طیب نفس اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے ، طيب نفس واطمينان قلب کا تعلق نا مال وزر سے ہے اور نا ہی عزت و شہرت سے ، نا مرض وخوف سے اور نا ہی صحت وعافیت سے بلکہ اس کاسیدھا تعلق تعلق باللہ سے ہے، ایمان و اعتقاد سے ہے ، علم نافع وعمل صالح سے ہے ،تقوی وطہارت عفت و پاکدامنی سے ہے ، جب دل کی جڑوں میں ایمان و اعتقاد مضبوطی سے بیٹھ جاۓ رضا بالقضاء کی صفت پیدا ہوجاۓ ،اور صراط مستقیم پر استقامت وثبات قدمی آجاۓ تو یہی سعادت کی بات ہے ، اسی سے روح کو ٹھنڈک ملتی ہے ،اور ظاہری وباطنی طور پر انسان خوش وخرم ہوتا ہے ، سخاء نفس اور طیب نفس اگر کسی کو حاصل ہے تو سمجھ لینا چاھیے کہ ان کے پاس خیر کثیر ہے ،
کتبہ:
محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
