حیدر آباد 17/ مارچ(مشرقی آواز جدید): حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ رمضان کے عشرہ رحمت کے اختتام کے ساتھ ہی عشرہ مغفرت کا آغاز ہو چکا ہے۔ رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ مغفرت بخشش کا عشرہ کہلاتا ہے۔ دوسرے عشرے کا مقصد انسان کو اپنی کمزوریوں اور گناہوں کا ادراک کرنا ہے، تا کہ وہ اپنے رب سے تو بہ کر کے اپنی زندگی میں بہتری لا سکے۔ اس عشرے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مغفرت فرماتا ہے اور گناہوں کو معاف کرنے کے دروازے کھول دیتا ہے۔ رمضان المبارک کو تین عشروں میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور ہر عشرہ ایک مخصوص فضیلت اور برکت کا حامل ہوتا ہے۔ رمضان کے دوسرے عشرے کے فضائل بہت اہم اور بابرکت ہیں۔ دوسرے عشرے کے فضائل مغفرت کا اعلان یہ عشرہ خاص طور پر گناہوں کی معافی اور اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لیے ہے۔ اس دوران سچے دل سے توبہ کرنے والوں کے لیے مغفرت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” رمضان کا پہلا عشرہ رحمت ، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا ہے۔ دعا اور استغفار کی قبولیت اس عشرے میں خاص طور پر استغفار (یعنی معافی مانگنے) کی زیادہ سے زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ سلسلہ بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ عشرہ لیلۃ القدر کی تیاری چونکہ تیسرا عشرہ قریب آ رہا ہوتا ہے، اس لیے اس عشرے میں عبادت کا زیادہ اہتمام کرنے اور راتوں کو قیام کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اللہ کے قریب ہونے موقع یہ عشرہ اللہ کے بندوں کو موقع فراہم کرتا ہے اس لئے اپنے گناہوں سے معافی مانگ کر اپنی بخشش کو یقینی بنالیں ۔ روزانہ کثرت سے استغفار پڑھیں نوافل ، تہجد اور دعا میں اضافہ کریں ۔ درود شریف اور قرآن پاک کی تلاوت کریں۔ اپنے دل کو صاف کریں اور دوسروں کو معاف کریں ۔ صدقہ و خیرات کریں، کیونکہ یہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔ اس ماہ مقدس میں ہر مسلمان حسب استطاعت روزہ داروں کو افطار کروا کر دوہرا اجر حاصل کر سکتا ہے، چنانچہ حضرت زید بن خالد جھنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ، جس نے کسی روزہ دار کو افطار کروایا، اس کو روزہ دار کے مثل اجر ملے گا اور روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ ہم لوگ بازاروں میں فضول وقت گزاری سے اجتناب کریں رمضان میں بازاروں میں گھوم پھر کر کپڑوں، جوتوں اور دیگر اشیاء کی خریداری میں قیمتی اوقات ضائع نہ کریں، ایسا کرتے ہیں تو اعمال صالحہ سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہم کو رمضان المبارک کی قدر کرنے اور اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرمائیں۔۔۔
