب سے بڑی طاقت ہے۔ نفرتوں کی دیواریں انسانوں کو الگ نہیں کر سکتیں۔”
لیکن زہرہ کی کہانی کے ساتھ ایک اور سایہ تھا—شبنم نام کی عورت جو اس کے ساتھ کراچی لائی گئی تھی۔ شبنم کی زندگی بھی زہرہ جیسی تھی، مگر آج وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں اکیلی اپنی قسمت پر نوحہ کناں ہے۔
رحمت نے عزم کے ساتھ کہا، "میں شبنم کو بھی واپس لانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس کے حق کا سورج بھی ضرور طلوع ہوگا۔”
زہرہ کی کہانی ان تمام لوگوں کے لیے روشنی ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں راستہ بھٹک گئے ہیں۔ یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ امید کبھی نہیں مرتی اور خواب، چاہے جتنے دور ہوں، ایک دن گھر لوٹ ہی آتے ہیں۔
