انصر نیپالی
ترے در پر مجھے آنا پڑا ہے
دل ناداں کو سمجھانا پڑا ہے
چمن کی زندگی کتنی کڑی ہے
گلوں کو کھل کے مرجھانا پڑا ہے
یہ دنیا دل لگانے کی نہیں ہے
یہاں سے ایک دن جانا پڑا ہے
نہ جاؤ توڑ کر عہد محبت
تری خاطر بہت سہنا پڑا ہے
اوڑھا دو گیسؤں کا مجھ پہ سایہ
سلگتی دھوپ میں جلنا پڑا ہے
تمہاری زندگی میں پھر سے جاناں
روایت توڑ کے آنا پڑا ہے
وفائیں کہہ رہیں ہیں آج انصر
تمہاری زندگی جینا پڑا ہے
