گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد میں پہلے خواتین یوم تعلیم تقریب، خاتون اساتذہ کو تہنیت
ظہیر آباد 3 /جنوری(مشرقی آواز جدید): ہندوستان میں خواتین کو زیور تعلیم سےآراستہ کرنے اور انہیں بااختیار بناتے ہوئے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرانے میں ملک کی پہلی خاتون معلمہ ساوتری بائی پھولے اور ان کی ساتھی فاطمہ شیخ نے اہم کردار ادا کیا۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد ملک کی پہلی خاتون ٹیچر کو خراج پیش کرنے کے لیے ان کے یوم پیدائش 3 جنوری کو حکومت تلنگانہ نے خواتین کے یوم تعلیم کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ ملک کی پہلی خاتون ٹیچر اور موجودہ دور کی خاتون اساتذہ کے لیے ایک اہم اعزاز کی بات ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ساوتری بائی پھولے اور فاطمہ شیخ کی خواتین تعلیمی تحریک کی اہمیت کو جانیں اور موجودہ دور میں خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں ترقی حاصل کرنے کے مواقع فراہم کریں۔ بیٹی بڑھاؤ بیٹی پڑھاؤ نعرے کی حقیقیت یہ ہے کہ ہمیں خواتین کا احترام کرنا ہوگا اور ان کی بہتر پرورش کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع اور تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔
گورنمنٹ ڈگری کالج میں لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے اور انہیں پڑھانے کے لیے کالج میں 8 خاتون اساتذہ بھی برسر پیکار ہیں جنہیں آج پہلے خواتین یوم تعلیم کے موقع پر کالج کی جانب سے تہنیت پیش کی جارہی ہے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج نے اپنے خطاب میں کیا۔ اس تقریب سے کالج کے وائس پرنسپل ڈاکٹر بی لچیا ڈاکٹر سریندر اسسٹنٹ پروفیسر سیاسیات ایس راملو اسسٹنٹ پروفیسر معاشیات کالج کے دیگر لیکچررز محمد مظفر ڈی پریتی، ڈاکٹر رابعہ تحسین، مسرت بیگم، فاطمہ بیگم، عشرت بیگم، اسماء بیگم اور کالج کی طالبات نے خطاب کیا اس تقریب کے انعقاد کے لیے کالج کے پرنسپل اور حکومت تلنگانہ سے اظہار تشکر کیا گیا۔
اس موقع پر کالج کی خاتون لیکچررز ڈی پریتی، ڈاکٹر رابعہ تحسین، مسرت بیگم، فاطمہ بیگم، عشرت بیگم، اسما بیگم کی شال پوشی کی گئی اور انہیں گلہائے عقیدت پیش کیا گیا۔۔۔
