مکرمی!
پڈرونہ ،کشی نگر، جامعہ رحمانیہ اسلامیہ، رحمان نگر ،سیمرا ہردو ،پڈرونہ کشی نگر میں مشرقی یوپی کے مشہور وجید حافظ خلیل احمد بانی ومہتمم مدینۃ العلوم کرم ڈیہہ بگی روڈ گونڈوی کے سانحۂ ارتحال پر تعزیتی جلسہ ہوا ،جس میں جامعہ کے سارے اساتذہ وطلبہ نے قرآن خوانی کرکے مرحوم کو ایصال ثواب کیا اور دعائے مغفرت کی ، جس کا آغاز شعبۂ حفظ کے طالب علم حافظ شوکت علی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس میں جامعہ کے سربراہ مولانا احمدکمال عبدالرحمن ندوی نے بڑے رنج وغم کے ساتھ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے مشرقی یوپی اور خاص طورپر گورکھپورکمشنری میں پہلے حافظ قرآن ہیں جنہوں نے بھٹنی جامعہ اسلامیہ گورکھپور کے ذریعہ شعبۂ حفظ قائم کرنے کا رواج ڈالا یہاں مسلسل تیس سال خدمت کرکے ہزاروں کی تعداد میں حفاظ قرآن فراہم کیا ، مرحوم کی کوشش سے اس علاقہ میں تروایح رمضان میں ختم قرآن کے دور کی شروعات ہوئی ،گویا انہوں نے ایک سنت کو زندہ کیا،جس کا ثواب ستر شہیدوں کا آج ان کو مل رہا ہے ،آج ملک وبیرون ملک ان کے شاگرد دینی خدمت انجام دے رہے ہیں ، جب بھی ان کا سفر کچھ اپنے شاگردوں کی دعوت پر کشی نگر ہوا تو اس فقیر سے ملاقات کیلئے تشریف لاتے۔
۱۹۸۲ء مرحوم نے اپنے آبائی گاؤں کرم ڈیہہ بگی روڈ گونڈہ میں حفظ قرآن کی خدمت کے لئے ’’مدینۃ العلوم‘‘ قائم کیا ،تاحیات اس کی خدمت انجام دیتے رہے ،مرحوم کی عمر تقریباً اسی سال تھی وہ کئی سال سے علیل چل رہے تھے ،چلنے پھر نے سے کچھ معذور ہوچکے تھے تاہم حفظ قرآن کی خدمت کرنے میں کوئی کمی نہیں آئی، یہ درخشاں ستارہ ۲۶؍دسمبر۲۰۲۴ء بروز جمعرات اپنے رب حقیقی سے جاملے۔انا للہ وانا الیہ راجعون،اللہ تعالیٰ ان بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی خدمت قرآنی کوذخیر آخرت بنائے۔
مرحوم کے بھٹنی جامعہ اسلامیہ میں قیام کے دوران ان کی دعوت پر شعبۂ عربی وفارسی کے طلبہ کے امتحان کے لئے دو مرتبہ حاضر ہوچکا ہوں،وہاں کے نظام اور طلبہ کے نظم ونسق اور مرحوم کی سادگی سے کافی متاثر ہوا،جب چند سال پہلے مرحوم کی علالت کی خبر ملی تو میں ان کی عیادت کے لئے حاضر ہوا تھا ،ا ن کے سانحۂ ارتحال سے مدارس دینیہ اور ہزار کی تعداد میں ان کے شاگرد وںمیں صف ماتم بچھ گئی، مرحوم کے پسماندگان میں چھ بیٹے اور ایک بیٹی ہے ،ان کے ایک صاحبزادے مولاناخالداحمد ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء میں استاد ہیں، اللہ تعالیٰ سارے پسماندگان کو خاص طور پرمولانا خالد احمدندوی کو صبرجمیل کی توفیق عطا فرمائے۔
شعبۂ حفظ کے صدر مدرس قاری محمد جبریل کی دعا پر اس جلسہ کا اختتام ہوا جس میں حافظ روح الامین ،حافظ مظفر حسین، ماسٹر صدرعالم ،ماسٹر محمد،مولوی اسامہ،حافظ اخلاق، علی حسن انصاری اوربشیرالدین صدیقی شریک رہے۔
