مکرمی!
اسلام ایک عالمی مذہب ہے جس میں ذخیرہ اندوزی کا تصور نہیں ہے بلکہ وہ اس کو سخت گناہ قراردیتا ہے اسی لئے اسلام کے اندر احتکار یعنی سامان تجارت کو بڑھتی قیمت کے لئے روکے رکھناناجائز ہے، اسلام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کا دیا ہوا مال کسی طبقہ میں محصور ہوکر نہ رہ جائے تاکہ بندگان خدا اس سے مستفید ہوسکیں، اسی لئے زکوٰۃ،صدقۂ فطر،صدقات وخیرات کا نظام قائم کرکے کمزور طبقہ تک پہونچانے کا حکم دیا،صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تقسیم وراثت کا نظام قائم کرکے امت اسلامیہ کو یہ پیغام دیا کہ جائداد وپراپرٹی،دوکان ومکان کسی ایک طبقہ کی جاگیر نہیں ہے بلکہ اس میں اس کے رشتہ داروںکابھی حق ہے، اس نظام سے زمانہ جاہلیت ناآشنا تھا مگر اسلام نے اس نظام کو نافذ کرکے جہاں کمزورں ورشتہ داروں کو شریک کیا وہیں مظلوم طبقہ کو ظالم کے خلاف لا کھڑا کیا،عہد نبویؐ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ حضرت سعد بن ربیع غزوۂ احد میں شہید ہوچکے ہیں انہوں نے اپنے پیچھے ایک بیوہ اور دو لڑکیوں کو چھوڑا ہے، زمانہ جاہلیت کے قانون’’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘‘ کے مطابق بھتیجو ںنے ساری جائداد پر قبضہ کرلیا اور بیوہ اور لڑکیوں کو محروم کردیا، بیوہ نے اپنے بھتیجوں سے اصرار کیا کہ ان لڑکیوں سے تم لوگ نکاح کرلو تاکہ میرا بوجھ ہلکا ہوجائے مگر ظالم اس کے لئے راضی نہیں ہوئے، تو حضرت سعد بن ربیع کی بیوہ مجبوراً دربار رسالت میںحاضر ہوتی ہیں اور اپنا درد وغم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ ظلم ہے یہ نظام بدلا جائے گا، مگر فی الفور کوئی حکم صادرکرنے سے گریز کیا کیونکہ ابھی تقسیم وراثت کا قانون نازل نہیں ہوا تھا، اسی وقت سورہ نساء کی آیات کا نزول ہوا جس میںتقسیم وراثت کا حکم اور حصوں کی تقسیم تفصیل سے بیان کی گئی۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’مردوں کے لئے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو‘‘اور عورتوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ما ںباپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،خواہ تھوڑا یازیادہ اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔
(سورہ نساء آیت نمبر۷)
حصوں کی تفصیل بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اسی سورہ میں آگے فرماتا ہے’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرے گا ،اسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے رسوا کن سزا ہے‘‘۔
(سورہ نساء آیت نمبر۱۴)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو شخص میری امت میں فساد کے وقت میرے طریقہ (مشن) کو زندہ کرے گا اس کو سو(۱۰۰) شہیدوں کا ثواب ملے ۔
(امالی ابن بشران)
(۱)میراث میں بہنوں کو حصہ نہ دینا زمانہ جاہلیت کے قانون کو رائج کرنا ہے۔
(۲)میراث میں حصہ نہ دینا قانون الٰہی سے بغاوت ہے۔
(۳)میراث بہرحال تقسیم کی جائے گی خواہ وہ کتنی ہی کم ہو۔
(۴)قریب رشتہ داروں کی موجودگی میں بعید تر رشتہ دار میراث نہ پائے گا۔
(۵) وراثت کا قانون ہر قسم کے اموال واملاک پر جاری ہوگا، خواہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ، زرعی ہوں یا صنعتی یا کسی اور
صنف مال میں شمار ہوتے ہوں۔
(۶) میراث میں بہنوں کو حصہ دینے کا رواج ڈالئے اور حرام مال کھانے سے توبہ کیجئے۔
(۷) وہ باپ بڑا مجرم ہے جو اپنی جائداد لڑکوں کے درمیان تقسیم کردیتا ہے اور لڑکیوں کو محروم رکھتا ہے۔
اے طائر لا ہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم  پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
حجاز منزل، کسیا، کشی نگر، یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے