مکرمی!
ہمارے ملک ہندوستان کے حالات مسلم کمیونٹی کے لئے ناسازگار ہوتے جارہے ہیں،خاص طور پر اس وقت کالج ویونیورسیٹی کے لڑکیوں کی عزت وآبرو کی حفاظت ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔اس قوم کا المیہ یہ ہے کہ اس کے پاس ایک محکم ومستقل   پردہ وحجاب کا قانون اور ضابطۂ حیات موجود ہے، اللہ تعالیٰ بڑی صراحت کے ساتھ سورہ نور اور سورہ احزاب کے اس کے احکامات بیان فرمادیا ہے، جس میں سے پہلا یہ حکم ہے کہ عورتیں اور مردگضب بصر کریں یعنی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، مسلم معاشرہ میں مخلوط تعلیم کا تصور ہی نہیں ہے، مگر مغربیت نے اس قوم کو اپنے مذہبی تعلیم سے دور کرکے ’’مخلوط تعلیم‘‘ کو ترقی کے لئے ایک مسیحا بنا کر پیش کیا ہے، اور آج قوم مسلم اس دام فریب میں مبتلا ہوکر اپنی لڑکیوں کو فتنۂ ارتداد کے دھانے پرکھڑا کر چکا ہے تودوسری طرف مسلم لڑکیوں کو مرتدبنانے کے لئے برادران وطن کی ایک جماعت سرگرم ہے، وہ ایک سازش کے تحت یہ گھناونا کام انجام دے رہی ہے، اور آپ کی لڑکیاںمرتد ہورہی ہیں،مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ؒ ایک جگہ عصری درس گاہوںکے قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں’’مونٹیسری اسکول، نرسری اسکول، کنڈرگارڈن وغیرہ قسم کے مدارس اب نہایت ضروری ہوگئے ہیں، مسلمانوں کو توجہ دلائیںکہ اب صرف کنویں بنانا ،صرف مسجد کے مقابلہ میںمسجد بنانا یہی ایک دین کا کام نہیں ہے بلکہ بڑی نیکی کاکام یہ ہے کہ آپ اس نئی نسل کوبچائیں اور ایسے معیاری اسکول قائم کریں جس کا انتظام جس کے اساتذہ کی سطح کوالیفیکیشن، ان کا تجربہ کسی طرح کے دوسرے اسکولوں سے کم نہ ہو،جیسے دوسرے فرقوں نے قائم کئے ہیں‘‘۔
اس لئے پہلی فرصت میں والدین اپنا محاسبہ کریں اور ان لڑکیوں کی تعلیم وتربیت اور ماڈرن تعلیم کے لئے اپنے اسکولس، کالجز اور یونیورسٹیز قائم کرنے کی فکر کریں،تا کہ دینی ماحول میں اپنی عزت وآبرو کی حفاظت کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں، اور ملک وملت کانام روشن کرسکیں، اگر دانشمند مسلمانوں نے اس کی فکر نہیں کی اور اس کی طرف سنجیدگی سے قدم نہیں اٹھایا تو ملک میں یہ فتنہ ہنگامہ خیزحالات پیدا کرسکتا ہے،اللہ کرے ایسا نہ ہو، اللہ کرے ایسا نہ ہو،کیونکہ ہمارے پاس اپنی لڑکیوںکو فتنہ ارتداد سے بچانے کے لئے کوئی مستحکم پروگرام نہیں ہے جب کہ دشمن مختلف طریقہ سے اپنے دام فریب میں لانے کے لئے سرگرداں ہے، آپ سنبھل جائیں اور لڑکیوں کی دانشگاہوں کو پروان چڑھانے کا عزم کریں۔
یقینا وہ سارے حضرات کا قدم قابل تحسین ہے جنہوں نے فتنہ ارتداد کو قبل ازوقت بھانپ لیا اور بے سرو سانی میں اس کا سدباب کرکے نکل پڑے جو آج درجنوں ماڈرن کالجز قائم کرکے ملک وملت کی عظیم خدمت کررہے ہیں، خاص طورسے موقع پر ایک دینی درس گاہ سے پڑھے ہوئے جید روشن خیال عالم دین کومبارکباد پیش کرتا ہوں جس کا اسم گرامی مولانا غلام وستانوی ہے جنہوں نے مہاراشٹر اور گجرات کے باڈر پر’’ اکل کوا‘‘ میں دینی مدارس کے ساتھ درجنوں ماڈرن تعلیم کے کالجز قائم کررکھے ہیں۔
تو دوسری طرف جمعیت علمائے ہند کے صدرمحبوب ترین شخصیت حضرت مولانا ارشد مدنی کی ذات گرامی ہے جنہوں نے دیوبند میں اس قسم کے ادارے قائم کرنے کا ارادہ کررکھا ہے جو ایک وقت کا اہم تقاضہ ہے جن کی طرف علماء کے ساتھ ملک کے متمول مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کام کے لئے اپنے تجوری کے خزانوں کو کھول دیں تا کہ یہ ماڈرن کا لجزاور یونیور سینٹر قائم کی ساسکیں ،تو تیسری طرف سارے بڑے مدارس دینیہ کی ذمہ داری ہے کہ مدرسے کے ساتھ کم از کم ایک کالج کی بنیاڈ الیں جو خالص لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ہو، اگر اس کی طرف ارباب مدارس نے توجہ دی اورمتمول مسلمانوں نے ان کاتعاون کیا تو بہت حد تک ہم فتنۂ ارتداد کا سدباب کرسکتے ہیں ،امید ہے کہ اس زاویہ سے اس موضوع پر سنجیدگی سے توجہ دے کرمسلم لڑکیوں کو مخلوط تعلیم سے آزاد کرایا جائے گا ،کیونکہ فتنۂ ارتداد مخلوط تعلیم ہی کا ثمرہ ہے۔
شاید کہ اتر جائے ترے دل میری بات
انداز بیاںگرچہ بہت شوخ نہیں ہے
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم  پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے