مکرمی!
آج کل مدنی مسجد ہاٹاضلع کشی نگراخبار کی سرخیوں میںہے، یہ مدنی مسجد کشی نگر کا تبلیغی واصلاحی مرکرز ہے جہاں تعلیم وتربیت کاہفتہ واری پروگرام ہوا کرتا ہے جس میں علمائے کرام وعظ ونصائح پیش کرتے ہیں جس سے اس علاقہ میں کافی اصلاح ہورہی ہے ،تشنگان دین اپنی دینی پیا س بجھانے کے لئے یہاں شریک ہوتے ہیں جس سے ان کی انفرادی واجتماعی زندگی میں انقلاب پیدا ہورہا ہے یہ مرکز جہاں سماج کو ایماندار،امانت دار شہری فراہم کررہا ہے وہیں ملک کے ساتھ وفاداری کا شعور بھی بیدار کررہا ہے جس پر الزام ہے کہ مونس ملٹی کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی ہے،حالانکہ یہ الزام بالکل غلط ہے، کیونکہ معلوم ہے اسلام میں مسجد ارض مغصوبہ پر قائم نہیں کی جاسکتی ،ملک کے حالات کو نفرت کے ماحول میںجھوکنے کی گھناؤنی سازش ہے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کل آراضی ۳۳ تینتیس ڈیسمل ہے جو مسجد کے نام سے رجسٹرڈ ہے، جس میں صرف۲۸ اٹھائیس ہی ڈیسمل پر مسجد کی تعمیر ہوئی ہے، مگروہاں کا ایس پی اس کو نظر انداز کرکے پولیس کی پررعب انداز میںمعزز شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کررہا ہے اور اپنے حد سے تجاوز کرتے ہوئے بڑی بدتمیزی سے پیش آرہا ہے اور مغلظات بکنا اپنا معمول بنا رہا ہے، اللہ کا شکر ہے کہ یہاں کے دانشور مسلمانوں نے صبر وضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی اس سازش کو ناکام بنا دیا، اور ہاٹا کو سنبھل بنانے سے بچا لیا،پولیس محکمہ میں یہ عہدہ کافی سنجیدہ سمجھا جات ہے، مگر اس نے اس کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے معزز شہریوں کی بے عزتی کی ہے ، اس کو یہاں تک احساس نہیں ہے کہ ہم ڈاکوؤں اور چوروں سے نہیں بلکہ اس معزز شہریوں سے بات کررہے ہیں اس کی اس نازیبہ حرکت سے اقلیتی طبقہ کا فی برہم ہے۔
اگر ہم آزاد ہندوستان میں منادر ومسجدوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سو فیصد مسجدیں اپنی جائداد یا وقف کی جائداد پر قائم ہیں، کیونکہ اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتاکہ کوئی مسجد ارض مغصوبہ پر قائم کی جائے ،تو دوسری طرف ہمارے ملک میں جتنے مندر ہیں وہ تقریباً نوے فیصدحکومت یانیم سرکاری آراضی پر قائم ہیں،مگراس کے باوجود آج مساجد کی آراضی پرناجائز حکم نامہ جاری کرکے اقلیتی طبقہ کو پریشان کیا جارہا ہے، جس سے ملک کا ماحول بد سے بدتر ہوتا چلاجارہا ہے۔
سپریم کورٹ کا آرڈر ہے کہ اس قسم کی حرکت نہ کی جائے ،جس سے پیار محبت کا ماحول خراب ہو مگروزیر اعلیٰ یوپی کے اشارے پر ہاٹا پولیس شتربے مہار ہوکر رہ گئی ہے،اس مراسلہ کے ذریعہ لکھنؤ کے پولیس اعلیٰ کے ذمہ داروں سے مطالبہ ہے کہ ایسے ایس پی کا مواخدہ ہونا چاہئے، اور اس کا تبادلہ فوری کرنا چاہئے، ورنہ یہ شخص ہاٹا کوسنبھل بنا سکتا ہے۔جس کی ساری ذمہ داری یوپی سرکار کی ہوگی۔
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
      قومی نائب صدر مسلم  پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
    حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی (9839394368)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے