نئی دہلی: 17؍فروری2025ء: اقرا انٹرنیشنل اسکول کے طلبہ و طالبات کا چودہواں سالانہ تعلیمی وثقافتی جشن کل نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا جس میں متعدد دینی،علمی،ادبی،تعلیمی،صحافتی،سفارتی اور سماجی شخصیات نے شرکت فرمائی۔علاوہ ازیں اس پروگرام میں اسکول کے طلبہ و طالبات کے والدین، سرپرست اور علاقہ جیت پور و مضافات کی متعدد شخصیات بھی شریک ہوئیں جنہوں نے طلبہ و طالبات کے ذریعہ پیش کئے گئے مقصدیت سے سے پر رنگ برنگے متنوع پروگراموں کو خوب پسند کیا اور دل کھول کر ان کی ستائش کی۔
پروگرام کا آغاز ادیبہ شاہین کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، پھر عالیہ احمد نے حدیث سنائی۔ بعد ازاں حمدان اینڈ گروپ نے انگریزی زبان میں استقبالیہ نظم پیش کیا۔اس کے علاوہ پلاسٹک کے استعمال کے نقصانات، اولڈ ایج ایک لعنت، ڈیجیٹل اریسٹ اور اے آئی دودھاری تلوارجیسے حساس موضوعات پر اسکولی طلبہ و طالبات نے نہایت سہل مگر دلچسپ انداز میں تمثیلیہ پیش کیا،ان بامقصد اور معنیٰ خیز پروگراموں کے ذریعہ انہوں نے معاشرتی برائیوں پر کنٹرول، سوشل سائٹس کے استعمال میں احتیاط برتنے، جدید ایجادات ہی پر کلی اعتماد نہ کرنے اور انسانی زندگی میں مصنوعی ذہانت پر آنکھ موند کر انحصار نہ کرنے کا پیغام دیا۔عریشہ سعدکلاس ششم اور ان کی سہیلیوں نے ’’انٹرنیٹ طلبہ کے لئے مفید یا مضر‘‘ کے عنوان سے انگریزی زبان میں انتہائی مفید مکالمہ پیش کیا۔ طلبہ کے ایک گروپ نے ’’بے خوف پرندہ‘‘تو دوسرے گروپ نے ’’چھوٹے چھوٹے پاؤں‘‘، تیسرے گروپ نے ’’تھینکس ٹو اللہ‘‘ جیسے خوبصورت نغموں اور پوئمس پر پرفارم کیا۔امانت انصاری کلاس ہفتم، عائشہ کلاس سوم، سودا کلاس پنجم، ذکریٰ قریشی کلاس پنجم، صاعقہ ہدی کلاس دہم اور رقیہ کلاس دہم نے نہایت ہی موثر انداز میں مختلف اہم موضوعات پراردو، ہندی، انگلش اور عربی زبانوں میں تقاریر پیش کیں اور سامعین سے داد تحسین حاصل کیں۔اس کے علاوہ عظمیٰ سہراب کلاس ہفتم اور ان کی سہیلیوں نے ’’شہر کے چھ بڑے بیوقوف‘‘ کے عنوان سے معنیٰ خیزمزاحیہ تمثیلیہ پیش کیا۔ ان تمام پروگراموں کو حاضرین نے پوری دلجمعی اور انہماک سے سنا اور دیکھا، اسکول کے ذمہ داران کی ستائش کی، اساتذہ و معلمات کی کارکردگی پر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے اپنی نیک دعاو?ں سے نوازا۔
اس موقع پر اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی نے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور اسکول کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ آپ نے کہا کہ والد گرامی نازش ملک و ملت حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے جن نیک مقاصد اور اعلی وژن کے تحت یہ ادارہ قائم کیا تھا،آج کا یہ پروگرام دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہم صحیح سمت میں گامزن ہیں۔آپ نے کہا کہ اقرا انٹرنیشنل اسکول نونہالان قوم و ملت کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے زیور سے بھی آراستہ کرتا ہے تاکہ کل یہ طالبات عملی زندگی میں پرامن اور ذمہ دار شہری بنیں، دیش کی تعمیرو ترقی میں اپناسرگرم رول نبھائیں اور مختلف حیثیتوں سے وطن عزیز کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے سکیں۔
مولانا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تعلیم بہت موثر اور کارآمد ہتھیار ہے۔ تعلیم ہی کی برکت ہے کہ اتنی بڑی بڑی شخصیات اس دور دراز علاقہ میں تشریف فرماہیں،ورنہ ان شخصیات سے ملنااور ان سے مستفید ہونے کے لئے بمشکل تمام گنجائش نکل پاتی ہے۔
چودہویں سالانہ اجلاس میں بطور مہمان شریک سابق ایمبسڈر جے کے تری پاٹھی نے طلبہ و طالبات کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیا۔ آپ نے کہا کہ دنیا میں باعزت زندگی تعلیم سے ہی ممکن ہے اور اقرا انٹرنیشنل اسکول کے بچے اور بچیوں کے معنیٰ خیز ثقافتی پروگراموں کو دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آپ تمام صحیح علمی درسگاہ میں علمی تشنگی بجھارہے ہیں۔
معروف صحافی راہل گپتا نے اسکولی طلبہ و طالبات کے ذریعہ پیش کردہ پروگراموں کوحیرت انگیز قرار دیا اور کہا کہ مجھے خوشگوار حیرت ہورہی ہے کہ مولانا اظہر مدنی جیسے نوچوان اس ادارے کی کامیاب سرپرستی کررہے ہیں اورنسلِ نو کے اذہان و قلوب میں وطن سے الفت و محبت کے جذبات کی آبیاری فرمارہے ہیں۔
تعلیم کے میدان سے وابستہ شلونی ورما نے چودہویں سالانہ پروگرام کو دیکھ کر کہا کہ اس پروگرام کو ڈیزائن اور تیار کرنے میں اساتذہ و معلمات نے جس عرق ریزی اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ واقعی نہایت عمدہ،لائق مبارک اور قابل رشک ہے۔ بچوں کے ذریعہ پیش کئے گئے سبھی پروگرام انتہائی مفید اور نہایت معنیٰ خیز ہیں۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر ایڈوکیٹ فیروز احمد انصاری نے طلبہ و طالبات کے ذریعہ عربی، ہندی، اردو اور انگلش چاروں زبانوں میں پیش کئے گئے تمام پروگراموں کے بارے میں کہا کہ مولانا اظہر مدنی عظیم کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔یقینا اس چودہویں سالانہ پروگرام میں طلبہ و طالبات کے ذریعہ پیش کی گئی سبھی تقاریر، تمثیلیہ، مکالمات اور ایکٹس حددرجہ مفید اور لائق فکرو عمل تھے۔
جے این یو کے صدر عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز سنٹر جے این یو نے کہا کہ علاقہ جیت پور میں اس عالمی معیار کیاسکول اور اس میں طلبہ و طالبات کی قابل ستائش کارکردگی دیکھ کر بہت خوش ہوں۔ طلبہ و طالبات قوم کی امانت ہیں جنہیں صحیح تعلیم و تربیت سے مزین کرنا ضروری ہے اور اس زمانے میں قلت وسائل کا بہانہ نہیں کیاجاسکتا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم احمد صاحب نے اسکول اپنی آمد اور بچوں کی عمدہ کارکردگی پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ تعلیم کے میدان میں کاوشیں جاری رہنی چاہیی۔ آپ نے کہا کہ اردو، ہندی، انگریزی حتی کہ عربی زبانوں میں بچوں کے پروگرام، الفاظ کے تلفظ اور طرز ادا دیکھ کر دنگ ہوں اور میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ واقعی اساتذہ و معلمات نے بچوں کو بہت محنتوں سے تراشا اور خراشا ہے۔
معروف صحافی آصف ریاض نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج سے سات سال قبل اس ادارے کے پروگرام میں شریک ہوا تھا،پھر دوبارہ شریک ہوکر بہت خوش ہوں۔ مولانا اظہر صاحب اور ان کے رفقائے کار علم کے فروغ میں قابل ذکر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے میڈیا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے طلبہ اور ان کے گارجینس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقرا انٹرنیشنل اسکول ایک تعلیمی واصلاحی تحریک ہے جسے عالم اسلام کی معتبر دینی وعلمی اور سماجی شخصیت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے قوم ووطن کے نونہالان کو زیور تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے لئے قائم کیا ہے اور جو تقریباًً پندرہ سالوں سے علاقے میں علم ونور کی کرنیں بکھیر رہا ہے اور جس نے تعلیمی بیداری،قومی یک جہتی،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن وشانتی کے قیام میں اہم کردارادا کیا ہے۔چنانچہ والدین اور گارجینس کو چاہئے کہ شکرگزاری کے جذبے سے سرشار ہوگر ان کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ یہ چمن تناور درخت بن کر اپنا فیض مزید عام کرسکے۔
معروف صحافی ڈاکٹر محمد اطہرالدین منے بھارتی نے اس موقع پرتعلیم کے فروغ میں مولانا اظہر مدنی اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو قابل رشک اور آئیڈیل قرار دیا۔
اس تقریب میں مزید جن اہم شخصیات نے خطاب فرمایا ان میں معروف سماجی کارکن نوراللہ خان،معروف سرجن ڈاکٹر محمد اسعد اصغر اور ڈاکٹر فوزیہ اصغر وغیرہ اہم اور قابل ذکر ہیں۔
اس موقع پر تعلیمی سال 2023-25میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے ناموں کا اعلان بھی عمل میں آیا۔چنانچہ پہلی کلاس میں عبدالعظیم،دوسری کلاس میں عائشہ پروین، تیسری کلاس میں عرش احمد، چوتھی کلاس میں محمد زید، پانچویں کلاس میں نمیرہ ندیم، چھٹی کلاس میں ہما فردوس، ساتویں کلاس میں امانت انصاری اور آٹھویں کلاس میں حذیفہ پروین نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ عائشہ انصاری کلاس اول، مریم کلاس دوم، صاحبہ کلاس سوم، سودا کلاس چہارم، عفان احمد کلاس پنجم، ادیبہ توصیف کلاس ششم، ابا خان کلاس ہفتم اور عشرہ سلیم نے دوسری پوزیشن حاصل کئے۔ اسی طرح پہلی کلاس کی ادیبہ، دوسری کلاس کی طالبہ فلک میر، تیسری کلاس کی صالحہ، پانچویں کلاس کی طالبہ نازنین پروین، چھٹی کلاس کی نور ثنا، ساتویں کلاس کی سنبل اور آٹھویں کلاس کی بشری نے اپنی اپنی کلاسوں میں تھرڈ پوزیشن حاصل کیا۔ ان سبھی طلبہ و طالبات کو شیلڈ اور توصیفی اسناد سے نوازا گیا۔
چودہویں سالانہ پروگرام میں مختلف علمی مسابقات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کو شیلڈ دے کر تکریم کی گئی۔ اس موقع پر مہمانوں کے ہاتھوں اساتذہ و معلمات کی بھی تشجیع ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے