مکرمی!
آج صہیونی افواج نے غزہ کو کھنڈربنادیا، لبنان کو کھنڈر بنانے کی شروعات کرچکا ہے،فلسطینیوں کا قتل عام کررہا ہے بلاتفریق خواتین حتیٰ کہ شیرخواربچوں کو نہیں بخشا جارہا ہے، جنگ کے دوران بین الاقوامی ضابطوں کی دھجیاں اڑا رہا ہے،ہماری غیرت ایمانی کو للکارتانہیں بلکہ دفن کرکے رکھ دیا ہے، اور آج ہم صرف بیان بازی پراکتفا کئے ہوئے ہیں،یہ وقت ہے کہ سارے مسلم ممالک متحد ہوکر کوئی عملی اقدام کریں، سب سے پہلا اقدام جو ہم کرسکتے ہیں وہ یہ ہونا چاہئے کہ سارے مسلم ممالک اسرائیل سے فوری طورپر سفارتی تعلقات منقطع کرلیں،اور دوسرا اقدام یہ ہونا چاہئے کہ امریکہ واسرائیل کے سارے پروڈکٹ کا بائیکاٹ کریں، توتیسری طرف ان مسلم ممالک کے باشندے نیز دنیا کے سارے غیرت مند مسلمان یہ خاموش جہاد شروع کردیں اور اپنے ضمیر سے عہد کریں کہ ہم اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی حمایت میں امریکہ واسرائیل کے پروڈکٹ استعمال نہیں کریں گے، ٹوتھ پیسٹ سے لیکرمشینری کے سارے اوزارو ں کا بائیکاٹ کریں۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ ساری دنیا تم پر ٹوٹ پڑے گی جس طرح کھانے والے کھانے کی پلیٹ پر ٹوٹ پڑتے ہیں،سوال ہوا کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے!نہیں تم تعداد میں زیادہ ہوگے مگر تمہاری حیثیت سیلاب کی جھاگ کی طرح ہوکر رہ جائے گی اور اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں دشمن کا رعب اور کمزوری پیدا کردے گا،صحابہ کرام نے عرض کیاکمزوری کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی محبت اور موت سے راہ فرار۔
آج صورت حال سارے مسلم ممالک کایہی ہے کہ ان کوجہادکا نام لیتے ہی پاؤں میں لرزہ طاری ہوجاتا ہے،جب کہ معلوم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے جس پر کسی کو ظلم ڈھانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور ہم اوریہ مسلم ممالک کیا جواب دیں گے؟ اللہ کے واسطے پہلی فرصت میںخاموش جہاد شروع کردیں اور امریکہ اور اسرائیل دونوں کے پروڈکٹ کا مکمل بائیکاٹ کریں وہاں کی بنی ہوئی چنداشیاء حاضرخدمت ہیں۔
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی
