عدالت کے فیصلے اور نئے قانون نے مسلم اقلیت کے لیے بھی مساوی مواقع کی راہ ہموار کر دی: ڈاکٹر عبد الغنی القوفی
نیپال کے مسلمانوں کے لیے تاریخی موقع، اب وقت ہے آگے بڑھنے کا: مولانا مشہود خان نیپالی
کٹھمنڈو: نیپال میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے قانونی حقوق کی جنگ ایک تاریخی موڑ پر پہنچ چکی ہے! نیپال کی عدالت نے ایک انقلابی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسلمانوں اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو مسلح پولیس فورس (APF) میں مخصوص کوٹہ سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی نیپال حکومت نے عدالت کے فیصلہ کی رعایت وپاسداری کرتے ہوئے نیپال پولیس ایکٹ، 2081 (Nepal Police Act, 2081) کے تحت مسلمانوں کے لیے چار فیصد کوٹہ باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف راشٹریہ سنگھ نیپال کی مسلسل چھ سالہ طویل قانونی جدوجہد کا نتیجہ ہے، بلکہ نیپال میں مسلمانوں کی سرکاری ملازمتوں میں شمولیت کی ایک روشن صبح کا بھی اعلان ہے!
یہ فیصلہ درخواست گزار مولانا مشہود خان نیپالی اور دیگر کی جانب سے دائر پٹیشن کے بعد آیا، جس میں نیپال کی حکومت، وزارت داخلہ، مسلح پولیس فورس، اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 2075/05/22 کو شائع ہونے والے نوٹیفکیشن (075/076) میں مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کے لیے مختص کوٹہ کو نظر انداز کیا گیا، جو آئین کے سراسر خلاف ہے۔
عدالت نے نیپال کے آئین کی دفعہ 42 کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو سماجی انصاف کے اصولوں کے تحت برابری کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے حکومت کو سختی سے ہدایت دی کہ بھرتیوں میں آئینی تقاضوں کو مکمل کیا جائے اور مسلمانوں و پسماندہ طبقات کے لیے مخصوص کوٹہ بحال کیا جائے۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ اس فیصلے کو اٹارنی جنرل آفس کے ذریعے تمام متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے اور ریکارڈ برانچ میں درج کیا جائے، تاکہ اقلیتوں کے حقوق پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
نیپال پولیس ایکٹ، 2081: مسلمانوں کے لیے 4 فیصد کوٹہ حقیقت بن گیا
عدالتی فیصلے کے بعد، نیپال حکومت نے ایک تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے نیپال پولیس ایکٹ، 2081 کے تحت مسلمانوں کے لیے 4 فیصد کوٹہ کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے صدر ڈاکٹر عبدالغنی القوفی نے اس پیش رفت کو اقلیتی برادری، بالخصوص مسلمانوں کے لیے ایک فرحت انگیز تاریخی موقع قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ مسلمانوں کے لیے تمام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کیے جانے کے مطالبے کی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے، جو آج الحمد للہ کامیابی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
نیا قانون: ریزرویشن کے تحت سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو تحفظ
نئے قانون کے مطابق، نیپال پولیس سروس میں 45 فیصد اسامیوں کو مخصوص کوٹہ کے تحت پُر کیا جائے گا، جس میں مختلف محروم طبقات کو نمائندگی دی گئی ہے:
خواتین کے لیے: 20%
قبائلی افراد کے لیے: 27%
مدھیسیوں کے لیے: 24%
دلتوں کے لیے: 15%
تھارو برادری کے لیے: 5%
مسلمانوں کے لیے: 4%
پسماندہ علاقوں کے لیے: 5%عدالت سے حکم صادر ہونے کے بعد یہ فیصلہ نیپال پولیس ایکٹ، 2081 کے تحت پہلی بار مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں میں آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اب مسلمانوں کو ان شاء اللہ سرکاری محکموں میں اپنی شناخت کے ساتھ خدمات انجام دینے کا حق حاصل ہوگا۔
راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے جنرل سیکرٹری مولانا مشہود خان نیپالی نے مسلمانوں کے لیے اس تاریخی جیت پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے کہا:
"یہ فیصلہ نیپال کے مسلمانوں اور دیگر محروم طبقات کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ہم نے چھ سال قبل جو مقدمہ دائر کیا تھا، آج اس کی روشنی میں نیا قانون تشکیل دیا گیا، جو مسلمانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کو یقینی بناتا ہے۔ یہ اقلیتوں کے حقوق کی جیت ہے اور حکومت کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے کہ وہ تمام طبقات کو مساوی مواقع فراہم کرے۔ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں بھی مسلمانوں اور دیگر پسماندہ کمیونٹیز کے لیے مزید بہتری کے اقدامات کیے جائیں گے۔”
راشٹریہ مدرسہ سنگھ کے لئے یہ حسین تاریخی موقعہ ایک انقلابی پیش رفت ہے۔ اس موقعہ پر ہم اپنی پوری ٹیم کو بالخصوص ڈاکٹر عبد الغنی القوفی کو بطور خاص مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ ہم سب کی محنت رنگ لائی، شبانہ روز کی انتھک کوششیں بار آور ہوئیں، کئی موقعے پر ایسا لگا کہ شاید ہماری کاوشیں پانی پر لکیر کھینچنے کے مترادف ہیں، لیکن سبھی نے اپنے حوصلے برقرار رکھے اور پوری تندہی سے ٹارگٹ پر توجہ بنائے رکھی، حوصلوں کو پست نہیں ہونے دیا اور ہمت مرداں مدد خدا کے مصداق رب العالمين نے آخر کار ہمیں یہ کامیابی نصیب فرمائی، اس عظیم تاریخی موقعہ پر ہم اپنے ساتھ اس طویل قانونی معرکہ آرائی میں شروع سے آخر تک سرگرم کردار ادا کرنے والے ماہوری ہوم اور بطور خاص جناب روی ٹھاکر صاحب جن کی لگاتار توجہ اور لگن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح وکلاء، سماجی کارکنان، اور تمام ان افراد کا بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے اس طویل قانونی جنگ میں ہمارے شانہ بشانہ رہ کر ہمارا ساتھ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے اقلیتوں میں احساسِ تحفظ بڑھے گا اور انہیں ریاستی امور میں مؤثر شمولیت کا موقع ملے گا۔
ایک تاریخی جیت، ایک روشن مستقبل کی نوید!
یہ فیصلہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر محروم طبقات کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس سے نیپال میں سماجی انصاف اور مساوی مواقع کے اصولوں پر مبنی ایک منصفانہ نظام کے قیام میں مدد ملے گی، جہاں ہر شہری کو اس کا حق ملے گا۔
یہ تاریخی کامیابی اقلیتوں کے حقوق کی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس سے نیپال میں بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی مساوات کو مزید فروغ ملے گا۔
یہ صرف ایک فیصلہ نہیں، ایک نئے دور کا آغاز ہے!
اس موقعہ پر راشٹریہ مدرسہ سنگھ کے قومی صدر ڈاکٹر عبد الغنی القوفی اور جنرل سیکرٹری مولانا مشہود خان نیپالی نے مشترکہ طور پر اپنی گزارشات میں کہا کہ:
نیپال میں مسلمانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں 4 فیصد کوٹہ تسلیم کیے جانے کا عدالتی اور قانونی فیصلہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔ یہ کامیابی برسوں کی محنت، قانونی جدوجہد، اور سماجی کارکنان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، جس کا فائدہ اب آنے والی نسلوں کو ہوگا۔ لیکن اس فیصلے کو صرف ایک قانونی جیت سمجھ کر مطمئن ہو جانا کافی نہیں ہوگا۔ اب وقت ہے کہ مسلمان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور آگے بڑھنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
یہ وقت ذمہ داری قبول کرنے کا ہے
یہ فیصلہ ایک نئے دور کا آغاز ہے، مگر اس کے حقیقی ثمرات اسی وقت ملیں گے جب مسلمان خود اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے سنجیدہ ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ:
تعلیم پر بھرپور توجہ دیںمسلم کمیونٹی کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ معیاری تعلیم حاصل کریں، خاص طور پر وہ مضامین اور شعبے اپنائیں جن میں سرکاری ملازمتوں کے زیادہ مواقع ہیں، جیسے:
قانون
سول سروس ( PSC طرز کے امتحانات)
پولیس اور دفاعی خدمات
ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ
میڈیکل اور صحت کے شعبے
مسابقتی امتحانات کی تیاری کریںنیپال پولیس، مسلح پولیس فورس (APF)، اور دیگر سرکاری شعبوں میں نوکری کے لیے مسابقتی امتحانات منعقد ہوتے ہیں۔ مسلم نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ان امتحانات کی تیاری کریں اور بھرپور محنت کے ساتھ کامیابی حاصل کریں۔ مدارس اور اسکولوں کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو اس حوالے سے رہنمائی فراہم کریں۔
حکومتی اداروں میں شمولیت کو یقینی بنائیںمسلمانوں کو چاہیے کہ وہ صرف پولیس اور دفاعی شعبوں تک محدود نہ رہیں، بلکہ حکومت کے مختلف اداروں میں بھی اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں، تاکہ ملک و ملت کے مفادات کا دفاع کیا جا سکے اور مسلمانوں کی ترقی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
مسلم قیادت کو فروغ دیںنیپال میں مسلمانوں کی قیادت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سیاست، سول سروس، اور دیگر بااختیار شعبوں میں آگے آئیں، تاکہ فیصلوں میں مسلمانوں کی نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔
مدارس اور دینی ادارے بھی اپنا کردار ادا کریںمدارس کے طلبہ کو جدید تعلیم اور مسابقتی امتحانات کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ دینی اور عصری علوم کو یکجا کرنے سے مسلم نوجوانوں کے لیے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
ملک و ملت کی تعمیر میں ہمارا کردار
یہ فیصلہ صرف ایک نوکری حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ مسلمانوں کے لیے ایک بڑے مقصد کی جانب پہلا قدم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کامیابی کو ایک مضبوط بنیاد بنائیں اور اس پر آگے بڑھیں۔ مسلمان نیپال کی ترقی میں برابر کے شریک ہیں اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانا ہوگا۔
یہ وقت ہے آگے بڑھنے کا، نیپال کی ترقی میں حصہ لینے کا، اور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کرنے کا۔ اگر ہم نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو شاید یہ کامیابی محض ایک قانونی دستاویز تک محدود ہو کر رہ جائے۔ اب وقت ہے کہ ہم تعلیم، محنت، اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں اور نیپال کے باوقار شہری کے طور پر اپنی شناخت کو مضبوط کریں۔
یہ کامیابی محض ایک فیصلہ نہیں، بلکہ ایک نئے دور کی شروعات ہے— اور اس کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
