محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
قطر کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پاگیا۔ قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پریس کانفرنس کے دوران اس معاہدے کا اعلان کیا۔ معاہدے کی تفصیلات یہ ہیں، معاہدہ تین مراحل میں نافذ ہوگا، جس کا آغاز 19 جنوری 2025 سے متوقع ہے۔ (1) ابتدائی چھ ہفتوں کے دوران، اسرائیلی فوج غزہ کی سرحد کے اندر 700 میٹر تک محدود رہے گی۔ اس دوران، حماس 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے گا، جبکہ اسرائیل تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گا، جن میں 250 عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ (2) زخمیوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر جانے کی اجازت ہوگی، اور رفح کراسنگ کو کھولا جائے گا۔ (3) معاہدے کے تحت، غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی ترسیل شروع ہوگی، جس سے بے گھر افراد کی بحالی اور ضروریات کی تکمیل ممکن ہوگی۔
معاہدے کی اہمیت:
یہ معاہدہ 15 ماہ سے جاری تنازع کے بعد عمل میں آیا ہے، جس میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور غزہ کی پٹی میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔ قطر، مصر اور امریکہ کی مشترکہ کوششوں سے طے پانے والا یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کی جانب اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر خلیل الحیہ نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد جاری بیان میں کہا کہ "قابض افواج کے جنگی جرائم اور انسانیت دشمن اقدامات 466 دنوں تک جاری رہے، یہ تمام مجرم اپنے کیے کی سزا پائیں گے، چاہے اس میں وقت لگے، اس تاریخی لمحے میں، جو ہمارے عوام کی جدو جہد اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے جو دہائیوں سے جاری ہے اور جس کے بعد ایک نیا دور شروع ہو گا ہم غزہ کے عظیم عوام کو فخر اور عظمت کے تمام الفاظ بطور ہدیہ پیش کرتے ہیں۔ اہل غزہ، شہداء، زخمیوں، اسیران اور مفقودین کے اہل خانہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ آپ نے وعدہ سچ ثابت کیا، صبر کیا، اور وہ تکالیف برداشت کیں جن کا کسی نے بھی پہلے سامنا نہ کیا، اور آپ نے وہ سب کچھ جھیلا جو کسی اور نے نہ جھیلا۔ آپ نے امانت کو اس کی اصل شکل میں نبھایا اور آپ اس کے اہل تھے۔ آپ نے فداء کی ہر لمحے کو پیش کیا، اور قربانی کی ہر بات کو سچ ثابت کیا، صبر کے ہر موقع پر ثابت قدم رہے، جہاد کے میدان میں لڑے، اور اللہ کے حکم سے عظیم ترین عزت حاصل کی۔ یہ مقام خوشی ہے کہ آپ کے عزم، جدو جہد، صبر، قربانیوں اور آپ کی بے شمار خدمات کا صلہ ملے گا۔ ہم اس لمحے میں عظیم شہداء کے قافلوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جن میں بچے، خواتین، بزرگ، علماء، مجاہدین، ڈاکٹرز، صحافی، دفاعی اہلکار، حکومت اور پولیس کے ارکان، اور قبائلی افراد شامل ہیں۔” ہم ان تمام افراد کو سلام پیش کرتے ہیں جو اس عظیم اور مقدس لڑائی میں شریک ہوئے، جو قدس اور الاقصیٰ کے دفاع میں لڑائی تھی، اور ان کو خاص طور پر سلام پیش کرتے ہیں جو ان کے بعد عہد پر ثابت قدم رہے اور اس راہ کو جاری رکھا، اور اس پرچم کو ان کے بعد اٹھایا
ہم ان عظیم شہداء قائدین کے سامنے ادب و احترام کے ساتھ کھڑے ہیں جن کے جسموں کے ٹکڑے اس معرکہ میں بکھر گئے، جیسے شہید اسماعیل ہنیہ ابو العبد، شہید یحییٰ السنوار ابو ابراہیم، شہید صالح العاروری ابو محمد، اور غزہ میں تحریک کی سیاسی و فوجی قیادت کے دیگر ارکان۔ ہم تمام مزاحمتی اور مجاہدانہ فصائل کے شہداء کے سامنے بھی احترام سے سر جھکاتے ہیں اور ان سے اور ہمارے عوام سے کہتے ہیں کہ ہمارے قائدین اور شہداء کی تجارت اللہ کے ساتھ ہے، یہ تجارت کبھی ضائع نہیں ہوگی۔ ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یا تو فتح پائیں گے یا شہادت کی دولت سے نوازے جائیں گے، ان شاء اللہ۔
طوفان الاقصیٰ کی جنگ ہمارے مسئلے اور ہمارے عوام کی مزاحمت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی ہے، اور اس جنگ کے اثرات کا تسلسل جاری رہے گا، یہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی نہیں رکیں گے۔
سات اکتوبر کو جو معجزہ اور عسکری و سکیورٹی کامیابی عمل میں آئی تھی، جو کہ حماس کی القسام بریگیڈ کے منتخب دستوں نے انجام دی، وہ ہمارے عوام اور ہماری مزاحمت کے لیے ہمیشہ فخر کا باعث رہے گی، جو نسل در نسل منتقل ہوگی۔ یہ حملہ دشمن کے لئے کاری ضرب ثابت ہوا اور ہمارا عوام اپنی تمام حقوق جلد حاصل کرے گا، اور یہ قابض دشمن عنقریب ہمارے وطن، قدس اور ہمارے مقدس مقامات سے رخصت ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔ قابض افواج اور ان کے حامیوں کی طرف سے کیے گئے وحشیانہ نسل کشی، نازی جنگی جرائم اور انسانیت دشمن اقدامات، جو 467 دنوں تک جاری رہے، ہمیشہ ہمارے عوام اور دنیا کی یادوں میں محفوظ رہیں گے۔ یہ جدید دور کی سب سے بھیانک نسل کشی ہوگی، جس میں تکالیف، اذیتیں اور مصائب کے تمام رنگ شامل تھے، نسل کشی کی جنگ کے وہ فصول ہمیشہ انسانیت کے ماتھے پر ایک دھبہ بن کر رہیں گے، اور دنیا کے خاموش اور کمزور کردار کی علامت ہوں گے۔ ہمارا عوام کبھی نہیں بھولے گا کہ کس نے اس نسل کشی میں حصہ لیا، چاہے وہ سیاسی اور میڈیا سطح پر اس کے لیے پردہ ڈالنے والے ہوں، یا وہ جنہوں نے ہزاروں ٹن بموں اور بارودی مواد کو غزہ کے معصوم عوام پر گرا دیا۔ ہم یہ بات یقین سے کہتے ہیں کہ یہ تمام مجرم اپنے کیے کی سزا پائیں گے، چاہے اس میں وقت لگے۔ اگرچہ ہمارے عوام نے ایسی مصیبتیں جھیلیں کہ جن سے دل دہل جائیں، ہم اپنی مزاحمت پر فخر کرتے ہیں، اپنے مجاہدین اور عوام کی ثابت قدمی پر ناز کرتے ہیں۔ دشمن کبھی بھی ہم سے کمزوری یا ہار کی توقع نہ کرے۔ یتیموں، بچوں، بیواؤں، تباہ حال گھروں کے مالکان، شہداء، زخمیوں اور غمزدہ افراد کے نام پر، اور ہر اس فرد کی طرف سے جس کا خون بہا، یا جس کی آنکھوں سے آنسو بہے، ہم ان کی طرف سے یہ کہتے ہیں: ہم نہ بھولیں گے، نہ معاف کریں گے۔ ہاں، ہم نہ بھولیں گے، نہ معاف کریں گے۔ ہمارے درمیان کوئی بھی شخص ان آلام اور قربانیوں کا حق کم کرنے والا نہیں ہوگا۔قابض افواج نے حملے کے آغاز سے ہی کئی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی، کچھ کو کھلے عام بیان کیا اور کچھ کو چھپایا۔ ان کا مقصد مزاحمت کا خاتمہ، حماس کا صفایا، اور اسیران کو فوجی طاقت سے بازیاب کرنا تھا، اور علاقے کی شکل بدلنا تھا۔ ان کا چھپا ہوا مقصد فلسطینی مسئلہ ختم کرنا، غزہ کو تباہ کرنا، غزہ کے عوام سے انتقام لینا، اور ہمارے عوام کی آزادی کی خواہش کو مٹا دینا تھا، ساتھ ہی 7 اکتوبر کی جرات مندانہ کامیابی کے اثرات کو ختم کرنا تھا۔ تاہم، قابض افواج کو ہمارے عوام کی پختہ عزم اور اپنی سرزمین سے محبت کا سامنا کرنا پڑا، اور وہ اپنے کسی بھی اعلان شدہ یا پوشیدہ مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ہمارے عوام نے اپنی سرزمین پر ڈٹے رہ کر ثابت کر دیا کہ وہ نہ ہجرت کریں گے، نہ پیچھے ہٹیں گے، اور انہوں نے مزاحمت کا مضبوط ترین حصار بن کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ ہمارے مجاہدین، خاص طور پر القسام بریگیڈ کے بہادر سپاہیوں نے، جنہوں نے اپنی جرات مندانہ کارروائیوں اور بے مثال بہادری سے دنیا کو حیران کن حد تک متاثر کیا، اس جنگ کے آخری لمحے تک محاذ پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے اپنے عزم و حوصلے سے دفاع و حملے کے دوران بے مثال کارنامے انجام دیے، جیسے بارودی سرنگیں نصب کرنا، گولہ بارود فائر کرنا، گھات لگانا، اور صفر نقطے سے لڑنا، اور دشمن پر اتنا اثر ڈالا کہ قابض افواج کے جنگی آلات جل کر تباہ ہو گئے۔ ہم تمام مزاحمتی گروپس کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں، خاص طور پر القدس بریگیڈ کے مجاہدین کو جو اسلامی جہاد کی صف اول کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور اپنے وطن و عوام کے دفاع میں عظیم مثال قائم کی۔
ہم آج یہ ثابت کرتے ہیں کہ قابض افواج کبھی بھی ہمارے عوام اور مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتی، اللہ کی مدد سے، جو اس نے ہمیں عطا کی ہے۔ قابض افواج نے ہمارے عوام کے خلاف جو تباہی، خونریزی اور قتل عام کیا، وہ صرف ایک بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انہوں نے ہمارے اسیران کو بھی مزاحمت کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے ذریعے واپس لیا۔
خلیل الحیہ نے اپنے پختہ یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے عوام کا عزم، ان کی عظیم قربانیاں اور ان کی مزاحمت نے قابض افواج کے اعلان شدہ اور چھپے ہوئے مقاصد کو ناکام بنا دیا ہے۔ ہمارے عوام کی آزادی کی خواہش اب بھی زندہ ہے، وہ بلا کمزوری یا غفلت، بلکہ اللہ کے فضل سے ہمیشہ بلند و بالا رہے گا۔ وفا دار، دیانت دار، اور قربانی دینے والے ہمارے عوام، جب ہم جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی خبر دے رہے ہیں، تو ہم ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے عوام اور مزاحمت کے ساتھ اس مشکل وقت میں بھرپور حمایت فراہم کی۔
ہم خاص طور پر لبنان کے عزیز بھائیوں کا ذکر کرتے ہیں، خاص طور پر حزب اللہ کے مجاہدین، جنہوں نے القدس کی آزادی کے لیے سینکڑوں شہداء دیے، اور ان کی قیادت، جن کی سرپرستی میں یہ کارنامے انجام پائے، جن میں سید حسن نصر اللہ اور ان کے ساتھی شامل ہیں۔ ہم اسلامی جماعت، لبنان کے بھائیوں کی مدد کو بھی یاد کرتے ہیں، اور لبنان کے عوام کی عظیم مزاحمت اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں، جنہوں نے ہمارے فلسطینی عوام کے دفاع میں بڑی ثابت قدمی دکھائی اور انہیں بے شمار مشکلات میں معاونت فراہم کی۔ انہوں نے قابض افواج کی زندگی کو عذاب اور بربادی میں بدل دیا، اور اس میں اسلامی اور عربی بھائی چارے کی حقیقی مثال پیش کی۔ ہم یمن کے بھائیوں، انصار اللہ، کو بھی یاد کرتے ہیں، جو جغرافیائی فاصلے کو عبور کر کے جنگ کے میدان میں نئی حقیقتیں لائے اور قابض دشمن کے قلب پر میزائل اور ڈرون حملے کر کے اسے بحیرہ احمر میں محصور کر دیا۔ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے بھائیوں کا بھی شکر ادا کرتے ہیں، جنہوں نے ہماری مزاحمت اور عوام کی مدد کی، جنگ میں حصہ لیا اور "وعدہ صادق” (1) اور (2) آپریشنز میں دشمن کے قلب کو نشانہ بنایا، نیز عراقی مزاحمت نے تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے فلسطین اور اس کی مزاحمت کی مدد کی اور اس کی میزائلیں اور ڈرونز ہمارے مقبوضہ علاقوں تک پہنچ گئے۔ہم اپنے نوجوانوں اور عوام کی جدوجہد کو بھی سلام پیش کرتے ہیں، خاص طور پر غرب اردن کے جنین پناہ گزین کیمپ میں، اور القدس اور مقبوضہ فلسطین کے عوام، نیز اپنے عوام کو جو جلاوطن اور پناہ گزین ہیں، اور ہمارے عرب و اسلامی عوام کو بھی۔ ہم دل کی گہرائیوں سے اپنے ان بھائیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جو سخت محنت اور متعدد مذاکراتی دوروں کے ذریعے ہمارے عوام کے خلاف ہونے والی نسل کشی اور جنگ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ہم قطر اور مصر کی حکومتوں کا شکر گزار ہیں، جنہوں نے اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
ہم ان تمام ممالک کے کرداروں کو بھی یاد کرتے ہیں جو مختلف میدانوں میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے: جیسے ترکی، جنوبی افریقہ، الجزائر، روس، چین، ملیشیا، انڈونیشیا، بیلجیئم، اسپین، آئرلینڈ اور دنیا کے تمام باضمیر انسان۔
ہم اُن تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری حمایت قلم، تصویر، مظاہروں، بائیکاٹ کے ہتھیار، اور سیاسی، سفارتی اور قانونی جدوجہد کے ذریعے کی۔ ان تمام باضمیر انسانوں کا شکریہ جو خاموشی کی سازش کو توڑتے ہوئے قابض دشمن کی انسانیت سوز جرائم کو بے نقاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔
آج ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، یہ تعمیر، دلجوئی، اور غزہ کی تعمیر نو کا مرحلہ ہے۔ یہ یکجہتی اور ہم دردی کا مرحلہ ہے، جس کے ذریعے ہم دنیا کو بتائیں گے کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں، جو تعمیر کرتی ہے، تخریب نہیں۔ ہم وہ سب کچھ دوبارہ تعمیر کریں گے جو قابض افواج نے برباد کیا ہے۔
اے اہلِ غزہ، جس طرح آپ جنگ میں مردانگی اور جرات کا مظاہرہ کر چکے ہیں، اسی طرح جنگ کے بعد بھی اپنے عظیم کردار کو جاری رکھیں گے۔ ہم ایک دوسرے پر رحم کریں گے اور متحد رہیں گے۔ بے شک، جو دکھ اور تکلیف ہم نے جھیلی ہے، وہ بہت بڑی ہے، لیکن اس قوم کی عظمت اور اس کے اخلاق اس سے بھی زیادہ عظیم ہیں۔
ہم اللہ کے فضل سے، اور اپنے بھائیوں، دوستوں، اور ہمدردوں کی مدد سے غزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کے قابل ہیں۔ ہم اپنے زخموں پر مرہم رکھیں گے، یتیموں کے سروں پر دستِ شفقت رکھیں گے، غم زدہ دلوں کے آنسو پونچھیں گے، اور ان لبوں پر مسکراہٹیں واپس لائیں گے جنہیں جنگ نے چھین لیا تھا۔ ہمارے بہادر قیدی بھی آزادی کے ایک روشن صبح کے منتظر ہیں، ان شاء اللہ”
دنیا بھر کے رہنماؤں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور دونوں فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر قائم رہیں اور غزہ کے شہریوں کو امداد پہنچانے میں تیزی لائیں”۔
افغان طالبان حکومت کے نے حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ثالثی کرنے والے ممالک باالخصوص قطر اور مصر کی سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا ہے۔
افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں فلسطینی عوام کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے معاہدے کے تمام مراحل پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "شکر ہے جو بربریت اور مسلمانوں کی پر ڈھائے جانے والے ظلم کا اختتام ہوا۔ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ’دوست ممالک سعودی عرب، قطر، مصر، امریکہ اور دوسرے ممالک نے بہت اچھا کردار ادا کیا ہے۔”
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اسے ایک طویل عرصے سے زیر التوا خبر قرار دیا جس کا اسرائیلی اور فلسطینی عوام بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے ’مستقل طور پر بہتر مستقبل‘ کے لیے اقدامات پر زور دیا … جو دو ریاستی حل پر مبنی ہے”.
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ” ہمارے خطے اور پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہوگا، خاص طور پر ہمارے فلسطینی بھائیوں کے لیے، اور یہ پائیدار امن اور استحکام کی راہ کھولے گا۔”
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے غزہ میں فوری انسانی امداد کے داخلے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مصر، قطر اور امریکہ کی ’سخت کوششوں‘ کے بعد ہوا ہے۔
اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے ’مناسب اور پائیدار‘ امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
عراق کی وزارت خارجہ نے غزہ پٹی اور فلسطینی علاقوں میں فوری طور پر انسانی امداد کی اجازت دینے اور اسرائیل کے غزہ پر حملے کے دوران تباہ ہونے والے علاقوں کی تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے کہا کہ ’دونوں فریقوں کو خطے میں پائیدار استحکام کی طرف ایک قدم کے طور پر اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔‘
فرانس کے صدر ایمانوئیل میکروں نے کہا ہے کہ اس معاہدے کی ’پاسداری‘ کی جانی چاہیے اور اس کے بعد ’سیاسی حل‘ نکالا جانا چاہیے۔
جرمنی کے چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ اس معاہدے سے لڑائی کے مستقل خاتمے اور غزہ میں خراب انسانی صورت حال میں بہتری کے دروازے کھلیں گے۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ فائر بندی ’علاقائی استحکام کے حصول کے لیے اہم ہے‘ اور ’دو ریاستی حل اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے والے منصفانہ امن کی راہ میں ایک ناگزیر قدم ہے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گویتریش نے معاہدے پر کہا کہ ’یہ ضروری ہے کہ یہ فائربندی غزہ میں امداد پہنچانے میں حائل سکیورٹی اور سیاسی رکاوٹوں کو دور کرے، تاکہ ہم فوری اور جان بچانے والی انسانی امداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ کر سکیں۔‘
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا کہ یہ معاہدہ ’ناقابل برداشت درد اور تکلیف کے بعد ایک بڑی راحت کی نوید ہے … اور یہ ضروری ہے کہ اب یہ معاہدہ برقرار رہے‘۔
اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ایجنسی کے سربراہ فلپ لازارینی نے ’لڑائی کے باعث پیدا ہونے والے سنگین مصائب کا جواب دینے کے لیے تیز، بلا روک ٹوک اور مسلسل انسانی امداد اور رسد‘ کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔”
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہد کیا کہ وہ ’اسرائیل اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون کریں گے تاکہ غزہ دوبارہ کبھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے اعلان پر ’انتہائی خوش‘ ہیں اور اس معاہدے کے برقرار رہنے کے لیے ’پرامید‘ ہیں۔ انہوں نے ایک نشریاتی بیان میں کہا، ’میں گہرے اطمینان کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ یہ دن بالآخر آ ہی گیا۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ’معاہدے کی پاسداری اور غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی ضرورت‘ پر زور دیا۔
سعودی عرب نے مطالبہ کیا کہ ’اسرائیلی قابض افواج غزہ کی پٹی اور تمام دیگر فلسطینی و عرب علاقوں سے مکمل طور پر نکل جائیں اور بے گھر افراد کو ان کے علاقوں میں واپس بھیجا جائے۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ’اس معاہدے سے غزہ میں لڑائی رک جائے گی، فلسطینی شہریوں کے لیے انتہائی ضروری انسانی امداد میں اضافہ ہوگا اور قیدیوں کو 15 ماہ سے زائد عرصے تک قید میں رکھنے کے بعد ان کے اہل خانہ سے ملایا جائے گا۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حماس کے ایک عہدیدار نے معاہدے کو ’ایک عظیم کامیابی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ معاہدہ اس داستان کی عکاسی کرتا ہے جو غزہ کی ثابت قدمی، اس کے عوام اور اس کی مزاحمت کی بہادری کے ذریعے حاصل کیا گیا۔‘
امریکی ترجمان میتھیو ملر نے پریس کانفرنس میں کہا فائر بندی کا یہ معاہدہ صدر بائیڈن، وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن، قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون، سینٹرل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ولیم برنز، بریٹ میک گرک اور حکومت کے دیگر عہدیداروں کے ساتھ ساتھ قطر اور مصر کی حکومتوں میں ہمارے شراکت داروں کی وسیع سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ہوا ہے۔یاد رہے کہ امریکہ نے ستمبر 2001 میں نیویارک میں القاعدہ کے حملوں کے بعد افغانستان پر حملہ کیا تھا اور طالبان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا لیکن طالبان ایک شورش پسند قوت بن گئی تھی جس کے نتیجے میں سن 2018 تک ملک کے دوتہائی سے زائد حصے پر متحرک رہے۔اور
اس جنگ کے دوران امریکی فوج کے 2400 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوچکے تھے اس کا امن معاہدہ بھی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھی اللہ سے دعا ہے کہ یہ امن معاہدہ بھی کامیاب ہوگی۔ ***
