مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی

_________________

 ارکان اسلام میں ایک اہم رکن نماز قائم کرنا ہے،نماز کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم: فرض نمازیں جن کی معرفت ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے،یہ فرض نمازیں پانچ ہیں: فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء

دوسری قسم: تطوع، نفل نماز ہے

تطوع نمازوں میں ایک مشہور نماز ہے جو بعد نماز عشاء سے طلوع فجر صادق کے درمیان ادا کی جاتی ہے۔آخری شب میں پڑھنا افضل ہے۔

اس وقت شب میں ادا کی جانے والی نماز کی بڑی اہمیت ہے اور خاص فضیلت ہے ۔فرمان نبوی کے مطابق یہ بندہ مسلم کے افضل اعمال میں سے ہے،اسی نماز کے کتاب و سنت سے ماخوذ چند نام ہیں اور اس کا ایک نام صلوۃ التراویح بھی ہے،جو بہت مشہور ہے،جب کہ یہ نام نہ قرآن میں ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں ہے۔ یہ اسی نماز کا وصفی نام سلف کے زمانے سے جاری ہوا ہے

اس کے اصل نام یہ ہیں:

1- صلاۃ تہجد

2- صلوۃ اللیل

3- قیام اللیل

4-صلاۃ الوتر متعدد احادیث میں صلاۃ اللیل کو صلاۃ وتر کہا گیا ہے۔

یہی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین شب باجماعت پڑھائی، پھر باجماعت آپ نے نہ پڑھائی اور وجہ بھی بتائی، ہاں پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں باجماعت پڑھی جانے لگی۔

چوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل نماز تہجد پڑھتے تھے۔

سلف بھی طول قیام طول رکوع و سجود فرماتے تھے تو درمیان میں ترویحہ (اپنے کو آرام پہونچانا) ہوتا تھا، اسی سے اس نماز کو لوگ تراویح والی نماز کہنے لگے۔

خلاصہ تحریر یہ ہے کہ صلاۃ تراویح جو ہمیشہ سے مشروع رہی ہے، یعنی تہجد، قیام اللیل، صلوۃ اللیل اور صلاۃ الوتر اس نماز کی تعداد ہمیشہ ایک رہی ہے اور وہ ہے اٹھ اور تین رکعت وتر کے ساتھ 11 رکعت اور اگر کوئی عشاء کے بعد دو سنت مؤکدہ کو بھی شمار کرے، تو کل تیرہ بن جاتی ہے۔

تعداد رکعات تراویح کے سلسلے میں قول فیصل أم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ بیان ہے، جو صحیح بخاری میں مروی ہے، لیکن افسوس ایک آسان مسئلہ کو پیچیدہ اور نزاعی بنا دیا گیا ہے۔

ٹھیٹھ سنت یہی ہے کہ رمضان میں باجماعت قیام اللیل (تراویح) وتر سمیت 11رکعت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے