محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار اپنی منصبی مدت بروز منگل 65 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد 18فروری کو سبکدوش ہو گئے ہیں ، ان کی جگہ گیانش کمار کو نیا چیف الیکشن کمشنر مقرر کر دیا گیا ہے جو 26جنوری 2029 تک موجودہ حیثیت میں خدمات انجام دیں گے، سی ای سی راجیو کمار نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ”ہندوستان کا جمہوری نظام اپنی خوبیوں کے ساتھ دنیا کے تمام ممالک کے لیے مشعل راہ ہے، ہمیں اپنی اس”سافٹ پاور” (عزت و وقار کی طاقت) کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔” راجیو کمار نے کہا، "میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں کمیشن کو زیادہ بااختیار، پُرعزم اور پیشہ ور ہاتھوں میں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔” انہوں نے کمیشن کے حوالے سے وقتاً فوقتاً اٹھائے جانے والے سوالات کا بھی ذکر کیا اور کہا، "ایک ادارے کے طور پر الیکشن کمیشن پر اکثر غیر منصفانہ الزامات لگتے رہتے ہیں، اور یہ الزامات ان لوگوں کی طرف سے ہوتے ہیں جو انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔” انہوں نے انتخابات کے بعد کمیشن کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ایک بڑی تشویش کا موضوع قرار دیا، اور کہا کہ یہ مان لیا گیا ہے کہ اس ادارے کو بڑی آسانی سے قربانی کا بکرا بنایا جا سکتا ہے” انہوں نے ووٹروں کی اور ان کی بھرپور شرکت، بالخصوص خواتین ووٹروں کی تعریف کی اور کہا کہ انتخابی عمل مزید شمولیت کی طرف بڑھ رہا ہے”۔
راجیو کمار نے اپنے دور میں 31 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انتخابات، صدارتی اور نائب صدر کے انتخابات سن 2022، لوک سبھا انتخابات 2024 اور راجیہ سبھا کی تجدید کے ساتھ ایک مکمل انتخابی چکر مکمل کیا ہے، جو انتخابی انتظام میں ایک نادر اور یادگار کارنامہ ہے، راجیو کمار نے یکم ستمبر 2020 کو الیکشن کمشنر کے طور پر ای سی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی اور 15 مئی 2022 کو ہندوستان کے 25 ویں چیف الیکشن کمشنر کے طور پر چارج سنبھالا تھا۔ کمیشن میں ان کی مدت کار 4.5 سال پر محیط ہے، سابق چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار پر ان کی پوری مدت کار میں تقریباً تمام پارٹیوں نے مودی سرکار کو فائدہ پہنچانے کے لئے کام کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں، ان کے علاوہ ملک کے انتخابات پر نظر رکھنے والے صحافیوں، تبصرہ نگاروں نے بھی ان پر کئی موقعوں پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں، پروفیشنلز کانگریس اور ڈاٹا اینالیٹکس کے چیئرمین پروین چکرورتی نے گزشتہ دنوں ایک بیان جاری کیا تھا جس میں مہاراشٹر اسمبلی انتخاب سے متعلق کچھ حقائق سامنے رکھے تھے ۔ انھوں نے ریاست میں بالغ شہریوں کا سرکاری ڈاٹا پیش کیا تھا جو کہ ریاست میں ووٹروں کی کُل تعداد سے بہت کم تھی، ڈاٹا پیش کرتے ہوئے پروین چکرورتی نے سوال کیا تھا کہ ”اگر یہ (نام ہٹانے یا جوڑنے) عمل اتنا ہی مضبوط ہے تو پھر ایسا کیسے ہوا کہ مہاراشٹر میں کُل اہل ووٹروں کی تعداد نریندر مودی حکومت کی اپنی رپورٹ کے مطابق، کُل بالغ (18 سال سے زائد عمر والی) آبادی سے زیادہ معلوم ہوتی ہے؟” پروین چکرورتی کا کہنا تھا کہ راجیو کمار کو بڑی بڑی باتیں کرنے کی جگہ اصلاح سے متعلق اقدام کرنے چاہئیں، کیونکہ یہی ہندوستانی جمہوریت کے مفاد میں ہوگا۔” دراصل راجیو کمار نے ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے 7 جنوری کو منعقد پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مکمل دستاویزات فراہم کرنے، موقع پر پہنچ کر کی گئی تصدیق اور متعلقہ شخص کو سماعت کا موقع دیے بغیر کوئی نام نہیں ہٹایا جا سکتا۔ اسی بیان کو پروین چکرورتی نے مودی حکومت کا ڈاٹا سامنے رکھ کر غلط ثابت کرنے کی کوشش کی تھی ۔ انھوں نے چیف الیکشن کمشنر کے سامنے یہ سوال داغا تھا کہ ”کیا الیکشن کمیشن نے مہاراشٹر اسمبلی انتخاب کے لیے مجموعی بالغ آبادی سے زیادہ ووٹرس کا رجسٹریشن نہیں کیا ہے؟” انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مہاراشٹر اسمبلی انتخاب کے لیے صرف 4 ماہ میں تقریباً 50 لاکھ نئے ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے ۔کانگریس لیڈر پروین چکرورتی نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 2024 میں مہاراشٹر میں 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد 9.54 کروڑ ہونے کا اندازہ ہے، لیکن الیکشن کمیشن نے اسمبلی انتخاب کے لیے کُل 9.7 کروڑ ووٹروں کا رجسٹریشن کیا ہے، پروین چکرورتی کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے جیسے الیکشن کمیشن نے 16 لاکھ سے زائد ووٹروں کا رجسٹریشن کیا ہے۔ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ملک کی جمہوریت کے مفاد میں یہ ضروری ہے کہ ووٹروں کے بھروسہ کو مضبوط کرنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر بڑی بڑی باتیں کرنے اور شاعری کرنے کی جگہ تلخ حقائق کا اعتراف کریں۔ انھیں چاہیے کہ وہ ایک ذمہ دار عوامی خدمت گار کی شکل میں اصلاحی قدم اٹھائیں”. لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے نئے چیف الیکشن کمشنر دیانیش کمار کے انتخاب کے لیے کمیٹی کی میٹنگ میں اختلاف ظاہر کیا تھا اور کمیٹی کی تشکیل کو ہی غیر متوازن قرار دیا تھا، وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور راہل گاندھی کی موجودگی والی سلیکشن کمیٹی نے سوموار 17 فروری کو نئے الیکشن باڈی کے سربراہ کا انتخاب کرنے کے لیے میٹنگ کی تھی ۔یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی تھی جب سی ای سی راجیو کمار ایک دن بعد 18 فروری کو عہدے سے سبکدوش ہو رہے تھے ۔ راجیو کمار کی سبکدوشی سے خالی ہونے والی اسامی، متنازعہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری، سروس کی شرائط اور میعاد ایکٹ، 2023 کے پارلیامنٹ سے منظور ہونے کے بعد پہلی تقرری ہے ۔نئے قانون کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری صدر کی طرف سے سلیکشن کمیٹی کی سفارش پر کی جائے گی، جس میں (1) وزیر اعظم اس کمیٹی کے صدر ہوں گے۔ (2) لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف ممبر ہوں گے اور (3) وزیراعظم کی جانب سے ممبر کے طور پر نامزد ایک مرکزی کابینہ وزیر ہوں گے، یہ قانون 2023 میں منظور کیا گیا تھا، جس کے چند ماہ بعد سپریم کورٹ کی ایک آئینی بنچ نے فیصلہ دیا تھا کہ "الیکشن کمشنروں کی تقرری صدر کے ذریعے وزیر اعظم، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور چیف جسٹس آف انڈیا پر مشتمل کمیٹی کے مشورے پر کیا جانا چاہیے”۔ تقریباً 30 منٹ تک چلنے والی اس میٹنگ میں حکومت نے اگلے چیف الیکشن کمشنر کے لیے پانچ نام تجویز کیے، جن میں موجودہ الیکشن کمشنر گیانیش کمار بھی شامل ہیں۔ میٹنگ میں شامل ہونے والے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سلیکشن کمیٹی کی تشکیل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر متوازن قرار دیا اور سپریم کورٹ میں قانون کو چیلنج کیے جانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے میٹنگ کا کوئی جواز نہیں، میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی نے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سے الیکشن کمشنر کے ناموں کی فہرست دیکھنے کی درخواست کی، لیکن انہوں نے دیکھنے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک بار پھر کمیٹی کی تشکیل پر سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے، اس کے باوجود سوموار کی رات وزارت قانون نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر بنانے کا اعلان کر دیا۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی اے ایس افسر وویک جوشی (ہریانہ کیڈر) کو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔” اس سے قبل سوموار کو ایک پریس کانفرنس میں کانگریس پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اور سپریم کورٹ کے معروف وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ”سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ کو ملتوی کر دینا چاہیے تھا کیونکہ اس قانون کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سپریم کورٹ میں 19 فروری کو سماعت ہونی ہے۔” انہوں نے کہا، "مودی حکومت کی جانب سے 2023 میں چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے لیے متعارف کرائے گئے نئے قانون چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔” سنگھوی نے مزید کہا، "اب تک سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں تین حکم جاری کیے ہیں اور اگلی سماعت 19 فروری کو ہونی ہے۔ اس لیے سی ای سی کے انتخاب پر کانگریس کا موقف بالکل واضح ہے کہ سی ای سی کے انتخاب کے حوالے سے آج کی میٹنگ ملتوی کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا، "مودی حکومت کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنی چاہیے کہ چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب سے متعلق سماعت جلد کی جائے۔ کانگریس اس میں حکومت کی مکمل حمایت کرے گی”. چنانچہ نئے چیف الیکشن کمشنر گیانش کمار اپنے عہدے کا چارج لینے کے بعد، انہوں نے نوجوان ووٹروں سے خاص اپیل کی کہ وہ جمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔انہوں نے کہا، ’’قوم کی تعمیر کی پہلی سیڑھی ووٹ ڈالنا ہے۔ جو بھی 18 سال کی عمر کو پہنچ چکا ہے، اسے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا چاہیے۔ ہندوستان کا الیکشن کمیشن ہمیشہ سے ووٹروں کے ساتھ تھا اور ہمیشہ رہے گا۔‘‘ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار 1988 کے بیچ کے کیرالہ کیڈر کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ہیں۔ وہ راجیو کمار کی قیادت میں تین رکنی الیکشن کمیشن کے سب سے سینئر رکن تھے۔ کمیشن کے دوسرے رکن اتراکھنڈ کیڈر کے آئی اے ایس افسر سکھبیر سنگھ سندھو ہیں، جو اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے، گیانیش کمار نے مختلف اہم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اس سے قبل پارلیمانی امور اور کوآپریٹو امور کی وزارتوں میں سیکریٹری کے طور پر تعینات رہ چکے ہیں۔ وزارت داخلہ میں اپنے دور کے دوران، انہوں نے جموں و کشمیر امور کے انچارج کے طور پر اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ جب 2019 میں آرٹیکل 370 کو ختم کیا گیا تھا، تو وہ اس وقت وزارت داخلہ میں جموں و کشمیر ڈیسک کے سربراہ تھے۔ گیانیش کمار نے رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے، اس لئے انہیں مودی شاہ کے قریبی مانے جاتے ہیں، کچھ کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ راجیو کمار سے 2029 میں مودی، شاہ کی حکومت سازی میں مدد کرنے والی جو چیزیں رہ گئی ہیں اسے پورا کرنے کے لئے ہی انہیں یہ کلیدی عہدہ سونپا گیا ہے، علاوہ ازیں، انہوں نے کیرالہ میں مختلف عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں ہیں، جن میں ایرناکولم کے ضلع مجسٹریٹ اور کیرالہ اسٹیٹ کوآپریٹیو بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے شامل ہیں۔تعلیمی پس منظر کے لحاظ سے، گیانیش کمار نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کانپور سے سول انجینئرنگ میں بی ٹیک کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے آئی سی ایف اے آئی سے بزنس فنانس اور ہارورڈ یونیورسٹی سے ماحولیاتی اقتصادیات کی تعلیم بھی مکمل کی۔ گیانیش کمار نے 15 مارچ 2024 کو الیکشن کمشنر کے طور پر اپنی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ اس وقت انہیں اور سکھبیر سنگھ سندھو کو الیکشن کمیشن کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اب وہ کمیشن کے سربراہ کے طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ وہ اس سال بہار میں اسمبلی انتخابات اور اگلے سال مغربی بنگال، آسام اور تمل ناڈو میں ہونے والے انتخابات کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ان کی مدت کار 26 جنوری 2029 تک رہے گی۔ گیانیش کمار کے چار سالہ دور میں 20 ریاستوں اور 1 مرکز کے زیر انتظام علاقے (پڈوچیری) میں انتخابات ہوں گے۔ اس کی شروعات بہار اسمبلی انتخابات سے ہوگی اور آخری انتخابات میزورم میں ہوں گے۔ ادھر سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اور الیکشن کمشنرز کی تقرری کے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر 19 فروری کی سماعت ملتوی کر دی ہے۔ یہ قانون الیکشن کمشنرز کے انتخاب کے لیے تشکیل دیے گئے پینل سے ہندوستان کے چیف جسٹس کو ہٹانے سے متعلق ہے، جس پر کئی درخواست گزاروں نے اعتراض اٹھایا تھا۔ یہ معاملہ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بینچ کے سامنے زیر سماعت تھا۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل (ایس جی) سرکار کے سب سے بڑے وکیل تشار مہتا نے عدالت سے درخواست کی کہ سماعت کسی اور دن کے لیے مؤخر کر دی جائے، کیونکہ وہ آج دن بھر آئینی بنچ کے سامنے ایک اہم معاملے میں مصروف ہیں، درخواست گزاروں کی طرف سے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے فوری سماعت پر زور دیا اور اسے پہلے معاملے کے طور پر سننے کی اپیل کی۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ وہ پہلے سے زیر سماعت کیس کے بعد ہی اس معاملے پر غور کر سکتی ہے۔ پرشانت بھوشن نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ سالیسٹر جنرل کی مصروفیات کی وجہ سے کسی بھی معاملے کو غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ سرکاری پینل میں ان کے علاوہ مزید 17 افسران بھی موجود ہیں جو عدالت میں حکومت کا مؤقف پیش کر سکتے ہیں”۔
مگر عدالت نے پرشانت بھوشن کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل سے کہا کہ وہ اپنی دستیابی سے متعلق آگاہ کریں تاکہ عدالت سماعت کی نئی تاریخ طے کر سکے۔ چونکہ آئینی بنچ کی سماعت پورے دن جاری رہنے کی توقع ہے، اس لیے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری کے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت کے لیے اگلی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے، بعض حوالوں سے یہ خبر بھی آ رہی ہے کہ کھنا اس کیس سے خود کو الگ کر لئے ہیں، اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ صاف اشارہ ہے کہ ہر جگہ ایک خوف کا سایہ ہے جو کسی بھی سیکولر ملک کے لئے اس کی ریڑھ کی ہڈی پر کاری ضرب ہے. ع آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
