ششی کانت پاٹ، اوماکانت نگڑگی، لکشمن دستی، ڈاکٹر ماجد داغی اور دیگر کا خطاب
کلبرگی 7/ جنوری: کلیان کرناٹک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے کے سی سی آئی) نے کلبرگی ریلوے ڈویژن کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے منظم اور موثر احتجاج تیز کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا۔
         اس سلسلے میں کے کے سی سی آئی کے صدر ششی کانت پاٹل کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں صنعتکاروں اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے کلبرگی ریلوے ڈویژن کے قیام میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تبادلہ خیال کیا۔ پیش کئے گئے مشوروں کے مطابق بتایا گیا کہ 1984ء میں ہی کلبرگی ریلوے ڈویژن کے قیام کی سفارش کی گئی تھی، لیکن تعجب کی بات ہے کہ اب تک یہ مطالبہ پورا نہیں کیا گیا ہے۔ نمائندگیوں کے باوجود مرکزی حکومت اس کا نوٹس نہیں لے رہی ہے۔ جبکہ 40 ایکڑ اراضی بھی اس کے قیام کے لئے حاصل کی گئی ہے. لیکن کمزور سیاسی نمائندگی کے نتیجے میں  یہ مطالبہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس خصوص میں وسیع تر رائے عامہ کے ساتھ پُر امن احتجاج ضروری ہے۔
           ریاستی حکومت کو مرکز پر دباؤ ڈالنے کے لئے کلبرگی بند منانے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے بلکہ کے ریل کی ناکہ بندی بھی کی جاسکتی ہے ۔ علاقے کی ترقی کے لئے طلبہ برادری کو بھی جدوجہد میں حصہ لینا چاہئے۔ ایک رائے یہ بھی پیش کی گئی کہ عدالت میں مفادِ عامہ کی عرضی دائر کی جانی چاہیے۔
    اجلاس کے اختتام پر یہ طے پایا کہ اس سلسلے میں ریلوے ڈویژنل ایکشن کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کی قیادت میں اگلی جدوجہد سے متعلق فیصلے لیے جائیں ۔
اس اجلاس سے اوماکانت نگڈگی سابق صدر کے کے سی سی آئی، ڈاکٹر لکشمن دستی صدر کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی ، ڈاکٹر ماجد داغی رکن کلیان کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی (حکومتِ کرناٹکا) ، کے کے سی سی آئی کے سکریٹری منجوناتھ جیورگی پروفیسر بسواراج کمبنور و دیگر نے اظہارِ خیال کیا اس موقع پر صنعتکار لنگراج اپا، ڈاکٹر منظور احمد دکنی، جناب اسلم چونگے، شرنو پاپا ، ممبر شیوراجا انگینا شیٹی، وشوناتھ چنالی، مہادیو کینی، ابھیشیک پاٹل، چنناملیکارجنا ارمی اور دیگر نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے