گونڈہ: ۲/ رجب المرجب ۱۴۴۶ھ بمطابق ۳/جنوری ۲۰۲۵ع مسجد ناصر العلوم اسٹیشن روڈ صاحب گنج بڑگاؤں گونڈہ یوپی میں جمعہ کے خطبہ میں مولانا مقیت احمد قاسمی نے بعنوان اتحاد و اتفاق کی اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے کہا : کہ یہ بات سچ ہے کہ اتحاد و اتفاق میں طاقت ہے جبکہ نفاق اور انتشار میں کمزوری ہے گھر سے لے کر ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح تک اتحاد کی سخت ضرورت ہے، جن گھروں اور جن ملکوں میں اتحاد قائم رہتا ہے وہ گھر اور وہ ممالک ترقی کی مختلف منزلیں طے کر کے کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہیں ، جبکہ جن گھروں ملکوں اور قوموں میں پھوٹ پڑتی ہے ان کا نام و نشان مٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی، کسی بھی منتشر قوم اور ملک کو زیر کرنا بہت آسان ہوتا ہے جبکہ کسی بھی متحد قوم کو قابو میں کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، اتحاد ایک دیوار کی مانند ہوتا ہے جب تک دیوار سالم ہوتی ہے اس سے ایک اینٹ نکالنا یا ہلانا ناممکن ہوتا ہے ، لیکن دیوار میں دراڑیں پڑنے کے بعد کوئی کمزور انسان بھی اس کی اینٹ نکال کر لے جا سکتا ہے ، موجودہ دور میں جہاں پوری دنیا منتشر ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے وہاں امت مسلمہ میں کچھ زیادہ ہی انتشار اور پھوٹ کی شکار ہے ، جس کی وجہ سے امت مسلمہ پوری دنیا میں بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ،غیروں نے امت مسلمہ کو اپنے بس میں کر لیا ہے اگرچہ اس قوم میں نہ ہی ہمت استقلال کی کمی ہے اور نہ ہی علم و حکمت کی ، نہ ہی افرادی قوت کی کمی ہے، کمی اگر ہے تو صرف اتحاد و اتفاق کی ، افسوس کی بات ہے کہ جو قوم ایک خدا کو ماننے والی ہو جس قوم کا کعبہ ایک ہو جس قوم کا قرآن ایک ہو اور جو قوم ایک نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ پر چلنے والی ہو اس میں نفاق کیسا اور کیوں کر ہے؟
مولانا نے ۲۵/منٹ کے خطبہ کو سورہ آل عمران کی آیت ۱۰۳/ کی تلاوت کرتے ہوئے ترجمہ کیا، ” اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو اوراللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ پیدا کردیا پس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔ اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔
جبکہ سورہ انعام آیت ۱۵۹/میں اللہ عزوجل نے فرمایا : "بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور خود مختلف گروہ بن گئے اے محبوب ! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ ان کا معاملہ صرف اللہ کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کیاکرتے تھے”
اسی طرح احادیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ” کہ میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جیسا کہ بنی اسرائیل پر آیا تھا بالکل درست اور ٹھیک جیسی کہ دونوں جوتیاں برابر اور ٹھیک ہوتی ہیں یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں سے اگر کسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ بدفعلی کی ہوگی تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو ایسا کریں گے اور بنی اسرائیل کی قوم ۷۲/ فرقوں میں منقسم ہو گئی تھی میری امت ۷۳/ فرقوں میں منقسم ہوگی جن میں سے ایک فرقہ جنتی ہوگا اور باقی سب دوزخ میں جائیں گے ،صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ جنتی فرقہ کون سا ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ فرقہ جس میں میں ہوں اور میرے اصحاب ” (ترمذی)
حضرت معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکری کا بھیڑیا ہوتا ہے جو اس بکری کو اٹھا لے جاتا ہے جو ریوڑ سے بھاگ نکلی ہو یا ریوڑ سے دور چلی گئی ہو یا ریوڑ کے کنارے پر ہو اور بچو ! تم پہاڑ کی گھاٹیوں یعنی گمراہیوں سے اور جماعت اور مجمع کے ساتھ رہو، ” ( رواہ احمد)
اختلاف و انتشار کا نقصان اس قدر ہے کہ شب قدر کی تعیین امت سے اٹھا لی گئی ۔ بنگلور کی کسی مسجد میں اس قدر اختلاف بڑھا کہ جھگڑے کی نوبت آگئی اور موقع پر پولیس پہنچ کر کتوں کو مسجد میں چھوڑ کر مسجد مقفل کی گئی، کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں تاتاری مسلمانوں کو ایک طرف سے کاٹ رہے تھے جبکہ بہت سے لوگ اصحاب کہف کے کتے کے رنگ کولے کر باہم دست و گریباں تھے۔
نفس اختلاف مضموم نہیں ہے اگر ادب و احترام ملحوظ رکھا جائے
خود انبیاء کرام علیہم السلام کا یہ حال ہے کہ وہ اصول میں تو متحد ہیں مگر فروع میں ان کے درمیان بھی اختلاف رہا ہے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علی نبینا علیہم الصلاۃ والسلام دونوں نبی تھے اور ایک ہی وقت میں تھے لیکن کئی فیصلوں میں ان کا آپس میں اختلاف ہوا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے دونوں کی تعریف فرمائی، بدر کے قیدی کے تعلق سے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓ کا اختلاف ہوا حضرت ابوبکرؓ کی رائے چھوڑ دینے کی تھی جبکہ حضرت عمر ؓ سب کی گردنیں اڑا دینے کی اور اس موقع پر حضورﷺ نے فرمایا : ابوبکرؓ تمہاری مثال حضرت ابراہیم اور حضرت عیسی علیہما السلام جیسی ہے اور عمر ؓ تمہاری مثال حضرت نوح اور حضرت موسیٰ علیہما السلام جیسی ہے، بہت سی چیزوں میں صحابہ کا تابعین کا تبع تابعین کا باہم اختلاف ہوا ہے مگر انہوں نے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا نہ فتوے لگائے، نہ ایک دوسرے کی تکفیر کی اور نہ ہی اپنی فقہی رائے کو دوسرے پر زبردستی ٹھونسنے کی کوشش کی، کیونکہ ان میں اخلاص تھا، ان کا مقصد خدا کی رضا تھی، نفس پرستی، شہرت اور دکھاوے سے وہ اپنے آپ کو بہت بچا کے رکھتے تھے،
دوران خطاب مولانا نے کہا : اتحاد و اتفاق کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایسے لوگوں سے دور ہو جائیں جو نفرت پیدا کرتے ہیں اور اختلاف و انتشار کو بڑھاتے ہیں، علاوہ ازیں سورہ آل عمران کی آیت ۱۶۴/ پر عمل کرتے ہوئے متحد ہوں کہ جس میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے : "اے محبوب نبی ! تم فرمادو، اے اہلِ کتا ب! ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں کوئی ایک اللہ کے سوا کسی دوسرے کو رب نہ بنائے پھر (بھی) اگر وہ منہ پھیریں تو اے مسلمانو! تم کہہ دو : ’’تم گواہ رہو کہ ہم سچے مسلمان ہیں ‘‘۔
آج ہمارے درمیان تشخصات کے لیے اختلاف پایا جا رہا ہے ہمیں چاہیے کہ تشخصات ختم کر کے اللہ اور اس کے رسول کی رنگ میں نظر آ ئیں ۔ فروعات و رسومات پر بے جا اصرار سے گریز کریں کہ زیادہ تر اختلاف فروعی مسائل کو لے کر پایا جاتا ہے۔ شخصیت پرستی کو چھوڑ کر قرآن و حدیث کو اپنی کامیابی کے لیے مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیں ۔ اور نفس پرستی کے بجائے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر اپنا سر نیاز خم کر دیں۔ ان شاءاللہ اتحاد و اتفاق پیدا ہوگا اور اختلاف و انتشار کا خاتمہ ہوگا ۔۔۔۔۔
متحد ہو تو بدل ڈالو نظام عالم!
منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو؟
اللہ عزوجل ہمیں اتحاد اتفاق کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ، اور ہر قسم کے اختلاف و انتشار سے پوری امت مسلمہ کو محفوظ فرمائے آمین ثم آمین۔
