(فائل فوٹو: رشید احمد رشیدؔ)
محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک
کچھ لوگ زندگی ہی نہیں بلکہ زندگی کے بعد بھی مظلوم ہی ہوتے ہیں اور اگر وہ شاعر ہوں تو ان کی مظلومیت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ کوئی باذوق فرد بھی ان کی طرف پلٹ کردیکھتانہیں۔ یہ وہ اذیت ہے جس کاشکویٰ رب تعالیٰ ہی سے کیاجاسکتاہے۔
دورِ حاضر شاعری کادور ہے ، ایسا نہیں کہاجاسکتا لیکن شاعری سے شغف رکھنا، شاعری سننا آج کے ہندوستانی نوجوان(مردوعورت) میں بدرجہ ء اتم پایاجاتاہے۔ لوگ سرچ کرتے ہیں۔ شاعری تلاشتے ہیں۔ پڑھتے اور سنتے ہیں۔سربھی دھننے کااہتمام کرتے ہیں۔ شاعری سننے کے بھی دو طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔شاعری سننے کا ایک طریقہ وہ ہے جس میں شاعر شعر پڑھ رہاہے اور اس کی ویڈیوکلپ لوگ دیکھ رہے ہیں۔ دوسراطریقہ یہ ہے کہ کوئی غزل سنگر ہے جو کسی شاعر کاکلام پڑھ رہاہے ، تنہاپڑھ رہاہے یاکسی محفل میں موسیقی کی لے کے ساتھ پڑھ رہاہے ۔ہم نے ان خوش نصیبوں کوبھی دیکھاہے جن کی غزل یاجن کے اشعار ایک ملین سے زیادہ لوگوں نے دیکھاہے۔ ریلس میں بھی اشعار مل جاتے ہیں، جنہیں ہزاروں لوگ ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہوئے شاعری کالطف لیتے ہیں۔
اب ہم شائع شدہ شاعری کے پڑھنے کی طرف آتے ہیں۔ شاعری پڑھنے کے بھی کئی طریقے ہیں(۱) سوشیل میڈیا کے کئی ایک پلیٹ فارم پر ڈیزائن یابغیر ڈیزائن کی ہوئی شاعری پڑھ لی جائے
(۲) کسی شاعر کی کتاب کو ڈاونلوڈ کرکے اس میں درج شاعر ی پڑھی جائے (۳) کسی ایپ میں اپلوڈ شاعری پڑھ لیں (۴) ویکی پیڈیاپر شاعر کے حالات اور اس کی شاعر ی کو پڑھاجانے کے لئے سرچ کیاجائے ۔ (۵) تراشوں پردرج شاعری پڑھی جائے
اور بھی کوئی طریقہ ضرور ہوگاجو مجھے فی الوقت یادنہیں آرہاہے۔ مذکورہ تمام طریقوں کے معاملے میں شاعر حیات ، فخرِ کرناٹک اور استاد الشعراء حضرت رشید احمد رشید ؔ کافی بدقسمت شاعر واقع ہوئے ہیں۔ نہ کوئی شعر اِدھر اُدھر ان کے شاگرد پہنچاتے ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی کتاب ریختہ یا اس جیسی ایپ پر اپلوڈ ہے۔ کتاب کو ڈاؤنلوڈ کرنے کی نوبت اس لئے نہیں آتی کہ ان کے دونوں مجموعہ ہائے کلام (۱) خم ِ ابرو، 1968مارچ (۲) الہام و یقین 1988ڈسمبر ۔ کہیں پر بھی اپلوڈ نہیں ہے جنہیںڈاؤنلوڈ کرنے کی نوبت آسکے۔
3؍جنوری کوشاعرِ حیات کی 39؍ویں برسی ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے شاعر حیات رشید احمد رشیدؔ کے چنندہ اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
ہرایک شعر میں بھردی ہے وارداتِ حیات
فسانہ ء غم لیل و نہار لایاہوں
آپ شرمندہ ء الطاف نہ فرمائیں مجھے
دل کو اب حوصلہ جرأت ارماں بھی نہیں
آنسوؤں سے اپنے دِل کے داغ دھولیتاہوں
عید کے دن پھوٹ کر کچھ دیر رولیتاہوں
کیا عجب ہے کہ موت ٹل جائے
آپ تشریف لائیے تو سہی
کیاصنعت ِ حسین ہے پروردگار کی
انساں کے بھیس میں ہے جوانی بہار کی
ہنستی ہوئی آئی ہے تباہی میری جانب
روتی ہوئی نکلی ہے تمنا میرے گھر سے
میں جی رہاہوں کہ جینا ہے مرنہیں سکتا
میں ضبطِ درد کی توہین کرنہیں سکتا
بانگ ِ قضا حیات کی تجدید کرگئی
ہاں  موت تجھ کو زندہ ء جاوید کرگئی
لے دے کے چند اشک ہیں سرمایہ ء سکوں
کچھ رولیا ، کبھی توطبیعت بہل گئی
کسی کو موت ، کسی کوحیات ملتی ہے
بقدر ظرف عطا ہے تمہارے درکے قریب
مان کر اپنا خدا، اور جان کر پروردگار
دھن کی پوجا کررہے ہیں سنگدل سرمایہ دار
جان، سوجان سے قربان ہے اے جانِ حیات
زندگی کھیل ہے ہم اہل محبت کے لئے
تلخابہ ء حیات کا پینا حرام ہے
کمزور بن کے ہند میں جینا حرام ہے
شکرِ خدا کہ روحِ ادب شاد کام ہے
بیدر میں وجد ؔ، وجد میں بیدر ہے اِن دِنوں
تاحشر ہند پاک لڑائی نہ ہوسکے
دشمن پھر اپنے بھائی کا بھائی نہ ہوسکے
حالِ رشیدؔ ِ خستہ نہ پوچھوکہ آج کل
یہ بھی غریب صید غم ِ روزگار ہے
دِکھائی سب کو مصور نے برتری اپنی
بشر کے بھیس میں کھینچ دی تصویر اپنی
کیا عشق مکمل ہے ، کیا حسن مجسم ہے
میری ہے کہ تیری ہے تصویر خدا جانے
دعویٰ نہیں رشید ؔ حیات ِ دوام کا
زندوں میں ہے شمار اگر اہل فن ہوتم
ایسے مرنے پہ خضر مرتے ہیں
سر ہے اور ان کاآستانہ ہے
بعد فنا بھی سلسلہ ء زندگی رہا
جوموت سے ہو ختم یہ وہ حادثہ نہ تھا
شاعری ہے کہ یہ پیغامبری ہے کوئی
بات ہم رتبہ ء الہام ہوئی جاتی ہے
آہ! اے دنیا ترے کافر مزے
نقش ِ سطح ِ آب بن کر رہ گئے
ان اشعار میں حضرت رشید احمد رشید ؔکی حمد،نعت ، منقبت اور دیگر اصناف کے شعر شامل نہیں کئے گئے ہیں۔
شہرِ اردو بیدرسے تعلق رکھنے والے حضرت رشید احمد رشید ؔ کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ حیدرآباد کی جامعہ عثمانیہ کے ان نامور سپوتو ں میں شامل ہیں جن پر خود مادرِ جامعہ کو ناز ہے۔ مخدوم ، میکش ؔ، حفیظ قتیل ؔ، وجد ؔ، علی صائب میاں ، اکبروخاقانی جیسے نامور شعراء کے ہم مکتب اور ڈاکٹرزور ، قاری کلیم اللہ حسینی ، ڈاکٹر نظام الدین ، اور لطیف احمد فاروقی جیسے اساتذہ کرام کے آگے انھوں نے زانوئے ادب تہہ کیاتھا۔ نواب عزیز یار جنگ اور فانی ؔبدایونی کو بغر ض ِ اصلاح اپناکلام سنایا تو انھوں نے اصلاح کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ جناب علی اختر کے دیوان خانے میں منعقدہ نجی محفلوں میں کئی بار وہ جوش ؔ ملیح آبادی کے ساتھ غزل سراہوئے اور ان ہی محفلوں میں نظر ؔحیدرآباد ی جیسے نامور شاعرآپ سے اپنے کلام پر اصلاح لیاکرتے تھے۔ بہرحال حضرت رشید ؔ کا کلام کومحفوظ کرنا ان کے شاگردوں اور اہلِ بیدر کی اولین ذمہ داری ہے۔ ضرورت ہے کہ ان کے دونوں مجموعہ ہائے کلام اور اِدھر اُدھر بکھرا ہواان کاکلام،پھروہ جو انھوں نے قرآن مجید کومنظوم کیاتھا، وہ کلام بھی جمع کرکے شائع کرنے کے علاوہ  ویکی پیڈیا پرلانے اور ریختہ جیسی اہم ترین ویب سائٹ پر اسے محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔
جانے کون ہوگایا ہوگی جو یہ کام کرے۔ اللہ تعالیٰ حضرت رشیدؔ کوہر کروٹ جنتوں کی کیاریوں میں رکھے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے