از قلم : عرفان افضل 

بقول: عبد العزیز داغ 
موت تو طے ہے آنی ہے
جان تو اپنی جانی ہے
عبد العزیز داغ کا جنم 23 ستمبر 1970 کو بنگلور میں ہوا۔ آپ نے بارویں تک کی تعلیم حاصل کی۔ آپ کو ادبی محفلوں کا شوق بہت پہلے ہی لگ چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کے آپ بنگلور و اعتراف کے ادبی مشاعروں میں مدعو کئے جانے لگے۔ شہر گلستانِ ہند بنگلور کے کاروانِ اردو ادب بنگلور کے کئی طرحی مشاعروں میں آپ نے پہلا انعام حاصل کیا ہے۔ اسی طرح بنگلور سے ممبئی اور مدراس سے برہان پور کے کئی کل ہند مشاعروں میں شرکت فرمائی۔ آپ شاعری کے علاؤہ ملی و سماجی فلاحی کاموں میں بہت ہی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔
گلستان شادی محل وقف ادارے کے آپ رکن بھی رہ چکے ہیں۔ آپ کئی ادبی اداروں سے جڑے رہے۔ بزمِ امید فردا کے کئی آن لائن "ایک ملاقات۔۔۔” کی نظامت فرمائی اور بزم سے جڑے رہے۔ یوں کہیں تو بے جا نہ ہوگا آپ بزمِ امید فردا کی روح تھے۔
کورونا میں بند کے دوران آپ مستحق احباب کے لئے رشد پہنچاتے ہوئے پولیس کے ڈنڈوں سے بھی ملاقات کی تھی لیکن ڈنڈوں کی مار نے ملی و سماجی خدمات کے جوش کو کم نہ ہونے دیا۔
27 فروری 2025 کو کرناٹک اردو اکادمی نے آپ کو سال 2025 کے خصوصی انعام سے نوازا تھا۔  اس تقریبِ تقسیم انعامات میں آپ کی شرکت نے کئی احباب کو چونکا دیا تھا۔ چوں کے فالج کی وجہ سے آپ کچھ سالوں سے گھر کی چار دیواری میں قید ہو کر رہ گئے تھے کسی کو امید نہ تھی کہ آپ ایسے شرکت بھی کر سکتے تھے۔
3 مارچ 2025 مغرب کے وقت آپ نے اس دارِ فانی کو الوداع کہا "انا للہ و انا الیہ راجعون”۔
آپ کے کئی کلام بالخصوص نعتیہ کلام ادبی حلقوں میں خوب پسند کئے گئے۔
بقول محمود رامپوری
"موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
 یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے”
آپ کی رخصتی یقیناً اردو ادب کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے اور اس کا پْر ہونا ناممکن نہ صحیح فوری ممکن بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے عبد العزیز داغ صاحب کی مغفرت فرمائے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا کرے اور انکی اہلیہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے