بارہ بنکی (ابوشحمہ انصاری): مجاہد آزادی اور سابق مرکزی وزیر رفیع احمد قدوائی کی جینتی کے موقع پر قصبہ مسولی میں واقع ان کے مزار پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ صبح سویرے میلاد خوانی اور گل پوشی کے ذریعے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا، جس کے بعد اسکول کے طلبہ و طالبات نے حب الوطنی پر مبنی پروگرام پیش کیے۔

اس موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب میں علمی، سماجی اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ رفیع احمد میموریل ٹرسٹ کے چیئرمین و سابق کارگزار وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی نے اپنے خطاب میں کہا:”رفیع احمد قدوائی جیسی عظیم شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کی قربانی، ایمانداری اور خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی وجہ سے آج مسولی عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔”

ڈاکٹر عمار رضوی نے مزید کہا کہ مسولی کو تعلیمی اور صنعتی مرکز بنانے کی ضرورت ہے، جہاں تکنیکی تعلیم کے فروغ کے لیے آئی ٹی آئی اور پولی ٹیکنک جیسے ادارے قائم کیے جائیں۔ انہوں نے تعلیمِ نسواں پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کی خواتین ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، چاہے وہ ہوائی جہاز اڑانا ہو یا فوجی منصوبہ بندی۔ ایسے میں ضروری ہے کہ مسولی میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مزید ادارے قائم کیے جائیں۔

انہوں نے موجودہ ممبر اسمبلی حاجی فرید محفوظ قدوائی سے اپیل کی کہ وہ ان تعلیمی اداروں کے قیام میں تعاون کریں تاکہ علاقے کے نوجوانوں کو بہتر تعلیمی اور روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔

رفیع میموریل گرلز کالج میں منعقدہ تقریب کی نظامت معلمہ بے نظیر خالد نے کی، جبکہ تقریب میں فیضان قدوائی، للّن ورما، جمیل حسن نقوی، ابوشحمہ انصاری، زہیب قدوائی، صبا ظاہر (پرنسپل، رفیع میموریل گرلز انٹر کالج)، سوریندر کمار پانڈے، اسرا قدوائی، رابعہ، سعود احمد قدوائی، طارق قدوائی سمیت متعدد طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

یہ تقریب رفیع احمد قدوائی کی قربانیوں اور خدمات کو یاد کرنے کا ایک اہم موقع ثابت ہوئی، جس میں انہیں بھرپور عقیدت کے ساتھ خراج تحسین پیش کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے