وجئے پور :(محمدیوسف رحیم بیدری): شعبہ اردو سیکیاب اے آر ایس انعامدار ڈگری کالج برائے خواتین وجئےپور کے زیر اہتمام توسیعی لیکچر بعنوان اقبال اور قرآن کا انعقاد عمل میں آیا اس جلسہ کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد مقیم احمد اسسٹنٹ پروفیسر چندر شیکھر ڈگری کالج منا اکھیلی ضلع بیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ اقبال کا کلام قرآن و حدیث سے ہٹ کر نہیں بلکہ ان کا کلام قرآن و حدیث کی روشنی میں لکھا گیا ہے، علامہ اقبال کی فکری اساس قرآن مجید ہے ان کی فکر کا محور قرآن ہے ان کی سوچ کا مبدا قرآن ہے علامہ اقبال داعی قرآن ہے علامہ اقبال کا خیال ہے کہ مسلمانوں کی ترقی عروج و زوال سب قرآن سے جڑا ہے.لہزا مطالعہ اقبال اس وقت کا اہم تقاضہ ہے.
اس موقع پر ڈاکٹر محمد سمیع الدین ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو سیکیاب اے آر ایس انعامدار ڈگری کالج برائے خواتین وجئےپور نے اپنے خیالات میں کہا کہ علامہ اقبال روزانہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور جب وہ شاعری لکھتے لکھتے بیزار ہو جاتے تو قرآن پڑھتے اور لکھتے اور قرآن پڑھتے یہ ان کا معمول تھا اس لیے اقبال کہتے ہیں کہ ” وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر، اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر۔
اس جلسہ کے صدر ڈاکٹر ایچ کے یڑہلی پرنسپل سیکیاب اے آر ایس انعامدار ڈگری کالج برائے خواتین وجئےپور نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقبال اردو شاعری کے ذریعے قوم کو جگانے کا کام کیا ہے، اور ہندوستان کی عظمت کے راگ الاپے ہیں اور مزید کہا کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے یہ مشترکہ زبان ہے اس کا جنم ہندوستان میں ہوا، اور بچوں کی ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہونا چاہیئے۔
اس جلسہ کا آغاز صغریٰ پٹیل کی قرآت کلام پاک سے ہوا، خیر مقدمی و تعارفی کلمات ڈاکٹر محمد سمیع الدین نے ادا کیا نظامت کے فرائض تسنیم آرا سکلگر نے انجام دئیے اور شکریہ صفورہ بورگی نے ادا کیا اس موقع پر وائس پرنسپل و صدر شعبہ اردو ڈاکٹر ہاجرہ پروین کے علاوہ کثیر تعداد میں طالبات موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے