قصوروارسرکاری ڈاکٹروںا ور نرسوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کامطالبہ

منااکھیلی۔ 10 جون (عبدالقدیر لشکری): ضلع بیدر کے منااکھیلی میں واقع کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (CHC) میں طبی عملے کی مبینہ شدید لاپروائی، گمراہ کن رویے اور رشوت خوری کی وجہ سے ایک 26 سالہ خاتون روبینا بیگم زوجہ محمد ایاز کی زچگی کے فوراً بعد موت کا انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ پیش آیا ہے۔ اس ہلاکت کے بعد متاثرہ خاندان اور مقامی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندان نے ضلع ہیلتھ آفیسر (DHO) بیدر سے اپیل کی ہے کہ اس واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور قصوروارسرکاری ڈاکٹروں و نرسوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔ محمد ریاض اور محمد سراج (پیر صاحب) نے ایک تحریری شکایت میں بتایا ہے کہ گزشتہ روز (بروز منگل) شام تقریباً 7:30 بجے وہ حاملہ خاتون کو ڈیلیوری کے لیے منااکھیلی سی ایچ سی لے کر گئے تھے۔ وہاں موجود اسٹاف نرسوں نے زچگی کا عمل مکمل کیا اور بعد میں اہل خانہ کو تسلی دی کہ نوزائیدہ بچہ اور ماں دونوں بالکل ٹھیک اور محفوظ ہیں۔متاثرین کا الزام ہے کہ ہسپتال کے عملے نے خون کی جانچ (بلڈ ٹیسٹ) کرنے کے بعد بھی سب کچھ نارمل بتایا، لیکن اچانک مریضہ کو بیدر کے بریمس(BRIMS) اسپتال ریفر کر دیا گیا۔ جب خاندان نے گھبرا کر ریفر کرنے کی وجہ پوچھی تو نرسوں نے اصل حقائق کو چھپایا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ کوئی فکر کی بات نہیں، سب ٹھیک ہے اور 108 ایمبولینس کو بلا لیا۔شکایت نامے کے مطابق ایمبولینس میں بیٹھتے ہی خاتون کو شدید خون بہنا (Heavy Bleeding) شروع ہو گیا جس کی وجہ سے وہ راستے میں ہی بے ہوش ہو گئیں۔ حالت اس قدر بگڑ گئی کہ وہ بریمس اسپتال پہنچنے سے قبل ہی راستے میں دم توڑ گئیں۔ بریمس کے ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد خاتون کی موت کی تصدیق کی۔متاثرہ خاندان نے ایک اور سنگین انکشاف کرتے ہوئے بتایا کے منااکھیلی سی ایچ سی سینٹر کی اسٹاف نرسوں نے شدید تکلیف میں مبتلا مریضہ کو ایمبولینس میں بٹھانے سے قبل اہل خانہ سے 4,000 روپے کی رشوت کا مطالبہ کیا اور رقم وصول کرنے کے بعد ہی انہیں جانے دیا۔ روبینہ بیگم کے لواحقین نے ضلع انتظامیہ اور بیدر جنوب کے ایم ایل اے سے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ ہسپتال کی نرسوں نے نہ صرف انہیں گمراہ کیا بلکہ ان کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ایک قیمتی اور معصوم جان چلی گئی۔ انہوں نے ڈی ایچ او سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور مستقبل میں کوئی دوسرا خاندان اس قسم کی غفلت، اذیت اور صدمے کا شکار نہ ہو۔اس حادثے کے بعد منااکھیلی کے عوام نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شکایت کی ہے کہ سی ایچ سی منااکھیلی میں رات کے اوقات میں کوئی بھی ذمہ دار ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا اور پورا ہسپتال نرسوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، جو انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ رات کے وقت ڈاکٹروں کی حاضری کو لازمی بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے