محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک 
۱۔ تربیتی کلاسیس 
یہ سیمینار ، کانفرنسیس کیاچیز ہیں ،آپ سمجھے کہ نہیں ؟ نہیں سمجھے نا؟ یہ سب بڑی عمر کے افراد کی تربیت کے لئے لی جانے والی کلاسیس ہیں۔ دانشوروں کوبھی کلاسیس کی ضرورت پڑتی ہے۔ ظاہر میں سیمی نار ، کانفرنس وغیرہ میں اپنی صلاحیتوں کا وہ مظاہر ہ کرتے ہیں ، لیکن اندرونی طورپر ان کی اصلاح بھی ہوتی رہتی ہے۔ اچھا نہیںمانتے آپ ، کوئی بات نہیں۔مجھے منوانا نہیں آتا، اس کامیں قائل بھی نہیں ہوں۔آپ جو سمجھیں لیکن میری نظر میں کسی بھی عمر کے افراد کایکجاہونا ان کے فائدے کے لئے ہوتاہے۔ اسی لئے سیمینار ، کانفرنسیس،کتاب میلہ ،کمبھ کامیلہ، اجتماع وغیرہ میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بڑی عمرکے افراد بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔
۲۔ موکش 
’’اِتّے سارے لوگاں بھاگم بھاگ میں مرگئے، مرنے والوں کوموکش مل گیاکَتے ، کتِّی اچھی بات ہے، موکش (نجات) کاملنا ‘‘غوث باشاہ بولے تو انعام خان زلدی سے بولے ’’میاں کاں کے باتاںکرریں؟کچل کومرنے والوں سے میرے کُو ہمدردی ہے ، مگر ایساہواتوپھر سب لوگاں کچل کو مرجانے کو اچھاچ سم جھنگے ،اورییچ طریقہ اختیار کرِیں گے ،موکش حاصل کرنے کو‘‘غوث باشاہ سرکھجاتے ہوئے پوچھے ’’میں کیابی نئیں سمجھا‘‘انعام خان بولے ’’ہندودھرم میں بڑی تپسیا کے بعد موکش پراپت ہوتئے ، آسانی سے موکش مل جائے تو پھر لوگاں ہندودھرم کواختیار کرلیتے نا، ایساہمارکودیکھنے نئیں ملا۔ نجات پانے کے واسطے غاروں میں ، پہاڑوں کے اُپّر اور جنگلاں میں گھور تپسیا کرتے ہیں لوگاں، ایسے میں اگرکمبھ کے میلے میں لوگ کچل کو مرنے کو موکش کاذریعہ سم جھنگے تو یہ ایک نئے طریقہ کی دریافت ہوگی، موکش کا نیاطریقہ‘‘غوث باشاہ بولے ’’خان صاحب، آپ رائٹ بات کررِیں، مگر اس کے لئے ہندودھرم سنسد بلانا پڑتاشاید،دھرم سنسد بلاکو اتفاق کرتے ہوئے اتفاقاًکچل کے مرنے کوموکش کاآخری ذریعہ ماننا پڑنگا ‘‘ انعام خان بولے ’’بھئی میں زیادا نئیں جانتا ہندودھرم کے بارے میں، آپچ یہ باتاں نکالے ،میں کچھ بول دِیاورنہ میرے کو خود اسلام کے بارے میں بہت کم مالوم ہے ‘‘پھردونوں دلی الیکشن کے باتاں میں لگ گئے۔
۳۔سکھ کی سانس 
گھیراتنگ ہوتاجارہاتھا۔ اس نے اس گھیرے سے نکل بھاگنے کی کوشش کی۔ جس کے لئے ذہن کو تیزی سے چلانا لیکن آزاد بھی چھوڑناتھا۔ اس نے پوری کوشش کی اور ذہن کوآزاد رکھتے ہوئے تنگ گھیرے سے باہرنکل آیا۔کھانا کھانے کے بعد اس نے مقامی لیب میں شوگر ٹسٹ کیاتو آس پاس تھا۔اس نے سکھ کی سانس لی ۔ اسے یقین تھاکہ وہ مشکل حالات سے نکل ہی آئے گا۔ شوگر سے چکر اکر گرے گانہیں۔
۴۔افسر اور بے روزگار 
میں افسر سے ملاتھا۔ ڈررہاتھاکہ مجھے بھگانہ دے۔ بھلابرا نہ کہہ دے۔ افسران کاکوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ ویسے وہ چھوٹا افسرتھا۔ بڑا افسرتو دفتر میں نہیں تھا۔ ڈرتے ڈرتے میں نے استفسار کیاکہ پاسپورٹ کتنے دن میں بن جائے گا۔ افسر نے کہا’’سات دِن کے اندر‘‘ مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔ میں اس کاشکریہ اداکرتے ہوئے چلاآیا۔ باہر نکل کر میں نے محسوس کیاکہ افسرواقعی نرم دل ہے۔ مجھ جیسے ایک عام آدمی کو خوش دلی سے جواب دے کراس نے میرادل جیت لیاہے۔ مگر دوسرے دفاتر کے افسر ایسے نہیں ہوتے۔ لگتاہے میں روزگار کے حصول کے لئے جلد ہی اپنا ملک چھوڑ دوں گا۔
۵۔دل ٹوٹ گیا 
وہ کہہ رہے تھے ’’آپ کے چلے آنے سے میرادل ٹو ٹ گیا‘‘اور میں سوچ رہاتھاکہ ان کی تقریب میں شرکت کے سبب میرا جو نقصان ہوا اور اس نقصان کو میں نے عمدگی سے انگیز جو کرلیاہے تو یہ باتیں کس سے کہوں؟میں یہ تک نہیں کہہ سکتاکہ نقصان کے سبب میرادل جو ٹوٹاہے ا س کاقصوروار کون ہے ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے