مکرمی!
حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے ،جو صاحب نصاب پر عمر میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے، جس میں حج مبرورکا ثواب کافی اہمیت کا حامل ہے، مگر حج مبرور ہویا عام حج، عمر میں صرف ایک ہی مرتبہ فرض ہے تو دوسری طرف مسلم معاشرہ کے بعض تقاضے ایسے بھی ہیں جو صرف عمر میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ تاحیات فرض ہیں، مگر ان تقاضوں کی طرف ہماری توجہ نہیں ہے، آج امت اسلامیہ ہندیہ افراط وتفریط کا شکار ہے، ہمارے معاشرے کی ایک اچھی خاصی تعداد ہے جو حج فرض ہونے کے بعد بھی حج نہیں کرتی ،تو دوسری طرف مالداروں کی ایک اچھی تعداد ایسی ہے جو نفلی پر نفلی حج کئے جارہی ہے ، ان حضرات کو معاشرہ میں رونماہونے والے حالات وتقاضوں کا علم نہیں ہے ؟ان کو نفلی حج سے ثواب میں کمتر سمجھ رہے ہیں۔
جب اسلام کی تعلیمات پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے بعضـ فرائض پر معاشرہ کے تقاضوں کو ترجیح دیا ہے، جس کی ایک مثال عہد نبوی سے پیش کی جاسکتی ہے، جہاں جہاد کاعام اعلان ہوچکا ہے، ایک صحابی دربار رسالت میں حاضر ہوتے ہیں اور جہاد میں جانے کی اپنی خواہش ظاہر کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا تمہارے والدین زندہ ہیں تو انہوں نے عرض کیا کہ میری والدہ زندہ ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ ان کی خدمت کرو یہ تمہارے لئے جہاد ہے ، معلوم ہوا کہ بعض اوقات ماں کی خدمت اسلام میں فریضہ جہاد سے افضل ہے۔
(۱) آج ہم کو مسلم معاشرہ کے تقاضوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ،آزاد ہندوستان میں ہمارے سیکڑوں تقاضے و مسائل ایسے ہیں جو ہم کو موجودہ زندگی کے تانے بانے پر نظر ثانی کی دعوت دیتے ہیں، جس کی طرف ہماری توجہ نہیں ہورہی ہے ،مثال کے طور پر آج ہمارے ملک ہندوستان میں مسلم میڈیا کی سخت ضرورت ہے جو حق گو اور بے باک ہو،خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الکٹرانک میڈیا، مبارکباد دینا چاہتاہوں ان حضرات کو جو اس میدان میں کام کررہے ہیں،جس میں دوچینلوں سے برابر مالی امداد کی اپیل ہوتی رہتی ہے،حسن اتفاق یہ دونوںندوی حضرات ہیں جو حق گوئی وبے باکی میںایک مثالی شخصیت کی حامل ہیں،یہ حضرات ایک اہم فریضہ انجام دے رہے ہیں بلکہ یہ حضرات امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کررہے ہیں ۔
(۲) آج مسلم معاشرہ کی لاکھوں دوشیزائیں بڑی تمناؤں کے ساتھ نکاح کی دھلیز پر کھڑی ہیں وہ نکاح سے منسلک ہوکر ازدواجی زندگی گذارنے کا خواب دیکھ رہی ہیں، مگر کوئی مسلم نوجوان اس بے یارومددگار،مفلوک الحال طبقہ کی طرف ہاتھ بڑھاتا نظر نہیں آیاتو دوسری طرف غیر مسلم نوجوان ہاتھ بڑھا کر ان کو مرتد بنارہا ہے یا یہ مرتد ہورہی ہیں!
(۳) لاک ڈاؤن کے بعد سے مدارس اسلامیہ کی اقتصادی حالت کافی کمزور ہوچکی ہے،کئی کئی ماہ اساتذہ کی تنخواہ نہیں مل رہی ہے،مطبخ کا نظام بھی کچھ بہتر نہیں ہے ،یہ بھی تو مسلم معاشرہ کا ایک اہم تقاضہ ہے ،جس کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، صرف زکوٰۃ ،صدقات،فدیہ اورایصال ثواب سے مدارس نہیں چلا کرتے بلکہ مسلمانوں کو اپنی گاڑھی کمائی سے امداد وعطیہ کی رقم پیش کرنا چاہئے۔
(۴) علم و آگہی اسلام کا ایک سنہرا باب ہے ،غار حرا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرجو سب سے پہلی وحی نازل ہوئی وہ اس کی اعلیٰ مثال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا ہے کہ میں صرف معلم یعنی استاد بنا کر مبعوث کیاگیا ہوں، مگر آج ہمارے بچے مالی حالت کمزور ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہوتے جارہے ہیں،اور ہماری اس کی طرف توجہ نہیں ہے۔
(۵) آج مسلم معاشرہ کو طبی وتعلیمی اداروں کی ضرورت ہے، اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی بناڈالنا معاشرہ کا ایک اہم تقاضہ ہے تاکہ ہمارے بچے طبی وتعلیمی میدان میں آگے بڑھ سکیں۔
میں نے اس مختصرمراسلہ میں چند اہم تقاضوں کا ذکرکیا ہے اس کے علاوہ بیشمار مسائل ہیںجو فرض کفایہ کا درجہ رکھتے ہیں وہ نفلی حج سے ثواب میں کم نہیں ہیںبلکہ برتر ہیں؟
کیا مسلم دوشیزائیں جو ارتداد کے دھلیز پر کھڑی ہیں ان کو ارتداد سے بچانا ثواب میں نفلی حج سے کم ہے؟
کیا موجودہ حالات میںمدارس کی طرف خصوصی توجہ دینا اس سے افضل نہیں؟
کیا مسلم معاشرہ کو تعلیم یافتہ بنانا ،اعلیٰ تعلیم وتربیت اور طبی سہولیات فراہم کرنا ثواب میں کم ہے؟
یقینا معاشرہ کے یہ چند مسائل فرض کا درجہ رکھتے ہیں جوموجودہ طرز زندگی پر نظرثانی کی دعوت دیتے ہیں۔
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں مری بات
انداز بیاں گر چہ بہت شوخ نہیں ہے
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی
