بیدر۔ 7؍جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری): اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد سرکاری اور بول چال میں آنے والی کنڑی زبان کو طلبہ وطالبات کوہنگامی بنیادوں پر سکھاناہے ، کیوں کہ اگرطلبہ کنڑی زبان سے دور رہیں گے تو ایک دنیا سے کٹ جائیں گے۔ دہم جماعت کے بہتر نتائج کیلئے کنڑا جاننا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مستقبل میں طلبہ کی زندگی کے لئے بھی کنڑاسیکھنا بے حد ضروری ہے۔یہ باتیں ڈاکٹر مقصود چندا صدرمینارٹی ریفارمس فورم (ایم آرایف) بیدرنے کہیں۔ آج شہربیدر کے رنگ مندر میں MRFکی جانب سے دہم جماعت کے طلبہ وطالبات کیلئے کنڑاسیکنڈ لنگویج کو بہتربنانے کے لئے منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ کے افتتاحی سیشن کاوہ صدارتی خطبہ دے رہے تھے۔انھوں نے آگے بتایاکہ MRFطلبہ کی کوچنگ کیاکرتاہے جو طلبہ روزانہ کوچنگ لینا چاہتے ہیں وہ قدیم شہر کے الامین کیمپس سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ کوئی چیزہماری ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہوتو اس کو دور کرنا ہمارا اہم فریضہ ہے۔ لہٰذاطلبہ کنڑاکوزبان سیکھنے کو زیادہ اہمیت دیجئے اور کنڑا پڑھنے کی کوشش کیجئے۔
پروگرام کاافتتاح درخت کو پانی دے کر ڈاکٹر عبدالقدیر چیرمین شاہین ادارہ جات بیدر نے کیا۔ اور اپنے خطاب میں کہاکہ دہم جماعت کے امتحانات کے لئے وقت کم رہ گیاہے۔ ان آخری دنوں میں جو کچھ پڑھا جاتاہے وہ یاد رہتاہے۔ صد فیصد پڑھنے کے بجائے 80%پڑھ کر اسی کااعادہ کرنا بہتر رہے گا۔ آپ طلبہ ہمارا مستقبل ہیں۔ ہمارا سرمایہ ہیں۔ موبائل سے بچیں ۔ اسی طرح شارٹ کٹ والے کورسیس پڑھنے سے بچیں ۔دہم جماعت کامیاب کرنے کے بعد ایسے کالجس میں جائیں جہاں ڈسپلن ہو، سختی ہواو رہمیشہ طلبہ وطالبا ت کی جہاں نگرانی کی جاتی ہو۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے زور دے کرکہاکہ ’’کمزور کالجس یاکمزور کورسیس میں داخلہ لے کر نروس زندگی یامایوس زندگی گزارنے کی شروعات نہ کریں۔ ہرایک کاآئی اے ایس، انجینئر ، اورڈاکٹر بننابھی ضروری نہیں ہے۔ معتبر ، سنجیدہ ، اللہ سے ڈرنے والا ، بھائی چارہ پر یقین رکھنے والا اور دیش کی خدمت کرنے والا بننا ضروری ہے۔ اپناخیال رکھئیے ، خود کو ابھی بچہ ؍بچی نہ سمجھیں۔ داعی بنیں۔ بھلائیوں کو پھیلانے والا؍والی بنیں۔ تب ہی ہمارادیش ترقی کرسکتاہے۔
جناب عبدالقدیر نے افسوس کا اظہا رکیاکہ اکثر 70%لڑکیاں اور 30%لڑکے ہمیں تعلیمی اداروں سے مل رہے ہیں۔ کامیابی کا یہ فیصد فکرمند کردینے والا ہے۔ لہٰذا لڑکے تعلیم کے حصول کی طرف متوجہ ہوں تاکہ وہ عزت کی زندگی گزار سکیں۔ آپ اپنے والدین کاکہامانیں ۔ اولاد اپنے والدین پر ظلم کرنے لگی ہے۔ اس ظلم سے باز اس طرح آسکتے ہیں کہ آپ خوب دل لگاکر پڑھیں ۔ قرآن اور احادیث کی روشنی میں پڑھیں ۔ اگر آپ خود کو بدلیں گے ،تعلیم حاصل کرکے خوب ترقی کریں گے تو ایک پوراعلاقہ بدلے گااور وہ بھی ترقی کرے گا۔بیدر بی ای او جناب TRدوڈے نے اپنے مختصر خطاب میں طلبہ وطالبات کو کنڑی زبان اور اسباق کو پڑھ کر یادرکھنے اور امتحانات میں بہتر طورپر جواب لکھنے کی تاکید کرتے ہوئے انہیں ورک شاپ کا حصہ بننے پر مبارک باد پیش کی۔ کنڑی ماہر جناب پانڈورنگ نڑونچے نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کنڑی بہت آسان زبان ہے۔ اس زبان کے اسباق کو پڑھنے سے ہی طالب علم امتحان میں کامیاب ہوجاتاہے۔ کنڑی نصاب میں صرف کہانیاں ہیں اور ان کہانیوں کو ذہن میں رکھ کرجواب لکھ سکتے ہیں۔ خصوصاً اردو اسپیکنگ طلبہ کوچاہیے کہ وہ کنڑی کو آسان سمجھ کرمحنت کریں ۔ایک اور ماہر مضمون کنڑی جنابپنچیا سوامی نے بھی طلبہ وطالبات کی بہتر رہنمائی کی جس کااحساس طلبہ کو رہا۔بنگلورو سے تشریف لائے جناب نظام صاحب نے طلبہ وطالبات کی ایک لحاظ سے کامیاب کونسلنگ کی۔ اسی درمیان میں تمام طلبہ وطالبات سے دسویں جماعت کے سالانہ امتحان میں نقل نہ کرنے کاحلف کھڑا کرکے اور ہاتھ اٹھا کرجناب سید فرقان پاشاہ نے دلایا۔ورکشاپ کاآغاز سورہ رحمن کی تلاوت پاک سے ہوا۔ تقریب کی نظامت جناب سید فرقان پاشاہ ماہر تعلیم نے بخوبی نبھائی۔
مینارٹی ریفارمس فورم (ایم آرایف) بیدرکے ڈائرکٹرس(ممبرس) جناب اشفاق احمد ، جناب احمد سیٹھ ، جناب نثاراحمد ،جناب عبدالمنان سیٹھ ، جناب عامر پاشاہ ، جناب محمد شکیل ،جناب اعجاز الحق ، جناب حافظ عبدالحکیم ، جناب منظورعرفان ، جناب مبشرسندھے ، جناب فیاض ثناء ، جناب عبدالرازق نٹورکر ایڈوکیٹ، جناب محمد سراج نیلواڑکر اور دیگر نے مہمانوں کااستقبال کیا۔ شالپوشی اور گلپوشی کی اور طعام وغیرہ کے امور خوبی سے نمٹائے۔ جناب سید فرقان پاشاہ نے اظہار تشکر کیا۔وزڈم ہائی اسکول ، ریڈروز ہائی اسکول، کیمبریج ہائی اسکول ، ہولی فیتھ ہائی اسکول، ، اویسٹر (کے رحمن خان) انگریزی ہائی اسکول ،شاہین ہائی اسکول ، ملٹی روز ہائی اسکول، ڈیوائن پبلک اسکول ، وغیرہ کے تقریبا ً ایک ہزار طلبہ وطالبات نے اس ورکشاپ میں بڑی دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔ تمام طلبہ کے لئے دوپہر کے کھانے کانظم MRF نے کیاتھا۔
