غزل

دسمبر 23, 2024

انصر نیپالی 

 

ترے در پر مجھے آنا پڑا ہے

دل ناداں کو سمجھانا پڑا ہے

چمن کی زندگی کتنی کڑی ہے

گلوں کو کھل کے مرجھانا پڑا ہے

یہ دنیا دل لگانے کی نہیں ہے

یہاں سے ایک دن جانا پڑا ہے

نہ جاؤ توڑ کر عہد محبت

تری خاطر بہت سہنا پڑا ہے

اوڑھا دو گیسؤں کا مجھ پہ سایہ

سلگتی دھوپ میں جلنا پڑا ہے

تمہاری زندگی میں پھر سے جاناں

روایت توڑ کے آنا پڑا ہے

وفائیں کہہ رہیں ہیں آج انصر

تمہاری زندگی جینا پڑا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے